داعش کی ایک جنگجو خاتون نے نکاح نامے میں عجیب و غریب شرط رکھ دی

داعش کی ایک جنگجو خاتون نے نکاح نامے میں عجیب و غریب شرط رکھ دی

 دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے مرد جنگجو مخالفین کی گردنیں کاٹنے کے لئے خصوصی شہرت رکھتے ہیں اور اس تنظیم کی خواتین بھی تشدد پسندی میں اپنے مرد ساتھیوں سے پیچھے نظر نہیں آتیں۔اخبار ’’دی انڈیپنڈنٹ‘‘ نے داعش کی ایک جنگجو خاتون کے نکاح نامے میں موجود عجیب و غریب شرط کا انکشاف کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگجوؤں کی دلہنیں تشدد پسندی میں اپنے مردوں سے کہیں آگے ہیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی نکاح نامے کی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنگجو دلہن نے نکاح کی ایک ہی شرط رکھی ہے کہ اسے اس کا خاوند خودکش حملہ آور بننے سے منع نہیں کرے گا۔ شرط میں کہا گیا ہے کہ اگر داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی خاتون کی خود کش حملہ آور بننے کی درخواست قبول کرتے ہیں تو اس کا خاوند اسے خود کش مشن پر جانے سے منع نہیں کرے گا۔ اس شرط کے نیچے دولہا اور دلہن دونوں کے دستخط موجود ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ نکاح نامے کی دستاویز پہلی دفعہ الرائی میڈیا کے چیف انٹرنیشنل کورسپونڈنٹ ایلیاہ ماگنیئر سامنے لائے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگجو دلہن غالباً کمسن ہے اور اسے اس حد تک گمراہ کیا گیا ہے کہ وہ بے گناہ انسانوں کے قتل کو نیک کام سمجھ رہی ہے اور اس کی اجازت کو نکاح نامے میں شرط کے طور پر بھی لکھوادیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...