سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح17فیصد کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے‘ خواجہ ضرار کلیم

سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح17فیصد کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے‘ خواجہ ضرار ...

لاہور ( کامرس رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چےئرمین خواجہ ضرار کلیم نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح17فیصد کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اور ایکسپورٹ کے پانچوں سکیٹرز کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ یہ سکیٹرجی ایس پی پلس سٹیٹس کا صیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس سال سیلز ٹیکس کو 17فیصد سے کم کرکے15فیصد پر لایا جائے اور ہر بتدرتج کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں صرف0.9فیصد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور دنیا میں پاکستان کی جی ڈی پی میں ٹیکسوں کی شرح سب سے کم صرف 9فیصد ہے جس کو آئندہ 5سالوں میں بڑھا کر کم از کم 15فیصدپر لانا ہو گا۔ملکی وسائل کیلئے ہمیں اپنے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہو گا اور زراعت سمیت ہر منافع بخش سیکٹر پر ٹیکس عائد کرنا ہو گا۔سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈ کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کے ورکنگ کیپٹل سیلز ٹیکس کے ریفنڈ میں طویل عرصے کیلئے پھنس جاتے ہیں جس سے کمپنیوں کا کاروبار پھیلنے کے بجائے سکٹر رہا ہے۔اس وقت ایکسپورٹرز کے 110ارب روپے کے سیلز ٹیکس کے ریفنڈ ایف بی آر میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کمپنیوں کی مالی لیکوڈیٹی بری طرح متاثرہو رہی ہے۔

خواجہ ضرار کلیم نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے ٹیکس کے نظام میں یہ خامی ہے کہ اس میں بلاواسطہ ٹیکسوں کی شرح بالواسطہ کی شرح سے زیادہ ہے جبکہ دنیا میں ٹیکس نظام بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام سے نکلنا ہو گا کیونکہ یہ نظام انتہائی جابرانہ ہے۔ فیڈریشن نے ملک میں نئی سرمایہ کاری کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کے انکم ٹیکس کی شرح کومزید کم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ حکومت کی ٹیکس پالیسیاں ریونیو پیدا کرنے پرمبنی ہونی چاہئیں تاکہ ان پولیسوں سے ملک میں نئی سرمایہ کاری،صنعتکاری اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں جس سے حکومت کو خود بخود اضافی ریونیو حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ 30جون 2014تک 855429افراد نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کی جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ملک میں غربت میں کمی،ملازمتوں کے نئے مواقع اور صنعتکاروں کا عمل تیز کرنے کیلئے ہمیں جی ڈی پی گروتھ کو موجودہ 4% سے بڑھا کر مسلسل کئی سال7%تک لے کر جانا ہو گا جیسا کہ بھارت اور چین گزشتہ کئی سالوں سے اپنی جی ڈی پی گروتھ 7%سے زیادہ حاصل کر رہے ہیں۔ہمیں بھی اتنی گروتھ حاصل کرنے کیلئے ملک میں انرجی کا بحران اور امن وامان کی صورتحال پر جلد از جلد قابو پانا ہو گا۔

مزید : کامرس


loading...