تصور

تصور
تصور

  


وقت کروٹ لے رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے دشمن مشترک ہیں،مگر دونوں کا تصورِ دشمن استعمار کی تحویل میں رہ کر بدل گیا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت کا حالیہ دورۂ افغانستان دونوں ممالک کی اندرونی بے چینیوں کی پیداوار تھا۔ دونوں ممالک اپنے اندرونی حالات میں خون تھوکتے نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ اندرونی حالات پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔جسے دونوں ممالک اپنی اپنی لغت سے نئے نئے الفاظ کے ذریعے نئی نئی تشریحات میں چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ افغانستان کی طرف سے دیکھئے! جہاں طالبان اب موسمِ بہار کے آغاز کی نئی جنگی مہم ’’آپریشن عزم‘‘ کے نام سے بپھری ہوئی کارروائیاں کر رہے ہیں اور اشرف غنی کی حکومت سانس تک نہیں لے پارہی۔ طالبان کے حالیہ حملوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اُن علاقوں میں زیادہ تر ہورہے ہیں، جن کی سرحدیں پاکستان سے نہیں ملتیں۔ اس طرح طالبان یہ ثابت کررہے ہیں کہ افغانستان میں وہ ہر جگہ موجود ہیں۔ اور کسی کے مرہونِ منت نہیں۔

افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں طالبان کے حالیہ حملے نے اُن کی دورس حکمت عملی کے کچھ مزید گوشوں کو نمایاں کیا ہے اورایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آخر کیوں دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت امریکا کے سامنے بھی ناقابلِ شکست ثابت ہوئے ہیں۔قندوز میں ضلع امام صاحب تک طالبان پہلے سے ہی قابض تھے۔ واضح رہے کہ طالبان کی پُرانی حیثیت میں وہ یہاں جن علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے تھے اُن میں ضلع امام صاحب کے علاوہ چہار درہ اور دشت آشی بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں صرف چہار درہ ہی وہ علاقہ ہے جس کی شناخت پختون آبادی کی ہے۔ یہاں طالبان کے لئے جنگی سامان کی رسد ایک مسئلہ ہے۔ پھر بھی طالبان نے یہاں کمال مہارت دکھائی ہے۔

تمام مغربی جنگی ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ طالبان کبھی بلا سوچے سمجھے کوئی جنگی محاذ نہیں کھولتے اورجن جنگی محاذوں کو وہ کھولتے ہیں اُس کے نہایت دور رس مقاصد ہوتے ہیں۔ پھر طالبان نے قندوز کو کیوں ہدف بنایا؟ دراصل طالبان اب ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ کے لئے ایک مکمل علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی حکمت ِ عملی مرتب کر رہے ہیں اور اس کے لئے وہ کچھ علاقوں کو متعین کر چکے ہیں، مگر اس سے پہلے وہ افغان فوج کو بہت سے دیگر علاقوں میں مستقل طور پر اُلجھانا چاہتے ہیں تاکہ منقسم افغان افواج اُن کے لئے کوئی بڑا چیلنج نہ رہے۔ قندوزپر حملہ اِسی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔قندوز کی حفاظت کے لئے اتحادی افواج نے مجموعی طور پر 24حفاظتی چوکیاں قائم کی تھیں جن میں سے طالبان نے سترہ پر قبضہ کر دکھایا۔اشرف غنی حکومت کے لئے قندوز پر حملے کی کچھ اور جہتیں بھی کافی پریشان کن ہیں ۔ طالبان تین اطراف سے حملہ آور ہوئے اور یہ ازبک ،تاجک اور چیچن طالبان کے الگ الگ حملے تھے۔ افغان افواج یہ سمجھ ہی نہیں پائیں کہ اُن پر یہ حملہ کس نے کیا ہے؟ طالبان نے اس حملے سے یہ ثابت کیا کہ اُن کی مزاحمت پشتون رنگ کے بجائے تمام لسانی شناخت کی حامل نسلی اکائیوں کی نمائندہ ہے۔اگر چہ پشتون قندوز کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے مگروہ آبادی کا ایک تہائی ہے۔ طالبان قبضے کے اِسی پھیلاؤ میں ایک تاریخی شہر گورتیپہ میں داخل ہو گئے۔شاندار تاریخی حوالے رکھنے والے اس علاقے میں بدھوں کی بہت پرانی قبریں بھی ہیں۔طالبا ن یہاں اس لئے حملہ آور ہیں، کیونکہ قندوز کے دارالحکومت گورتیپہ کے شمال میں نہ صرف ہرے بھرے شاندار علاقے ہیں بلکہ یہی وہ راستے ہیں جو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کی طرف آتی جاتی گزرگاہوں کو ملاتے ہیں۔افغان حکومت کے لئے یہ تصور ہی ہولناک ہے کہ اگر طالبان یہاں مستقل طور پر قابض ہو گئے تو وہ افغانستان کے کتنے بڑے حصے کو تزویراتی طور پر اپنی گرفت میں لے لیں گے۔ اگرچہ سب ہی جانتے ہیں کہ طالبان یہاں تادیر قیام کرنا نہیں چاہیں گے،کیونکہ یہاں رسد کا مسئلہ ہے پھر یہ ذرا دور کا ایسا علاقہ ہے، جو کہیں سے بھی پاکستانی سرحدوں سے نہیں ملتا، مگر افغان افواج کا دفاع اتنا کمزور ہے کہ طالبان کے لئے یہ علاقے ہتھیانا اور اس پر قبضہ برقرار رکھنا شاید کبھی بھی مشکل نہ ہو۔

