دہشت گردی میں بھات کے ملوث ہونے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے

دہشت گردی میں بھات کے ملوث ہونے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور داخلی معاملات میں بھارتی خفیہ ادارے’’را‘‘ کی مداخلت کے ناقابلِ تردید شواہد سے بھارت کو بار بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔ اگر بھارت نے مداخلت اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو پھر پاکستان بھرپور جواب دینا جانتا ہے۔ یہ بات سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی بھارت کو فراہم کئے جا چکے ہیں اور مختلف سطحوں کی ملاقاتوں میں بھی تسلسل کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا ہے ہم اس ضمن میں بھارت کی جانب سے مثبت اقدام کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں کی ہے یہ جنگ جاری ہے ابھی دہشت گردوں کے کچھ گروہ باقی ہیں جو اپنی بقا کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی انہی بچے کھچے گروہوں کا کام ہے، جن کو ختم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں پاکستان گزشتہ پندرہ سال سے دہشت گردی کا شکار ہے۔

یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ’’را‘‘ کے بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس سلسلے میں ثبوت بھی مہیا کئے تھے۔ صوبہ بلوچستان کی سرحد چمن میں افغانستان کے ساتھ ملتی ہے، بھارت نے افغانستان میں جو قونصل خانے کھول رکھے ہیں وہ سرحدی علاقوں کے قریب ہیں اور ان قونصل خانوں میں کور پوسٹوں پر کام کرنے والے بھارتی انٹیلی جنس کے افسر بلوچستان میں تخریب کاری کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہ بات تو سامنے نہیں آئی کہ شرم الشیخ (مصر) میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ دہشت گردی کا جو معاملہ اٹھایا گیا تھا اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ لیکن اب سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت فراہم کر دیئے گئے ہیں، بھارت نے تو اس بات کی تردید کر دی ہے کہ وہ کراچی یا پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، لیکن اب پاکستان کا فرض ہے کہ وہ بھارت کے ملوث ہونے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے۔

ممبئی میں دہشت گردی کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے اس معاملے میں پاکستان کو ملوث کرنا شروع کردیا تھا اور آج تک آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ پاکستان نے بھارت سے بار بار ثبوت طلب کئے ہیں، لیکن یہ اب تک فراہم نہیں کئے گئے، اس سلسلے میں ذکی الرحمن لکھوی کا نام تواتر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ پاکستان کی عدالتوں میں ذکی الرحمن لکھوی پر جب بھی کوئی مقدمہ چلایا گیا، عدالت میں ثبوت پیش نہ کئے جا سکے، چنانچہ عدالتوں میں انہیں متعدد مقدمات میں ر ہائی مل گئی۔ ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر بھی بھارت نے بہت شور مچایا اور پاکستان کے عدالتی نظام کو ہدفِ تنقید بنایا۔ یہاں ذکی الرحمن لکھوی پر جب کوئی مقدمہ ثابت نہ ہو سکا، تو انہیں نظر بند کر دیا گیا، لیکن اس نظر بندی میں بھی جب قواعد کو ملحوظ نہ رکھا گیا تو عدالت سے یہ نظر بندی بھی ختم ہو گئی، اس پر بھی بھارت سیخ پا ہو گیا اس نے اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کو بھی اس سلسلے میں خط لکھ دیا اس کے برعکس پاکستان نے اب تک دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ کے ثبوت ملنے کے باوجود یہ معاملہ کسی عالمی فورم پر نہیں اٹھایا، باہمی ملاقاتوں میں مختلف سطحوں پر یہ معاملہ اگر اٹھایا بھی گیا ہے تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور دہشت گردی جاری ہے ۔یہ ضروری ہے کہ عالمی فورموں پر جہاں دہشت گردی کا معاملہ زیر بحث آتا ہے، وہاں یہ مسئلہ پوری شدت سے اٹھایا جائے اور دُنیا کو اس جانب متوجہ کیا جائے کہ پاکستان دہشت گردی کے جس عذاب سے دوچار ہے اس کے شعلوں کو بھارت ہوا دے رہا ہے۔

چند روز قبل وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا کہ بھارت کو افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کرنے دی جائے، دونوں ملکوں نے یہ عہد بھی کیا تھا کہ پاکستان کا دشمن افغانستان کا دشمن ہے اور افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ اب یہ بھی ضروری ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کر سکے، اس سلسلے میں افغان حکام کو اپنے مُلک کے اندر بھارتی حکومت کے کارندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جس نے ترقیاتی کاموں میں معاونت کے نام پر افغانستان میں اپنے اثرورسوخ کا دائرہ بہت پھیلا لیا ہے۔ افغان طلبا کو بھارتی یونیورسٹیوں میں تعلیم کی سہولتیں اور وظائف دیئے جاتے ہیں اور پھر ان طلباء کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال اگر اب افغانستان میں حالات تبدیل ہوئے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی پر نظر رکھی جائے۔پاکستان میں دہشت گردی میں مقامی لوگوں کو ہی کسی نہ کسی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ملیر کراچی کے ایس ایس پی راؤ انوار نے جنہیں اب سانحہ صفورا چورنگی کی تفتیش کی ذمے داری بھی سونپی گئی ہے، پہلے بھی انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جن گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کی ہے انہوں نے بھارت میں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ اگر بس پر حملے میں ملوث لوگوں کے ڈانڈے بھی بھارت سے ملتے ہیں اور یہ ثابت ہوجاتا ہے، تو پھر بھارت کے ساتھ یہ معاملہ کس طرح اُٹھایا جاتا ہے۔ عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں سے رجوع کئے بغیر یہ معاملہ بظاہر حل ہونا مشکل ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے سے دوست ملکوں سمیت عالمی طاقتوں کو بھی آگاہ کرے اور اقوام متحدہ کو بھی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کئے جائیں۔

مزید : اداریہ


loading...