’’را‘‘ کی کرکٹ ڈپلومیسی

’’را‘‘ کی کرکٹ ڈپلومیسی
’’را‘‘ کی کرکٹ ڈپلومیسی

  


پاکستان کے خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور داخلی معاملات میں ’’را‘‘ کی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد سے بھارت کو بار بار آگاہ کیا جاچکا ہے۔ اگر بھارت نے مداخلت اور پاکستان کو عدم استحکام کرنے کی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو پھر پاکستان بھرپور جواب دینا جانتا ہے۔

بھارتی مصنفین نے ’’را‘‘ کے متعلق جو کتابیں لکھی ہیں ان میں وہ بنگلہ دیش کے قیام کا کریڈٹ ’’را‘‘ کو دیتے ہیں جس نے ایک طویل منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کو دولخت کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ پاکستان میں قبائلی علاقوں ، بلوچستان اور کراچی میں بدامنی کی ذمہ داری بھی ’’را‘‘ پر ڈالی جاتی ہے۔ عرصہ سے اس کے متعلق زیرلب بیان بازی ہوتی رہی ہے مگر کچھ عرصہ سے تواتر کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی ذمہ داری کھل کر’’را‘‘ پر ڈالی جاتی ہے۔

چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ ڈپلومیسی شروع کرنے کااعلان کیا تھا۔ اس کا سادہ سا تو مطلب یہ لیا گیا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت میں کرکٹ سیریز کا آغاز ہوگا۔مگر اس اعلان کے ساتھ پاکستان میں ’’را‘‘ کی کارروائیوں میں اضافہ ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم چین اور پاکستان کے تعلقات سے خوش نہیں ہیں۔ چینی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان اور اقتصادی تعاون کے منصوبوں کے اعلان سے بھارتی ایوانوں میں باقاعدہ صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور اب خبر آئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم دوستانہ میچ کھیلنے کیلئے چین پہنچ گئے ۔ وہاں وہ چین کے ساتھ 10ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے بھی کریں گے۔ چین میں کرکٹ سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں۔ تاہم کرکٹ ڈپلومیسی نے برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ضیاء الحق کرکٹ میچ دیکھنے جے پور چلے گئے تھے اور آتے ہوئے راجیو کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دے آئے تھے۔ منموہن سنگھ نے یوسف رضاگیلانی کو کرکٹ میچ میں مدعو کرکے پاک بھارت بہتر تعلقات کا تأثر دینے کی کوشش کی تھی۔ 

نریندر مودی اپنی خطرناک حرکات کی وجہ سے دنیابھر میں مشہور رہے ہیں۔ امریکہ نے ان کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نریندرمودی سے یہ پابندی ہٹالی گئی ہے۔ہوسکتا ہے کہ نریندرمودی چینی حکمرانوں کو کرکٹ ٹیم بنانے کا مشورہ دینے گئے ہوں اور اس سلسلے میں انہوں نے بھارتی انسٹرکٹروں کی خدمات کی فراہمی کی پیش کش کی ہو،مگر چینی حکمرانوں کی دانش کی ایک دنیا معترف ہے وہ بھارت اور بھارتی حکمرانوں کو خوب سمجھتے ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی حکمران کون سی زبان سمجھتے ہیں۔ اگر چینیوں نے کرکٹ ٹیکنالوجی حاصل کرنا ہو گی توغالب امکان یہ ہے کہ وہ بھارت کی بجائے پاکستان کو ترجیح دیں گے۔ نریندر مودی کو پاکستان میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری خاصی کھٹک رہی ہے کیونکہ اس سے یہاں پاکستان کی معیشت کے بہتر ہونے کا امکان ہے وہاں جب چین پاکستانی اکنامک راہداری کو اپنی درآمدات اور برامدات کے لئے استعمال کرے گا تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس خطے میں امن قائم ہو۔

پاکستان کی خواہش ہے کہ یہاں بھارتی کرکٹ ٹیم میچ کھیلنے آئے، مگر ’’را‘‘ کی ٹیم یہاں سے رخصت ہو جائے۔ ایسی ہی خواہش چین کی بھی ہے۔ وہ اس خطے میں امن چاہتا ہے۔اس لئے ’’را‘‘ کی ٹیم پاکستان ہی نہیں چین کو بھی سخت ناپسند ہے۔ اور امید کی جاسکتی ہے کہ نریندرمودی چین سے نامراد ہی واپس لوٹیں گے۔کیونکہ چینی حکمران صبر اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں اور ان فیصلوں کو عملی جامہ بھی پہناتے ہیں۔ اس لئے کم از کم یہ ضرور کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان کے معاملے میں نریندرمودی کو مایوسی کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے بھارت کو چین اور پاکستان کے خلاف امریکہ سے حمایت حاصل ہوجائے۔جس طرح اوباما نے اپنے گزشتہ دورہ بھارت کے دوران نریندر مودی سے محبت کا اظہار کیا تھا اس سے وہ امریکہ سے ایسی توقعات بھی وابستہ کرسکتے ہیں جن پر امریکہ نے قانونی طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ایسامحسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی پاکستان میں کرکٹ ٹیم بھجوانا چاہتے تھے مگر غلطی سے ’’را‘‘ کے سینئر افسروں نے اپنی ٹیم بھجوا دی ہے۔ ویسے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مودی بھجوانا ’’را‘‘ کی ٹیم ہی چاہتے ہوں لیکن ڈپلومیسی کی زبان میں انہوں نے ’’را‘‘ کی ٹیم کو کرکٹ ٹیم قرار دے دیاہو۔ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستانی سیکرٹری خارجہ کے بیان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’را‘‘ دہشت گرد حملوں میں ملوث نہیں۔ ان کے اس بیان سے 1970ء کے بھارتی حکام کے بیانات کی یاد تازہ ہو گئی ہے جو اصرار کرتے تھے کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں، مگر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ اس انکار شدہ مداخلت کو کارنامہ قرار دیتے رہے ۔ اپنے پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت کو بھارت برا نہیں سمجھتا اور اس کے تقریبا تمام پڑوسی ممالک پر شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ بھارت ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے شوق میں مبتلا ہے ۔ بھارت نے حال ہی میں اپنے دفاعی بجٹ میں جو غیر معمولی اضافہ کیا ہے اس کے متعلق باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس کا بڑا حصہ ’’را‘‘ کے ذریعے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

دنیا میں انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی تاریخ بہت قدیم ہے مگر اس پر بھی بے شمار لوگ اتفاق کرتے ہیں کہ انٹیلی جنس ادارے انتشار تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر امن کی فضا پیدا کرنے کی صلاحیت ان میں مفقود ہوتی ہے ۔ بھارت ’’را‘‘ کو سی آئی اے جیسی تنظیم بنانا چاہتا ہے،کیونکہ اب بھارتی حکمران اپنے مقاصد کو عالمی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ عالمی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔ کوئی ایسا کردار جو اس کے بالا دستی کے خوابوں کو پورا کر سکے، مگر بھارت کو امریکی تاریخ سے یہ درس سیکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکی عظمت سی آئی اے کے کردار کی مرہون منت نہیں ہے ۔ نریندرمودی کو کرکٹ ڈپلومیسی کے لئے ’’را‘‘ کو استعمال کرنے کی بجائے کھلاڑیوں کو دوستانہ میچ کھیلنے کا موقع دینا ہو گا۔ *

مزید : کالم


loading...