بھارت اور چین نے 10ارب ڈالر مالیت کے 24معاہدوں پر دستخط کر دیئے

بھارت اور چین نے 10ارب ڈالر مالیت کے 24معاہدوں پر دستخط کر دیئے

 بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این) بھارت اورچین نے تعلیم،صحت،سیاحت، نشریات،ریلوے ،معدنیات ،سائنسی اورخلائی شعبوں میں تعاون کوفروغ دینے اورمشترکہ تھنگ ٹینک کے قیام سمیت دیگراہم شعبوں میں 10 ارب ڈالر مالیت کے 24 معاہدوں ومفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کردئیے ۔ان معاہدوں ومفاہمی یاداشتوں پردستخط بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اورچین کے وزیراعظم لی کیانگ کی ملاقات کے موقع پر دونوں ممالک کے متعلقہ شعبوں کے حکام نے دستخط کئے ۔ جن 24معاہدوں پر دستخط کیے گئے ان میں چنگ ڈو اور چنائے میں قونصل خانوں کے قیام، پیشہ وارانہ تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے میں تعاون ، احمد آباد گاندھی نگر میں ماتما گاندھی نیشنل انسٹیٹیوٹ فار سکل ڈویلپمنٹ اینڈ انٹر پرینیئر شپ کی تعمیر، تجارتی مذاکرات کیلئے مشاورتی طریقہ کار طے کرنے ، بھارتی وزارت خارجہ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون، چین کی نیشنل ر یلوے ایڈمنسٹریشن اور بھارتی وزیر ریلوے کے درمیان تعاون بڑھانے اور تعلیمی پروگراموں کے تبادلے کا معاہدہ شامل ہے جبکہ دیگر معاہدوں میں بھارت اور چین کی معدنیات اور وسائل کی وزارتوں کے درمیان کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے ، خلائی تعاون، معیاری خوراک کے شعبے میں برآمدات کو فروغ دینے ، دوردرشن اور چائنا سنٹر ٹیلی وژن کے درمیان نشریاتی شعبے میں تعاون بڑھانے ، سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے ، بھارت چین تھنک ٹینک کے درمیان تحقیق کے شعبے میں تعاون بڑھانے، ارتھ کوئیک اور انجینئرنگ کے شعبے میں تعاون بڑھانے، ماحولیاتی تبدیلی ، پولر سائنس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے،ارضیاتی سروے کی وزارتوں کے درمیان سائنسی تعاون ، کرناٹکا کی صوبائی حکومت اور سیچوان کی صوبائی حکومت کے درمیان تعلقات کا فروغ، چنائے اور چانگ ڈنگ شہروں کے درمیان سسٹر سٹی ریلییشن کا قیام، حیدر آباد اور کنگ ڈاؤ شہروں کے درمیان سسٹر سٹی ریلیشنز کا قیام، اورنگ آباد اورڈن ہنگ شہروں کے درمیان سسٹر سٹی ریلیشن کا قیام، انڈین کونسل فار کلچر ریلیشن اور فوڈن یونیورسٹی کے درمیان تعاون اور انڈین کونسل فار کلچر ریلیشن اور یونان مینزو یونیورسٹی کے درمیان یوگا کالج کے قیام کیلئے تعاون کا معاہدہ شامل ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ممالک کے درمیان اقتصادی اور معاشی شعبوں سمیت دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے سربراہان نے کہا کہ ملاقات میں سرحدی امور، ویزا پالیسی ،سٹرٹیجک تعلقات سمیت مختلف معاملات کو اتفاق رائے سے حل کرلیا گیا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نے کہاکہ بھارت چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ایشیائی ممالک کوباہمی اعتماد کی فضا بہتر بناتے ہوئے اپنے اختلافات کو دور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے سرحدی تنازعات کے منصفانہ حل کیلئے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ نریندر مودی نے کہاکہ چین اور بھارت کے بہت سے مشترکہ مفادات ہیں ۔ دہشت گردی دونوں کیلئے خطرہ ہے جبکہ افغانستان میں امن و استحکام سے چین اور بھارت دونوں کو فائدہ ہوگا۔ چینی وزیراعظم لی کیانگ نے کہاکہ بھارت اورچین ایشیاء کیلئے انجن کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین ریلوے، صنعت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بات کی ہے۔ ا نھوں نے کہا کہ چین اور بھارت کو سیاسی اعتماد مضبوط کرنا ہوگا تا کہ دونوں مل کر ایک بہتر بین الاقوامی نظام تعمیر کر سکیں۔ اس سے قبل نریندر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد قائم کرنے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان متوازن تجارت اور سرحدی تنازعے جیسے بڑے مسائل پر بھی بات ہوئی۔ واضح رہے کہ چین اوربھارت کے درمیان 1962 میں سرحدی تنازعات پر جنگ ہوچکی ہے جب کہ چین اور بھارت کے درمیان کئی علاقوں پر ملکیت کے تنازعات بھی ہیں۔ چین بھارتی ریاست ارونچل پردیش کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جب کہ بھارت کا اصرار ہے کہ شمال مغربی علاقہ اکسائی چن پر چین نے قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسری جانب بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے بھارت پریشانی کا شکار ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...