قندوز کی اس مہم میں افغان افواج کی تمام کمزوریاں سامنے آگئی ہیں۔ افغان افواج کبھی بھی طالبان سے مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ طالبان کے حملہ آور ہوتے ہی افغان افواج نے مقابلے کے بجائے فرار کی راہ اختیار کی۔ افغانستان کی سیاسی حکومت کے دباؤ کے باعث جب اُنہیں صف آرا ہونا پڑا تو افغان فوج نے افغان پولیس کو آگے کی صف میں دھکیلا۔ اس نے فوج اور پولیس دونوں پر منفی اثرات مرتب کئے۔افغان حکومت کسی طرح بھی قندوز کا محاذ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، چنانچہ اشرف غنی نے اپنے دورۂ بھارت کو ایک دن التوا میں ڈالا اور دیگر صوبوں سمیت کابل سے افغان افواج کو کمک بھیجی۔ نیز اتحادی افواج کی طرف سے ڈرون اور ہیلی کاپٹرز بھی مدد کے لئے بھیجے گئے۔ اس سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لئے افغان حکومت کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔

افغان حکومت کوپسپائی کی یہی خبریں دوسرے صوبوں سے بھی مل رہی ہیں۔مثلاً صوبہ غزنی میں ضلع نادہ پر طالبان ایک بار پھر قابض ہو گئے ہیں، جس سے افغان افواج کو مزید دوتین علاقوں میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔افغان حکومت اس طرح کے حالات میں مکمل بے بسی کی تصویر بنتی جارہی ہے۔طالبان کی طرف سے 13مئی کو کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا گیا ہے، جس میں دو پاکستانیوں کے علاوہ امریکی اور بھارتی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ افغان حکومت کے لئے سبوتاژ کی یہ کارروائیاں بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہیں ہیں، مگر پھر بھی اس میں ایک راحت یہ ہوتی ہے کہ اس کانقصان علاقوں پر قبضے کی صورت میں مستقلاً نہیں ہوتا، مگر اب طالبان ایک حکمتِ عملی کے ساتھ باقاعدہ علاقوں پر قبضوں کی مہم میں مصروف نظر آتے ہیں،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان حکومت کے لئے خطرات کی گھنٹیاں زیادہ زور سے بجنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی جانتے ہیں کہ طالبان کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دی جاسکتی۔اور نہ ہی افغان افواج پر انحصار کر کے امن کا کوئی لمبا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لئے وہ طالبان سے نمٹنے کے لئے مذاکرات کوہی ایک بہتر اور قابلِ عمل راستا جانتے ہیں۔یوں بھی اشرف غنی کی حکومت کو امن کا انتداب (مینڈیٹ) ملا ہے۔ افغان صدر سمجھتے ہیں کہ طالبان کو مذاکرات کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے اور امن بھی مذاکرات کے راستے ہی مل سکے گا۔چنانچہ اشرف غنی کا یہ خیال ہے کہ امن کی کنجی اور مذاکرات کا ماحول دونوں ہی پاکستان سے مل سکیں گے۔

