کراچی پھر لہو لہو

کراچی پھر لہو لہو
کراچی پھر لہو لہو

  


ایک بار پھر دہشت گردوں نے کراچی شہر میں خونی کارروائی کر کے ملک بھر کے شہریوں کا سکون اور چین تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔شہر قائد کے شہریوں کو خون سے نہلا دیا گیا، دہشت گردوں نے اہلِ شہر قائد نہیں ،بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کو بھی ایک پھر غم سے نڈھال کر دیا ۔اخبارات چیخ چیخ کر دہشت گردوں کی لرزہ خیز واردات کی کہانی بیان کر رہے ہیں، دل ہلا دینے والی خون کے آنسو رلا دینے والی خبر جو اخبارات میں دنیا نے پڑھی ،کچھ اس طرح سے تھی کہ کراچی پھر لہو لہو ، دہشت گردوں نے بس میں گھس کر اسماعیلی برادری کے افراد کے سروں میں گولیاں ماریں اور پل بھر میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ دہشت گرد سر عام خون کی ہولی کھیلتے رہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ پاس ہی پولیس چوکی بھی موجود تھی ،جہاں یہ لر زہ خیز دل ہلا دینے والی واردات ہوئی ،خبریں جو اخبارات کی زینت بنیں، ان کی مزید تفصیلات میں درج تھا کہ دہشت گرد قریبی عمارت سے برآمد ہوئے ، دہشت گردوں میں سے ایک نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی ،تاہم خبروں کے مطابق تین سے چار موٹر سائیکلوں پر چھ سے زائد دہشت گرد وں نے بس رکوائی اور سب سے پہلے ڈرائیور کو یرغمال بنا کہ گولی مار دی،دو بچوں کو چھوڑ کر تمام افراد ،جن کی تعداد 44بتائی جا رہی ہے ،کو ہلاک کر دیا ۔ بہت سے افراد کی حالت ہسپتال میں تشویشناک ہے۔

پرنس کریم آغا خان نے اسماعیلی برادر ی کے افراد کی ہلاکت پر شدید احتجاج کیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ جنرل راحیل شریف فوراً کراچی پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ حملہ عالمی سازش ہو سکتا ہے ۔یہ دہشت گردی ایسے وقت میں ہوئی جب زمبابوے کی ٹیم سیریز کھیلنے کے لئے پاکستان آرہی ہے ۔ہمارے بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ مذکورہ دہشت گردی زمبابوے ٹیم کو پاکستان ٹیم آمد سے روکنے کے لئے ہے تاہم ٹیم پروگرام کے مطابق دورے پر آ رہی ہے۔

انتہائی دُکھ و افسوس بھرا واقعہ جس نے اہلِ کراچی کیا دنیا بھر کے انسانوں کو ہلا کے رکھ دیا۔ایسے نازک موقع پر عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کا وقت نہیں ،وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی عمران خان کو سیاسی سیز فائر کی پیشکش کر دی ،جو میدان سیاست میں اہم اور خوش آئند پیش رقت ہے ۔افسوسناک داقعہ نے سب کو کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا، اسی لئے یہ تمام سیاسی جماعتوں کے ایک ہونے کا وقت ہے ، تاکہ مل کر ملک کے دشمنوں سے لڑا جائے ۔ عسکری و سیاسی قیادت کا اہم اجلاس بھی ہوا ،جس میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو فیصلہ کن موڑ پر لانے کا عندیہ دیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم ایک آواز و ایک زبان ہے کہ حکومت جلد از جلد عوام کو دہشت گردوں کے ناسور سے مکمل نجات دلانے کے لئے ٹھوس و جامع اقدامات کرے ۔

دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قوم کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، لیکن پوری پاکستانی قوم ہمارے سیاستدانوں سے بھی یہ تقاضا کرتی نظر آرہی ہے کہ جس طرح سے تمام قوم دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے منظم و متحد نظر آتی ہے ،اسی طرح سے قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی متحد ہوں تاکہ کوئی بھی ہمارے ملک پر ناپاک و گندی نظریں ڈالنے کی کوشش کرے تو ہم سب مل کر اس دشمن کی آنکھیں نوچ لیں ،، جی ہاں نازک وقت ، مشکل حالات ،صبر ،اتحاد ، نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ ہم دشمن پر ماضی کی طرح فتح یاب ہو سکیں، بہرحال اب دیکھنا تو یہ ہے کہ حکومت دہشت گردوں کا سر کس قدر کچل سکے گی ۔ آیا حکومت عوام کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے نجات دلوا سکے گی یا نہیں ،یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے ، بہر حال ہماری کیا پوری قوم کی ہی یہ دعا ہے کہ حکومت جلد از جلد دہشت گردوں کا قلع قمع کر سکے ،تاکہ عوام سکھ و چین کا سانس لے سکیں ۔ اجازت چاہتے ہیں پیارے دوستو! آپ سے ملتے ہیں، جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے ،اللہ نگہبان رب راکھا۔ *

مزید : کالم


loading...