بر طا نوی انتخابا ت

بر طا نوی انتخابا ت
بر طا نوی انتخابا ت

  


برطا نوی انتخا با ت یو رپ اور امریکہ کے ساتھ ساتھ دُنیا کے دیگر خطوں کے لئے بھی ایک خا ص اہمیت رکھتے ہیں۔خود پا کستان کے لئے بھی نہ صرف تاریخی اعتبار سے، بلکہ حالیہ ادوار میں بھی برطا نوی انتخابات کی اہمیت اس لئے بھی خاص ہوتی ہے، کیو نکہ برطانوی انتخابات میں پا کستانی نژ اد نہ صرف حصہ لیتے ہیں، بلکہ برطا نیہ کی بڑی جما عتوں کی پالیسی سازی کی تشکیل میں بھی ان کا کردار خاصا اہم ہوتا ہے۔اس بار بھی 10 پاکستانی، برطانوی ایوان زیریں (ہا ؤس آف کا منز) کے لئے منتخب ہو ئے۔حالیہ برطا نوی انتخا بات کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ تھی، کیو نکہ اس مرتبہ برطانوی انتخابات میں یورپی یونین کا رکن رہنے یا نہ رہنے اور اس حوالے سے یوکے انڈیپنڈنٹ پارٹی (UKIP)کی کا رکر دگی ،مستقبل میں سکا ٹ لینڈ کے بر طا نیہ کے ساتھ شامل رہنے یا نہ رہنے اور اس حوالے سے سکاٹش نیشنل پارٹی کی کارکردگی، برطانیہ میں فلاح و بہبود کے لئے مختص ریا ستی بجٹ میں کٹوتیاں کرنے یا نہ کرنے جیسے امور انتخا بی مہم میں چھائے رہے، جبکہ دیگر انتخابی ایشوز کی حیثیت ضمنی نوعیت کی تھی۔

برطانوی انتخابات کا دلچسپ ترین پہلو یہ تھا کہ انتخابا ت کے حوالے سے لگا ئے گئے تمام تخمینے اور تجزیئے نا کا م رہے۔تمام برطا نوی اخبا رات اور نیوز چینل 7مئی تک یہی دعو یٰ کر رہے تھے کہ ان انتخابات میں کو ئی بھی جما عت اپنے بل پر اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہے گی۔بی بی سی جیسا پرانا اور معتبر سمجھا جا نے والا ادارہ بھی یہی دعویٰ کررہا تھا،جبکہ سیا سی جما عتوں کی انتخابی کارکردگی کے حوالے سے بھی تمام تخمینے اور تجز یے غلط ثابت ہوئے۔ یو کے انڈیپنڈنٹ پا رٹی کے حوالے سے یہی تجز یئے کئے جا رہے تھے کہ اس مرتبہ یہ برطا نوی قوم پر ست جما عت پہلے کے مقا بلے میں اچھی کا رکردگی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے 20سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں کا میاب رہے گی،مگر یہ برطا نوی قوم پرست جما عت 650نشستوں میں سے صرف ایک نشست حاصل کرنے میں ہی کامیاب رہی۔برطانوی سیا ست سے آشنا سیا سی پنڈت اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے کہ یوکے انڈ یپنڈنٹ پا رٹی برطا نیہ کی یو رپی یونین میں شمولیت کے باعث جن نقصا نا ت کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا ئے ہو ئے ہے، لگ بھگ اسی طرح کا موقف کنزرویٹو پا رٹی اور ڈیوڈ کیمرون بھی اپنا ئے ہوئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمر ون نے تو یہ اعلان بھی کیا کہ 2017ء میں یورپی یونین میں برطانیہ کی شمولیت کو جا ری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے ریفرنڈم کروایا جا ئے گا۔ اس مرتبہ کنز رویٹو پا رٹی کے منشور میں واضح انداز سے یو رپی یو نین کو ایک بیورو کریٹک اور ایک حد تک غیر جمہو ری قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس پا رٹی کے منشور میں یہ موقف بھی اپنا یا گیا تھا کہ یورپی یو نین کا حصہ ہونے کے با عث مشرقی یو رپ سے ہزاروں کی تعداد میں جو تارکین وطن برطا نیہ میں روزگا ر کے لئے آرہے ہیں، ان کے با عث بر طانیہ کے مقا می افراد کے لئے روزگا ر کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تجز یہ نگاروں کے مطا بق کنزرویٹو پا رٹی نے یو رپی یو نین کے خلاف واضح موقف اس لئے اختیا ر کیا تھا تا کہ یو کے انڈیپنڈنٹ پا رٹی یو رپی یو نین اور قوم پر ستی کے ایشو کو استعمال کرکے دائیں با زو کے روایتی ووٹروں کے، جو کنزرویٹو پارٹی کا حلقہ تصور کئے جا تے ہیں،ووٹ ہی نہ ہتھیا لے۔ کنز رویٹو پا رٹی کی اس حکمت عملی کا اس کو بھرپور فائدہ ہوا،جبکہ یو کے انڈ یپنڈنٹ پا رٹی بری طرح سے ناکام رہی۔

