معراج مصطفٰٰی۔۔۔۔۔مقدس ترین ہستی کا اعزاز و اکرام

معراج مصطفٰٰی۔۔۔۔۔مقدس ترین ہستی کا اعزاز و اکرام

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا (قتادہ نے لفظ ’’حطیم ‘‘کی جگہ کہیں لفظ ’’حجر ‘‘بھی استعمال کیا ہے)۔ دونوں نام ایک ہی مقام کے ہیں (یعنی خانہ کعبہ کے اندر کی وہ زمین جسے قریش نے باہر چھوڑ دیا تھا)۔ جب آنے والا (جبرائیل ؑ ) میرے پاس آیا۔ اس نے اپنے ساتھی (میکائیل) سے کہا کہ ان تین میں سے درمیان والے نبی کریم ؐ ہیں ۔ پھر وہ میرے پاس آیا، سینہ سے لے کرزیرناف تک میرا جسم شق کیا۔ پھر سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان وحکمت سے پر تھا۔ میرے قلب کو دھویا اور ایمان وحکمت سے بھردیا۔ پھر زخم درست کردیا، پھر میرے لئے سواری لائی گئی ، جس کا قد خچر سے کم اور حمار سے اونچا تھا ۔ اس کا قدم اس کی حدِ بصر تک پڑتا تھا مجھے سوار کیا گیا ۔ جبرائیل میرے ساتھ ساتھ چلاآسمان دنیا تک مجھے لے کر پہنچ گیا۔ دروازہ کھلوایا، اندر سے پوچھا گیا کون ہے؟ کہا جبرائیل ، کہا تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ کہا محمدؐ انہوں نے کہا، کیا آپ کو بلوایا گیا ؟ جبرائیل نے کہا ہاں۔ فرشتوں نے مرحبا کہا اور کہا کہ خوب تشریف لائے۔ دروازہ کھلا، میں اندر گیا تو وہاں آدم علیہ السلام تھے۔ جبرائیل ؑ نے کہا، یہ آپ کے ابا آدم علیہ السلام ہیں۔ سلام کیجئے، میں نے سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور ابن صالح ونبی صالح فرماکر مرحبا بھی کہا۔

پھر جبرائیل ؑ دوسرے آسمان تک پہنچا۔ دروازہ کھلوایا (وہی گفتگو پہلے آسمان والی ہوئی) میں اندر گیا تو وہاں حضرت یحییٰ ؑ وحضرت عیسیٰ ؑ تھے، یہ دونوں خالہ زاد ہیں۔جبرائیل ؑ نے بتایا کہ یہ حضرت یحییٰ ؑ وحضرت عیسیٰ ؑ ہیں، سلام کیجئے ۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اوراخ صالح ونبی صالح کے الفاظ میں مرحبا کہا۔ پھر جبرائیل چوتھے آسمان تک بلند ہوا۔ دروازہ کھولنے کو کہا، پوچھا کون ؟ کہا جبرائیل علیہ السلام پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ کہا محمد ؐ پوچھا کیا بلوائے گئے ہیں ؟ کہاں ہاں۔ فرشتوں نے مرحبا کہا اور میرے جانے پر اظہار خوشی کیا۔ اندر گئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور اخ صالح ونبی صالح کہہ کر مرحبا کہا۔ اِسی طرح پانچویں آسمان والے فرشتوں کی بات جبرائیل سے ہوئی۔ میں اندر گیا وہاں حضرت ہارون ؑ ملے۔ سلام کا جواب دے کر مجھے اخ صالح ونبی صالح کے ساتھ مرحبا کہا۔

اِسی طرح چھٹے آسمان پر جبرائیل ؑ اور فرشتوں کی گفتگو ہوئی۔ میں اندر گیا تو وہاں حضرت موسیٰ ؑ ملے، میں نے سلام کیا، انہوں نے اخ صالح و نبی صالح کہہ کر مرحبا کہا، میں آگے چلا تو وہ رو پڑے ،پوچھا گیا تو کہا یہ نوجوان میرے بعد آیا اور اس کی امت کے لوگ میری امت سے بہت زیادہ تعداد میں داخل جنت ہوں گے۔

پھر ساتویں آسمان پر جبرائیل ؑ پہنچا۔ فرشتوں سے گفتگو ہوئی اور وہاں میں نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ موجود ہیں۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور ابن صالح کہہ کر مرحبا کہا۔

پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک اٹھایا گیا۔ اس کا پھل بڑی چاٹیوں جیسا اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے بڑے ہیں۔جبرائیل ؑ نے بتایا کہ سدرۃ المنتہیٰ یہی ہے۔ وہاں چارنہریں دیکھیں ، دو اندر بہتی تھیں، دو کھلم کھلی،جبرائیل ؑ نے بتایا کہ اندر اندر چلنے والے دریا تو بہشت کے دریا ہیں، کھلے چلنے والے نیل وفرات۔

