رمضان المبارک میں آٹے پر ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی

رمضان المبارک میں آٹے پر ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی

حکومتِ پنجاب رمضان المبارک میں سستے آٹے کی فراہمی پر ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی دے گی، سبسڈی کے بعد اوپن مارکیٹ میں20کلو آٹے کا تھیلا90روپے، جبکہ رمضان بازاروں میں130روپے کم قیمت میں ملے گا، وزیراعلیٰ نے رمضان پیکیج کی منظوری سول سیکرٹریٹ میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں دی، جس کے تحت چینی، دالیں، گھی، سبزیاں اور پھل رعائتی نرخوں پر دستیاب ہوں گے۔ پورے صوبے میں318 سستے رمضان بازار لگائے جائیں گے، جبکہ17ماڈل بازار بھی سستے رمضان بازاوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

پنجاب کی حکومت ہر سال رمضان پیکیج کے تحت سبسڈی کا اعلان کرتی ہے۔ اس سال صرف آٹے پر ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے، جو معقول رقم ہے اور اگر اس سے غریب لوگوں کو اچھی طرح مستفید ہونے کا موقع ملے تو وہ رمضان المباک میں بڑی حد تک ریلیف محسوس کر سکتے ہیں، لیکن ماضی کا تجربہ شاہد ہے کہ حکومت غربا کے لئے جس ریلیف کا اعلان کرتی ہے اس سے معاشرے کے مختلف طبقات فائدہ اٹھانے نکل پڑتے ہیں، چھوٹے درجے کے سرکاری ملازمین، جن کے ذمے سستے بازاروں کی نگرانی ہوتی ہے وہ بھی کسی نہ کسی انداز میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں،انتظامی افسران بھی بہتی گنگامیں ہاتھ دھونے سے گریز نہیں کرتے ، غریب طبقات بھی سستے آٹے کے لالچ میں اپنی ضرورت سے زیادہ آٹا خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سیلز پوائنٹ پر خریداروں کا ہجوم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات پولیس کی خدمات بھی حاصل کرنا پڑتی ہیں، جو ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ان پر لاٹھی چارج بھی کر دیتی ہے۔ اس طرح سستے آٹے کی خریداری کے لئے آئے ہوئے لوگ زخم کھا کر واپس جاتے ہیں، تو حکومت کی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ حکومت جو نیک نامی سبسڈی دے کر کمانا چاہتی ہے اس کے بدلے میں اُسے بدنامی ملتی ہے۔حکومت کے ذمے دار افسروں کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو رمضان بازار لگائے جاتے ہیں وہاں خرید و فروخت خوش اسلوبی کے ساتھ ہو، دکاندار ناجائز منافع خوری سے گریز کریں اور خریدار بھی صرف اپنی ضرورت کے مطابق اشیا خریدیں۔ صاحب ثروت حضرات جو مہنگی اشیا خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں افطاریوں پر بیک وقت ہزاروں روپے خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اُنہیں چاہئے کہ وہ سستے بازاروں کا رُخ نہ کریں اور سبسڈی سے مستفید ہونے سے گریز کریں، جو صرف غریب اور ضرورت مند افراد کا حق ہے اور انہی کو پیش نظر رکھ کر حکومت رمضان پیکیج شروع کرتی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے جس پیکیج کا اعلان کیا ہے اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...