ان انتخا با ت میں سکا ٹش نیشنل پا رٹی کی زبر دست کامیا بی بھی توجہ طلب ہے۔سکا ٹ لینڈ کی 59نشستوں میں سے 56نشستیں حاصل کے سکا ٹش نیشنل پا رٹی نے بر طا نو ی سیا ست کے ما ہر تجزیہ نگا روں کو بھی حیر ت زدہ کر دیا۔اس سے پہلے لیبر پا رٹی لگ بھگ ایک صدی تک سکاٹ لینڈ کی اہم سیا سی قوت تصور کی جا تی تھی۔ سکا ٹ لینڈ میں ہی لیبر پا رٹی کا جنم ہوا۔ لیبر پا رٹی کو کئی اہم سیا سی رہنما بھی سکاٹ لینڈ سے ہی ملے،مگر اب اس پا رٹی کا سکا ٹ لینڈ سے تقر یباً صفا یا ہو گیا ہے۔سکاٹش نیشنل پا رٹی کی اتنی بڑی کا میا بی کی اہمیت اس لئے بھی زیا دہ ہے کہ سکاٹش نیشنل پا رٹی سکا ٹ لینڈ کی آزادی کی علمبردار ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں ہو نے والے ریفرنڈم میں اس پا رٹی کے زیر اثر 45فیصدسکا ٹش رائے دہندگان نے یہ رائے دی تھی کہ وہ بر طا نیہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔اب مئی 2015ء کے انتخابات میں اس جماعت کی مکمل کا میا بی کے بعد کیا برطانیہ سکا ٹ لینڈ کو اپنے ساتھ رکھ پا ئے گا؟ اگلے سال مئی میں سکا ٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کے لئے انتخا با ت بھی ہو رہے ہیں اور یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کے انتخابا ت میں سکا ٹش نیشنل پارٹی بھر پور کامیابی حاصل کرے گی۔ کنزرویٹو پارٹی اور وزیراعظم کیمرون کے لئے سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کا مسئلہ ایک بہت بڑی آزمائش ثابت ہو گا۔

برطانوی حکمران طبقات کے لئے سکاٹ لینڈ اور ویلز کی آزادی کو ہضم کرنااس لئے مشکل ہے کہ ایسا کرنے سے برطا نیہ کے شمال اور مغرب میں برطانیہ مخالف قوتیں سکاٹ لینڈ اور ویلز کو اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں، اسی طرح آئر لینڈ کے آزاد ہو نے کی صورت میں بر طانیہ کے لئے یہ خطرہ مو جود رہے گا کہ برطانیہ مخالف قوتیں بحری اعتبار سے برطانیہ کے لئے مسائل کھڑے کرتی رہیں، اس لئے ظاہری طور پر برطانوی حکمران طبقات جو بھی مو قف اختیا ر کریں، مگر حقیقت یہی ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت میں سکاٹ لینڈ یا آئر لینڈ کی مکمل آزادی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ کئی تجز یہ نگا روں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سکا ٹ لینڈ میں سکاٹش نیشنل پا رٹی کی زبر دست کامیا بی میں صرف آزادی کی خواہش کا ہی عامل موجود نہیں، بلکہ اس کا میا بی میں دیگر کئی عوامل بھی کا ر فرما ہیں۔اس کی سب سے بڑی مثال لیبر پا رٹی کی سیاست ہے ۔برطا نیہ معروض میں لیبر پا رٹی روایتی طور پر متوسط طبقات اور زیریں متوسط طبقات کے حقوق کی علمبردار تصور کی جا تی رہی ہے، مگر ٹونی بلیئر کے دور سے لیبر پا رٹی میں جس ’’ نیو لیبر‘‘تصور کو پروان چڑھایا گیا،اس کے بعد سے یہ جما عت اپنے حلقۂ انتخاب سے محروم ہو تی چلی گئی۔

