وفاقی وزیر ریلوے کی توجہ کے لئے

وفاقی وزیر ریلوے کی توجہ کے لئے

مکرمی!خانیوال سے ساہیوال، لاہور تک تقریباً 52 سال قبل مسافروں کی سہولت کے لئے جدید الیکٹرانک نظام متعارف کرایا گیا تھا جو کامیابی سے چلا، مگر تقریباً 15 سال پہلے یہ نظام ختم ہو گیا، اس نظام کی ناکامی کی کئی وجوہ تھیں، جن میں ریلوے کے اعلیٰ حکام ملوث تھے۔ اب جبکہ الیکٹرانک انجن بھی قبرستان پہنچ کر دفن ہو چکے ہیں اور بجلی کے کھمبوں پر لگی ہوئی کروڑوں روپے مالیت کی تاریں بھی عملے کی ملی بھگت سے چوری ہو چکی ہیں اور آٹے میں نمک کے برابر تاریں رہ گئی ہیں تو انہیں ریلوے کے عملے نے اپنی نگرانی میں اتار کر اپنی بے گناہی کا ثبوت دینے کی ناکام کوشش کی، تاہم ابھی تک بجلی کے کھمبے اس سیکشن پر لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے ابھی تک ان کھمبوں سے ٹکرا کر مسافروں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس الیکٹرانک نظام کے شروع ہونے سے بند ہونے تک سینکڑوں مسافر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے سے درخواست ہے کہ ان کھمبوں کو ہٹا کر ریلوے کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری طرف مسافروں کی زندگیاں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔ تاریں اتارنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

(پرنس عنایت علی خان، ساہیوال)

مزید : اداریہ


loading...