خیبر پختونخوا میں 60فیصد جرائم پر قابو پالیا ‘ پاکستان کی ترقی کیلئے صحت اور تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا ہو گا ‘ عمران خان

خیبر پختونخوا میں 60فیصد جرائم پر قابو پالیا ‘ پاکستان کی ترقی کیلئے صحت اور ...

 ملتان (خصوصی رپورٹر، سٹاف رپورٹر، سٹی رپورٹر ) تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 125کے بعد این اے 122کی وکٹ بھی گرنے والی ہے 2015نئے پاکستان کا سال ہے ملتان کی عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھیں اور 21مئی کو شریفوں کی بادشاہت قبول نہ کرنے کا اعلان کریں ملتان میں ضمنی الیکشن صرف ایک سیٹ کا نہیں ن لیگ کی حکومت کے خلاف اس بات کا احتجاج ہے کہ انہوں نے عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کیے اب ملک میں حقیقی جمہوریت اور ووٹ کی پرچی کے ذریعے نہ صرف تبدیلی آئے گی بلکہ تبدیلی آچکی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈویژنل سپورٹس گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے بڑے جلسہ عام سے خطاب میں کیا جس سے مخدوم شاہ محمود قریشی ، اسد عمرخان ، شیخ رشید احمد ، اعجاز چوہدری ، رانا عبدا لجبار نے خطاب کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ 21مئی کا ضمنی الیکشن صرف رانا عبد الجبار کا نہیں بلکہ نئے پاکستان کے قیام کا الیکشن ہے شاہ محمود قریشی نے ٹھیک کہا ہے کہ 1970ء سے دو جماعتوں کی باریاں لگی ہوئی ہیں یہ عوام سے جو وعدے کرتے ہیں وہ پورے نہیں کرتے اصل میں یہ دو سوچوں کا مقابلہ ہے ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جنہوں نے خود جائیدادیں بنائیں اور اب انکی اولادوں کے بنک اکاؤنٹ اربوں تک پہنچ چکے ہیں برصغیر میں سب سے زیادہ رقم انسانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہے مگر پاکستان ہیو مین ڈویلپمنٹ میں بہت پیچھے ہے یہاں لوگوں کے علاج ، تعلیم ، انصاف پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ میٹرو ، اوور ہیڈ برج ، انڈر پاس اور موٹر وے پر خر چ کیا جاتا ہے حالانکہ قوم پر پیسہ خرچ ہونا چاہیے آج کسان اور محنت کش بد حالی کا شکار ہے میں نے دھرنے کے دوران کنٹینر پر کہا تھا کہ جو قوم اپنے حق کے لئے کھڑی نہیں ہوتی اس کی حالت نہیں بدل سکتی ظلم اور نا انصافی کیخلاف لوگوں کو کھڑے ہونا ہوگا گزشتہ دو ماہ کے دوران میرے گھر کے باہر خیبر پختوانخواہ کے اساتذہ نے احتجاج کیا میں نے مذاکرات کے ذریعے ان کا مسئلہ حل کروایا آج نواز شریف اور بلا ول ہاؤس کے سامنے کوئی دھرنا نہیں دے سکتا راےؤنڈ میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دو ہزار پولیس کے اہلکار تعینات ہیں ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے رکشہ ، تانگہ ، ریڑھی والے ظلم کیخلاف احتجاج کر سکیں جس طر ح برطانیہ میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کرتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ملتان کے عوام الیکشن نہیں بلکہ اپنے حقوق کیلئے احتجاج کریں اور لوڈشیڈنگ سمیت وعدے پورے نہ کرنے پر حکمرانوں کے خلاف احتجاج کریں کیونکہ شہباز شریف نے بار بار کہا تھا کہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ کم کروں گا مگر انہوں نے بجلی کی قیمت دو گناہ بڑھا دی ہے نہ تو جرائم کم ہوئے ہیں نہ سکولوں ، ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی ہے بلکہ دانش سکول بھی تباہی کا شکار ہیں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی نہیں مل رہا ،ملتان کے عوام کو ساٹھ ارب روپے کی میٹرو نہیں چاہیے انہیں سکولوں ہسپتالوں اور پینے کے صاف پانی کے ضرورت ہے پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں کے باہر ڈھائی لاکھ بچے گندے پانی پینے کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ہر بیس منٹ بعد ایک عورت ڈیلیوری کے دوران فوت ہو جاتی ہے چالیس فی صد آبادی کو خوراک نہیں ملتی کسانوں کو باردانہ نہیں ملا ساٹھ ارب سے ہسپتال اور سکول اس لئے نہیں بنائے جارہے کہ انہیں میٹرو سے کمیشن ملتا ہے ہسپتالوں اور سکولوں سے نہیں ملے گا میٹرو کی وجہ سے اسلام آباد اور پنڈی کی سڑکیں تباہ کر دی گئی ہیں ن لیگ نے عوام سے کیا ہوا کوئی وعد ہ پورا نہیں کیا اس لئے ملتان کی عوام 21مئی کے لئے تیار ہو جائیں اور وعدہ کریں کہ وہ تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ۔ عمران خان نے کہا کہ کے پی کے میں اس ماہ کے آخر میں بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں پرونشل فنانس ایوارڈ کے تحت اب وزیراعلیٰ کی بجائے ہر ضلع اپنے اخراجات خود کرے گا اور وزیراعلیٰ کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے ملتان کی عوام سے پوچھے بغیر میٹرو کا فیصلہ کیا ہے بلدیاتی الیکشن کے بعد ایسا نہیں ہوگا اور کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن کے بعد ایک مثالی نظام قائم ہوگا کے پی کے کی پولیس مثالی پولیس بن چکی ہے وہاں کوئی سیاسی بھرتیاں نہیں ہوتیں جبکہ کراچی کے حادثات کو روکنے کیلئے بھی پولیس کا کرداراس لئے نہیں ہے کہ وہاں سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں یہی صورتحال پنجاب کی ہے کے پی کے میں این ٹی ایس کے بعد پولیس کی بھرتیاں ہوتی ہیں جبکہ پنجاب میں ایسا نہیں ہوتا پنجاب کا امن بحال کرنا رینجرز کی نہیں پولیس کی ذمہ داری ہے کے پی کے میں جہاں دہشت گردی کے واقعات کی بھر مار تھی گزشتہ ایک سال میں ساٹھ فی صد جرائم کم ہوئے ہیں گزشتہ پانچ سالوں میں سات سو پولیس والے شہید ہوئے لیکن اب حالات کنٹرول میں ہیں کے پی کے میں سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کی جاتی پنجاب میں پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت اور سفارش کا کلچر موجود ہے پنجاب پولیس میں اس وقت تک ترقی نہیں ہوتی جب تک رائیونڈ سے کلےئر نس نہ ہو انہوں نے آئی جی پنجاب کے اس بیان پر کے تحریک انصاف اور میڈیا کے درمیان ہونے والے معاملے کی تحقیقات کرائی جائے گی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ آئی جی پنجاب شرم کرو آپ پاکستان کے عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں شریفو ں سے تنخواہ نہیں لیتے آپ شریفوں کے ملازم نہ بنیں عمران خان نے کہا کہ اب زیادہ دیر نہیں ہے جوڈیشل کمیشن میں دھاندلی ثابت ہونے پر جو حالات سامنے آرہے ہیں اس کے تحت 2015ء میں نئے پاکستان کا سال ہوگا ہم نیکوں کارو جیسے پولیس والوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور شریفوں کے ملازمین کو پولیس سے باہر نکالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے قوم پر فخر ہے کہ انہوں نے 126دن تک دھرنا دیا اس دوران جب میں ملتان اسٹیڈیم جب جلسہ کرنے آیا ملتان کی عوام کا جوش قابل دید تھا لیکن اس جلسے میں جو شہادتیں ہوئیں ان کارکنوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور جوڈیشل کمیشن قائم ہوا جو پاکستان کی تاریخ کی نئی مثال ہے میں پوری قوم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جس طرح فیصلے آرہے ہیں اس سے یقیناًنیا پاکستان تعمیر ہوگا جوڈیشل کمیشن کے سامنے الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ہر الیکشن میں اضافی بیلٹ پیپر چھاپے جاتے ہیں لیکن عام طور پر چار سے پانچ فی صد اضافی بیلٹ پیپر چھپتے ہیں مگر یہاں ایک حلقے میں اگر سو فی صد اضافی بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں تو خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں ایک لاکھ چھبیس ہزار بیلٹ پیپر چھاپے گئے البتہ سارے خیبر پختو انخوہ میں 3 سے پانچ فی اضافے بیلٹ پیپر چھاپے گئے اور میاں صاحب کے داماد کیپٹن صفدر کے حلقے میں بھی اسی ہزار بیلٹ پیپر چھاپے گئے انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی وجہ سے تحریک انصاف جیتی ہے دھاندلی کے باوجود اسے کامیابی ملی ہے حکمران تو صحیح طریقے سے دھاندلی بھی نہیں کر سکے کیونکہ کمیشن میں سارے انکشافات سامنے آرہے ہیں عمران خان نے کہا کہ آج میرے لاہور کے حلقہ 122کا کیس ٹربیونل میں پیش ہونے والا ہے میں نے دو سال انتظار کیا میں اتنا کہتا ہوں کہ جس طرح این اے 125کی وکٹ گری ہے اس طرح این اے 122کی بیچ والی وکٹ بھی گرنے والی ہے انشاء اللہ آج جو کیس شروع ہوگا اس میں 122کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئیں گے کیا ہی بہتر ہوتا اگر میری چار حلقوں کی بات مان لی جاتی نہ میں دھرنا دیتا اور نہ ہی سڑکوں پر آتا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن بنتا میں چار حلقوں کی وجہ سے وزیراعظم نہ بن جاتا لیکن جوڈیشل کمیشن کی وجہ سے حکمرانوں کی دھاندلیاں بے نقاب ہو رہی ہیں اور آنے والے وقت میں کوئی بھی حکمران دھاندلی نہیں کر سکے گااور ہی ووٹ چوری ہوں گے میرا جوڈیشل کمیشن میں جانے کا مقصد ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ میں پاکستان میں حقیقی جمہوریت چاہتا ہوں اگر ملک میں صاف و شفاف الیکشن ہونگے تو کوئی بھی بادشاہت کرنے والا عوام کو غلام نہیں بنا سکے گا۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ 21مئی کا دن یاد رکھیں اور ووٹ کے ذریعے حکمران کے خلاف احتجاج کریں ۔

اسلام آباد(خصو صی رپورٹ )تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پولیس کو غیر سیاسی کئے بغیر کراچی میں امن ممکن نہیں، پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملے پر حکومت خود کنفیوژن کا شکار ہے۔ ملتان روانگی سے قبل بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔ پائیدار امن کیلئے پولیس کو غیر سیاسی بنانا ہو گا۔ عمران خان نے سانحہ صفورا چورنگی کے بعد کراچی نہ جانے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...