چھ خلیجی ممالک کی سربراہ کانفرنس میں صدر اوبامہ شرکا کے خدشات دور کرنے میں لگے رہے

چھ خلیجی ممالک کی سربراہ کانفرنس میں صدر اوبامہ شرکا کے خدشات دور کرنے میں ...

 واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)جمعرات کے روز امریکہ کے سرکاری اور قانون ساز حلقوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا ’’بھوت ‘‘اپنی پوری ڈراؤنی صورت میں چھایا رہا۔ کیمپ ڈیوڈ میں چھ خلیجی ممالک کے لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کے اختتام تک صدر اوبامہ ان ممالک کے خدشات دور کرنے میں لگے رہے جس میں شاید انہیں جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ادھر کیپٹل ہل میں اس دوران ایوان نمائندگان نے 25کے مقابلے پر400ووٹوں کی اکثریت سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کو دینے کابل منظور کر لیا جسے ایک روز قبل سینیٹ بھی ایک کے مقابلے پر 98ووٹوں سے منظور کر چکی تھی۔ صدر اوبامہ دوسرے بلوں پر ویٹو کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے لیکن کانگریس میں دونوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے تیور دیکھ کر ہتھیار ڈال دئیے اور عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اس بل پر دستخط کردیں گے۔ اس بل کے مطابق کانگریس اس وقت تک ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں نہیں اٹھائے گی جب تک اسے یہ یقین نہیں ہوگا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا اردہ نہیں رکھتا۔کیمپ ڈیوڈ اجلاس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلان جاری ہوا ہے اور صدر اوبامہ نے اظہار خیال کیا ہے اس کے مطابق ان مذاکرات میں یمن ، شام ، عراق اورلیبیا سمیت مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی اور دفاعی معاملات اور دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر یقیناًبات ہوئی لیکن زیادہ تر توجہ ایران اور اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خدشات پر مرکوز رہی۔خلیجی اور امریکی لیڈروں نے جو کچھ کہا اور میڈیا اور سکیورٹی تجزیہ کاروں نے جو تبصرے کئے ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سارے متنازعہ معاملات پہ جو مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو سکی۔ مبصرین اس کانفرنس کو ناکام نہیں کہتے لیکن ان کے خیال میں سارے خدشات دور کرنے اور مکمل اعتماد کی فضاء بنانے کے لئے ابھی مزید رابطوں اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔ خلیجی اور عرب ممالک اپنے خطے کے م عاملات میں کہیں ’’غیر عرب ‘‘ کی مداخلت نہیں چاہتے اور ان کے لئے واحد تکلیف دہ ’’غیر عرب‘‘ایران ہے۔ ادھر اوبامہ انتظامیہ ایران کے ساتھ تمام تر کھچاؤ کے باوجود اسے ان تمام تنازعات میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر نہ صرف قبول کرتاہے بلکہ اختلافی نقطہ نظرکے باوجود اپنی مصلحتوں کے تحت اس کے ساتھ کھیلنے پر بھی مجبور ہے۔ امریکہ نے کیمپ ڈیوڈ میں یہ زبانی کلامی اعلان ضرور کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ خلیجی اورعرب ممالک کے دفاع کے لئے فوجی طاقت استعمال کرے گالیکن اس سلسلے میں کوئی ایسا تحریری معاہدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ اس نے اسرائیل، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ کر رکھا ہے۔عرب اور اسلامی ممالک کے اطمینان کے لئے صدر اوبامہ نے جو اہم بات کی وہ یہ تھی کہ امریکہ فلسطین میں دو ریاستی تصور کا زبردست حامی ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں اسرائیل کی ریاست کو مکمل توثیق حاصل ہو وہاں فلسطین کی مکمل اورآزاد الگ ریاست کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے تاہم انہوں نے اس سلسلے میں تھوڑی مایوسی کا اظہار کیا کہ اسرائیل کے اندر بعض لیڈر ایسا نہیں کرنا چاہتے۔اگرچہ مذاکرات سے باہر خلیجی لیڈر یہ کہتے رہے ہیں کہ کسی بھی جارحیت کے خلاف فوجی اقدام کرنے سے پہلے انہیں امریکہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خلیجی کونسل کے ارکان اپنی جغرافیائی حدو د سے باہر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا منصوبہ بنانے کے لئے امریکہ سے مشورہ کریں گے۔ خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک تعاون کا جو فورم قائم ہوا ہے اس کے ذریعے تیز رفتار ی سے اسلحے کی فراہمی ، انسداد دہشت گردی کے لئے بحری علاقے کی سکیورٹی، سائبر سکیورٹی اوربیلسٹک میزائیل دفاع سمیت تمام م عاملات طے کئے جائیں گے۔ مشترکہ بیان میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایران کی طرف سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کی مخالفت کریں گے اور وہ چاہیں گے کہ ایران بین الاقوامی ضابطوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہمسایوں کے داخلی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرے اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل کرے۔ ان رہنماؤں نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں خصوصاً داعش اور القاعدہ کو دہشت گرد کارروائیوں سے روکنے کے لئے اپنے حساس انفراسٹرکچر کی حفاظت،سرحدوں کی مضبوطی،فضائی تحفظ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ کے خاتمے اور دیگر پر تشدد انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کر یں گے۔کانفرنس نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ یمن میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے اثرات ختم کرنے کے لئے متحارب گروپ کے ساتھ جنگ کرنے کی بجائے ریاض کانفرنس اور اقوام متحدہ کی مصالحتی کوششوں کے مطابق سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ شرکاء نے یمن کے لئے اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی امداد کے مطالبے پر سعودی عرب کی 274ملین گرانٹ کو سراہا۔ شرکاء نے یمن میں حوثی قبائل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کا بھی عہد کیا۔انہوں نے شام میں انسانی سطح کے حالات میں خرابی پرتشویش کا اظہار کیا اوروہاں اسدانتظامیہ کی طرف سے انسانی ہمدردی کی امداد میں تقسیم پر رکاوٹ ڈالنے کی مذمت کی۔ امریکہ اور خلیجی ممالک نے غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے کام کو قاہرہ کانفرنس کی روشنی میں جاری رکھنے کا بھی عہد کیا۔ کانفرنس نے لبنان کی حکومت کو داعش اور النصرہ فرنٹ کی دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس کانفرنس میں چھ خلیجی ممالک کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی ہوئی جن میں کویت کے امیر شیخ صباح احمد الصباح ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد نے شرکت کی۔ تاہم سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، عمان اور بحرن کی جانب سے ولی عہد شریک ہوئے یا وزرائے اعظم بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ جمعرات کو برطانیہ چلے گئے جہاں انہوں نے ملکہ الزبیتھ ثانی کے ساتھ ایک ہارس شومیں شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول


loading...