آزادی ء صحافت کی جدوجہد اور مارشل لاء دور کی تحریک

آزادی ء صحافت کی جدوجہد اور مارشل لاء دور کی تحریک
آزادی ء صحافت کی جدوجہد اور مارشل لاء دور کی تحریک

  


صحافی تنظیموں کی طرف سے جب بھی کوئی تقریب منعقد ہوتی یا کسی مظاہرے کا اہتمام کیا جاتا ہے تو عموماً مقررین آزادی صحافت کے حوالے سے کہتے ہیں۔۔۔ ’’یہ آزادی صحافت کسی نے تحفے میں نہیں دی، ہم نے چھین کر لی ہے‘‘۔۔۔ یہ بات کہہ دی جاتی ہے، لیکن ہماری نئی نسل کو قطعاً یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ آزادی چھیننے والی بات کیا ہے اور کیوں کہی گئی۔ قطع نظر اس امر کے کہ آج جو آزادی صحافت (ہم مادر پدر آزادی کے خلاف ہیں) ہے وہ وہی ہے جس کا ذکر کیا جاتا ہے یا پھر ہماری تنظیم پی ایف یو جے مطالبہ کرتی رہی ہے اصل بات یہ ہے کہ آج نوجوانوں کو صحافتی جدوجہد کی تاریخ ہی کا علم نہیں، بدقسمتی سے آج ہماری مایہ ناز تنظیم پی ایف یو جے کی جو حالت ہو گئی ہے اس کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ دل اچاٹ ہو چکا کہ یہ تو وہ سب کچھ نہیں جس کے لئے ہم نے دکھ اٹھائے اور قربانیاں دی تھیں۔

آزادی صحافت کی جدوجہد خود ایک بڑی تاریخ ہے جو بدقسمتی سے مرتب نہیں ہو پائی۔ خود ہم بھی اس کے لئے گناہ گار ہیں لیکن اب اتنا کچھ بگڑگیا کہ اس میں کچھ کہا بھی جائے تو اعتراضات کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ جستہ جستہ مضامین ضرور لکھے گئے اور اب برادرم احفاظ الرحمن نے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جس کی تقریب رونمائی آج (ہفتہ) کراچی الحمرا آرٹس کونسل میں ہو رہی ہے، یہ بھی صرف ایک تحریک پر مبنی ہے جو 1977-78ء میں چلی اور اس میں بے مثال جدوجہد کی گئی،حتیٰ کہ کارکنوں کو کوڑے لگے اور صحافیوں کے ساتھ مزدور تحریک کے حضرات کو بھی طویل قید کاٹنا پڑی۔ اسی میں بھوک ہڑتال کا بھی مسئلہ آیا جو اصلی تھی اور اس میں پانی نہ پینے کی وجہ سے ایک پیارا دوست الطاف ملک گردوں کے روگ میں مبتلا ہوا اور بعد میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔

پی ایف یو جے کی تاریخ، جدوجہد اور تحریکوں کے حوالے سے بہت کچھ کہا جانا چاہیے اور ہمارے نوجوانوں کو ایسی محافل منعقد کرنا چاہئیں جہاں وہ بچ جانے والے (زندہ) بزرگوں سے واقعات سن سکیں۔بہرحال احفاظ الرحمن نے اتنا تو کیا کہ 1977-78ء کے سخت اور ظالمانہ مارشل لاء کے دور میں چلائی جانے والی تحریک کی داستان کو قلمبند کر دیا، آج کی تقریب رونمائی کے بعد کتاب ملی تو پڑھنے کے بعد شاید اپنی اس کوتاہی کا ازالہ کر سکوں جو احفاظ کے اصرار کے باوجود ان کی کوئی مدد نہ کرنے سے ہوئی، فی الحال اس خط پر گزارہ کریں جو آج کے لئے احفاظ کو تحریر کیا۔

13مئی 2015ء

لاہور

برادرم احفاظ الرحمن

السلام علیکم! اللہ آپ کو صحت کاملہ عطا کرے۔

میں یہ خط لکھ کر پہلی بار آپ سے کیا گیا وعدہ پورا کررہا ہوں، ورنہ میں پہلے بھی ایک سے زیادہ بار معذرت کر چکا اور اب پھر معافی کا خواستگار ہوں کہ میں آپ کے بار بار اصرار کے باوجود پی ایف یو جے کی تحریک (1978) کے حوالے سے آپ کی کوئی مدد نہ کر سکا۔

میں اس پر شرمندہوں، باوجود اس حقیقت کے کہ میں نے 1963ء میں پیشہ صحافت اختیار کیا تو ساتھ ہی ٹریڈ یونین (پی یو جے) کا ایک ادنی کارکن بھی بن گیا۔ اس کے بعد کے جی مصطفےٰ سے منہاج برنا، نثار عثمانی، آئی ایچ راشد اور خود آپ کے ساتھ بھی عملی جدوجہد میں شریک رہا، قید و بند اور بے روزگاری کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پولیس کے ٹھڈے کھائے اور تپتی سڑکوں پر نعرے لگائے (1974ء کی تحریک میں میری ہمراز احسن اور اورنگ زیب کی نئی نئی دلہنیں بھی شامل رہیں)

یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ پی ایف یو جے کی کوئی ایسی تحریک نہیں جس میں میرا حصہ نہ ہو۔ بدقسمتی سے میں نمبر بتانے کے لئے نہ تو تصاویر رکھ سکا اور نہ ہی آگے بڑھ بڑھ کر اپنی ان خدمات کو بڑے کارنامے قرار دیتا رہا کہ میرے یقین کے مطابق میں نے جو بھی کیا اور جتنے بھی دکھ اٹھائے وہ سب فرض جان کر اٹھائے تھے، کسی پر کوئی احسان نہ کیا۔

پیارے بھائی!

میں آپ کی کوئی خدمت یوں نہ کر سکا کہ تاریخوں اور ایام کے یاد رکھنے میں گڑ بڑ ہوئی اور پی یو جے کا ریکارڈ ان حضرات نے ضائع کر دیا جو قبضہ گروپ کی صورت میں پریس کلب (دیال سنگھ مینشن مال روڈ لاہور) پر قابض ہو گئے تھے۔ اس کے لئے میں پھر آپ سے اور اپنے تمام صحافی دوستوں (سینئر اور نئے سمیت) سے بہت سی معذرت خواہ ہوں کہ یہ بھی ہمارا فرض تھا اور ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو اپنی انجمن کی تاریخی جدوجہد کی تاریخ منتقل کریں کہ وہ حالات سے کما حقہ آگاہ ہوں اور کمراہ نہ ہوں۔بہرحال آمدم برسر مطلب کسی نے سچ کہا کہ تحریکی جدوجہد کی تاریخ پر اگر کوئی کتاب مرتب کر سکتا ہے تو وہ احفاظ الرحمن ہے آپ نے اسے سچ کر دکھایا اور آج وہ مبارک دن (16مئی ہفتہ)ہے،جس روز آپ کی یہ محنت شاقہ ’’عظیم جنگ‘‘ کی شکل میں مرتب ہو کر سامنے آ رہی ہے۔ اگرچہ میں نے کتاب یا مسودہ نہیں دیکھا، لیکن آپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور تحریک میں شامل ایک کارکن ہونے کے ناتے مجھے یقین ہے کہ آپ نے پوری صحت کے ساتھ واقعات کو قلمبند کر دیا ہوگا اور آپ کی یہ کتاب آج کی نسل کے لئے مشعل راہ ہوگی۔

میں اس پر بھی معافی کا خواستگار ہوں کہ اپنی آنکھ کے آپریشن کے باعث دعوت مل جانے کے باوجود اس پروقار تقریب میں شریک نہیں ہو سکا۔ میں آپ کو اس کاوش کی تکمیل پر خود اپنی اور اپنے مخلص ساتھیوں کی طرف سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ کتاب کی اشاعت اور تقسیم کے بعد پڑھنے والوں کی طرف سے مزید حقائق کی نشاندہی کی گئی تو آپ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں شامل کر دیں گے۔ دوسرے معنوں میں ابھی سے ذہن بنا لیں کہ پھر وقت نہ ہو۔

آپ سے وقتاً فوقتاً ہونے والی بات چیت ہی سے مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ نے اپنی کتاب میں جہاں تحریک کے سب ساتھیوں کو یاد رکھا ہوگا وہاں آپ نے میرے بھائی اور دوست ولی محمد واجد اور محترم ریاض ملک (مرحومین) کو ضرور یاد کیا ہوگا، اسی طرح محترم منہاج برنا، نثار عثمانی، اور آئی ایچ راشد کا تفصیلی ذکر ہوگا تو بزرگ اے ٹی چودھری اور صفدر میر (زینو) بھی آپ کے گوشہ ذہن سے کتاب میں منتقل ہوئے ہوں گے۔

برادرم!

میں ایک بار پھر آپ کی محنت، کاوش اور لگن پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے اس بُرے دور میں جب وفاقی انجمن تباہ ہو چکی۔ خلوص کی جگہ مفاد پرستی نے لے لی اور ٹریڈیونین کی بجائے این جی اوز کا انداز اپنا لیا گیا آپ نے یہ کتاب لکھ کر کم از کم تاریخ کو محفوظ کیا کہ عزت سادات تو رہے۔ میں بہت مضطرب ہوں، یقین مانیں جو حال ہوا وہ دیکھا نہیں جاتا، کڑھتا ہوں اور کبھی کبھار کالم میں دل کے پھپھولے پھوڑ لیتا ہوں، بس اتنا ہی کافی ہے، پھر معذرت اور دوبارہ مبارکباد۔

نیازمند

چودھری خادم حسین

ادنیٰ کارکن

پی ایف یو جے

مزید : کالم


loading...