پاکستان کے لئے بھی کچھ اِسی نوع کی پریشانیاں ہیں۔افغانستان کے اندر جو کچھ طالبان کر رہے ہیں بھارت وہی کچھ پاکستان کے اندر کرنا چاہ رہا ہے۔ اس کے لئے بھارت نے افغان انٹلی جنس کے بعض حصوں کو اپنے حق میں ہموار کر لیا ہے اور پاکستانی طالبان کے اندر بھی ایک نفوذ حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان کے پاس اُن بھارتی مسلمانوں کے نام (یہ نام یہاں بوجوہ نہیں لکھے جارہے) موجود ہیں جو پاکستانی طالبان کے اندر رہ کربظاہر ایک بڑے اسلامی مقصد کی آڑ لیتے ہیں مگر عملاً وہ بھارتی حکومت کے خاکے میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ بھارت اپنے اس اثرورسوخ کو بہت گہرا کر چکا ہے اور وہ پاکستان کے تقریباً تمام صوبوں میں اب سبوتاژ کی کارروائیوں کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ بھارت نے اپنی اس صلاحیت کو علاقائی کھیل میں اپنے تزویراتی مقاصد کے ساتھ زیادہ گہرائی سے وابستہ کر لیا ہے۔ یہ ایک پورا موضوع ہے، جس کے ساتھ پھر کبھی انصاف کیا جائے گا، مگر اس کے مضمرات کا پوری طرح اندازا ہو جانے کے بعد ہی 5؍ مئی کو کور کمانڈرزکانفرنس میں اس کا باقاعدہ ذکر کیا گیا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پاکستان سے شریفین کے دورے سے قبل ایک حساس ادارے کے سربراہ نے کورکمانڈر اجلاس کے بعد افغانستان کی خاموش اڑان پہلے بھری تھی۔اس دوران کچھ پیغامات کے تبادلے اور بعض حوالوں سے ایک دوسرے کی بڑھتی مایوسی کے ازالے کے لئے افغان دورہ عجلت میں تیار کیا گیا۔

اگر بہت باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو شاید کور کمانڈر اجلاس کے علاوہ بہت بڑی سطح پر بھارتی مداخلت کا بار بار تذکرہ پاکستانی مقاصد کی راہ میں رکاؤٹیں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح بھارت اپنے خلاف کہیں اور ہونے والی کسی بھی کارروائی میں اِسے پاکستان کی طرف سے بآسانی انتقامی کارروائی باور کرانے کے قابل ہو جائے گا۔پاکستان اپنے ازلی دشمن سے ایک سبق یہ بھی حاصل کر سکتا ہے کہ سماجی رابطوں پر اپنی کامیابیوں کے ڈنکے بجانے کے بجائے سکوتِ حکیمانہ کو ترجیح دینی چاہئے۔ ہم نے بھارت کے خلاف اپنی کامیابیوں کے قصے زیادہ مشہور کر رکھے ہیں اور بھارت نے ہمارے خلاف کامیابیاں زیادہ جمع کر رکھی ہیں۔ خاموشی کی حکمتِ عملی سے یہ ترتیب بدلی بھی جا سکتی ہے۔پہلے مرحلے پر اور کچھ نہ کریں ، خاموشی سے ہی اپنے مشترکہ دشمن کا تصور ٹھیک کرلیں۔

مزید : کالم


loading...