برطانیہ کی خراب معا شی صورت حال کے با عث کنزرویٹو پا رٹی نے جب برطا نیہ میں عام لوگوں کی ویلفیئر کے لئے مختص بجٹ اور رقوم میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنا شروع کر دی توایک محتاط اندازے کے مطابق ویلفیئر کے لئے مختص 12ارب یورو کی خطیر رقم کی کٹوتی کر دی گئی۔ اب اصولی طور پر بائیں بازو اور زیریں طبقات کی سیاسی جماعت ہونے کا دعوی کرنے والی لیبر پا رٹی کو اس کٹو تی کی مخالفت کرنا چا ہئے تھی، مگر مخالفت تو درکنا ر لیبر پا رٹی نے اپنے منشور میں واضح طور پر یہ موقف اپنا یا کہ وہ ویلفیئر کے لئے مختص رقوم میں مز ید کٹو تیوں کے حق میں ہے، مگر یہاں پر سکاٹش نیشنل پارٹی نے ان کٹو تیوں کی بھر پو ر مخالفت کی اور مو قف اختیا ر کیا کہ بر طانوی حکومت کو عام افراد کے لئے مختص رقوم میں کٹو تیاں کرنے کی بجا ئے حکومتی اخراجا ت میں کمی کرنی چا ہئے۔اس موقف کو سکا ٹ لینڈ کے ان حلقوں میں بہت سراہا گیا، جو کبھی لیبر پا رٹی کا گڑھ تصور کئے جا تے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لیبر پارٹی کے اپنے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنے کی پالیسی کا سکاٹش نیشنل پا رٹی نے بھرپو ر فا ئدہ اٹھا یا اور ما ضی میں لیبر پا رٹی کے گڑھ سکاٹ لینڈ سے مکمل کا میا بی حاصل کر لی۔

گز شتہ کئی عشروں سے بر طانوی انتخابا ت کے طریقہ کار (first-past-the-post) پر کئی حلقوں کی جانب سے زبر دست تنقید کی جاتی رہی ہے۔اس طریقہ کا ر کے مطابق کسی حلقے میں سب سے زیا دہ ووٹ حاصل کرنے والا امیداوار کا میاب قرار دیا جا تا ہے، جبکہ اس بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جا تا ہے کہ دیگر سیاسی جما عتوں کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کا تنا سب کیا رہا۔اس نظام کے باعث دیگر جما عتیں ووٹوں کا اچھا بھلا تنا سب حا صل کرنے کے با وجود ایوان میں نما ئند گی سے محروم رہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یو رپ کے کئی ممالک میں اِس مسئلے کے پیش نظر متنا سب نما ئند گی کا نظام اپنا یا گیا ہے۔ حالیہ بر طانوی انتخابات کو ہی دیکھا جا ئے تو اس انتخابی طریقۂ کار کی کئی خامیاں سامنے آ جاتی ہیں، جیسے یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی ووٹوں کے حصول کے اعتبا ر سے تیسرے نمبر پر رہی ۔ اس نے40 لاکھ (12فیصد)ووٹ حاصل کئے، مگر صرف ایک نشست حاصل کر پا ئی۔ اسی طر ح گرینز پا رٹی 10لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ایوان میں صرف ایک نشست حاصل کر پائی۔ کنزروٹیو پارٹی 36.9فیصد ووٹ لے کر 331نشستوں پر اور لیبر پارٹی 30.4 ووٹ حاصل کرکے 232نشستوں پر براجمان ہو گئیں۔ اگر متناسب نظام ہو تا تو یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی 82اور گرینز 24نشستیں حاصل کر لیتی۔المیہ تو یہ ہے کہ بر طانیہ کے زیر اثر پا کستان ، بھا رت اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے بھی first-past-the- post کا وہی نظام رائج کیا ہوا ہے، جس نظام پر خود بر طانیہ میں سخت تنقید کی جاتی ہے۔اگر تحقیق کی جائے تو ثابت ہو گا کہ ان ممالک میں بھی بہت سی سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ووٹوں کا اچھا بھلا تنا سب حا صل کرنے کے با وجود اس نظام کے باعث ایوان میں نما ئندگی حاصل کرنے میں کامیا ب نہیں ہو پاتیں۔ یو ں لاکھوں ووٹر ایوان میں نمائندگی سے محروم رہتے ہیں۔ *

مزید : کالم


loading...