پھر سامنے بیت المعمور نمودار ہوا۔ قتاًدہ جوروائ حدیث ہیں ۔ انہوں نے کہا حضرت حسنؓ نے ہم کو حضرت ابوہریرہؓ سے ، انہوں نے نبی کریم ؐ سے یہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ بیت المعمور میں 70ہزار فرشتے روزانہ داخل ہوتے ہیں اور پھر لوٹ کر نہیں آتے ۔ اس قدر ایزادی کے بعد قتادہؓ نے پھر حدیث انسؓ کی طرف رجوع کیا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا ۔ پھر میرے سامنے شراب، دودھ اور شہد کے برتن پیش کئے گئے۔ مَیں نے دودھ لے لیا ۔ جبرائیل ؑ نے کہا یہی وہ فطرت ہے جس پر آپ کی امت ہے ۔ پھر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ روزانہ پچاس نمازیں۔ پھر میں نیچے آیا اور حضرت موسیٰ ؑ تک پہنچا۔ تو انہوں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ مَیں نے کہا پچاس نمازیں روزانہ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا کہ آپ کی امت میں اس کی استطاعت نہ ہوگی اور میں قبل ازیں لوگوں کا امتحان کرچکا ہوں اور بنی اسرائیل کی تدبیر کرتا رہا ہوں۔ آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور امت کے لئے تخفیف کا سوال کیجئے ۔ میں واپس گیا اور دس نمازوں کی تخفیف کردی گئی، میں نے پھر حضرت موسیٰ ؑ کو یہی آکر بتلایا، انہوں نے کہا کہ پھر واپس جائیے اور تخفیف کا سوال کیجئے۔ میں واپس گیا، تب دس نمازوں کی اور تخفیف کردی گئی۔ انہوں نے پھر کہا کہ واپس جائیے اور تخفیف کا سوال کیجئے۔ میں اسی طرح جاتا رہا ، حتیٰ کہ پانچ نمازوں کا حکم ہوگیا اور میں نے حضرت موسیٰ ؑ کو یہ بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت میں اس کی استطاعت بھی نہ ہوگی ۔ مجھے لوگوں کا خوب تجربہ ہے اور میں نے بنی اسرائیل کے لئے بڑی بڑی تدبیریں کی ہیں ۔ لہٰذا واپس جائیے اور تخفیف کا سوال کیجئے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا کرتا شرمسار بھی ہوگیا ہوں، اب تو میں اسی کو خوشی سے مانوں گا اور تسلیم کروں گا، اس وقت پکارنے والے کی ایک آواز آئی کہ میں نے اپنے فریضہ کو جاری کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف بھی کردی۔ (یعنی نمازیں پانچ، ثواب پچاس کا)

شیخین کی حدیث عن زہری عن انسؓ میں مزید یہ ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ؐ سے یوں روایت کیا کرتے تھے کہ : حضرت آدم ؑ جب دائیں جانب دیکھتے، تب ہنستے اور جب بائیں جانب دیکھتے تب روتے۔ جبرائیل ؑ نے نبی کریم ؐ کے پوچھنے پر بتلایا کہ دائیں، بائیں اولادِ آدم کی ارواح ہیں۔ دائیں جانب اہلِ جنت ہیں، بائیں جانب اہل نار، دائیں جانب دیکھتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں اور بائیں کو دیکھتے ہیں تو روپڑتے ہیں۔

زہری کہتے ہیں کہ ابن حزم نے مجھے بتلایا کہ ابن عباس اور اباجبۃ الانصاری یہ بھی کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ؐ فرماتے تھے کہ مجھے بلندی پر لے جایا گیا اور میرے سامنے مستوی آگیا ، میں صریف الاقلام (قلموں کے چلنے کی آواز)سنتا تھا۔

پانچ نمازوں کی تعین کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بھی میرے ساتھ چلے ۔ میں سدرۃ المنتہیٰ پرواپس آیا، اس پر ایسے رنگا رنگ الوان پڑرہے تھے کہ جن کی صفت بیان سے باہر تھی۔ پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا، جس کی کنکریاں آبدار موتی ہیں اور جس کی زمین مشک خالص کی ہے۔

مختلف آسمانوں پر الگ الگ انبیاء اکرام کی ملاقات بہت سی نصائح دینی پر مشتمل ہے ۔

*۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح شاہانِ عالم معزز مہمان کے اکرام کے لئے اپنی سرحد خاص سے لے کر دربار خاص تک درجہ بدرجہ امرائے عظام کو مقرر کیا کرتے ہیں، اسی طرح ان انبیائے کرام علیہ السلام کا تعین بھی آسمان اول سے آسمان ہفتم تک کیا گیا۔

*۔۔۔ حضرت آدم ؑ ابوالبشر ہیں، اول الانبیاء ہیں اس لئے ان کا تعلق آسمان اول سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔ آدم ؑ ہیں جن کو ترک جنت کا الم اٹھانا پڑا ، مگر جب زمین پر آئے اور خلافت الارض کا تاج ان کے سرپر رکھا گیا اور ان کی اولاد ورفقاء سے زمین آباد ہوگئی، تب ان کا وہ الم مبدل بہ سرور ہوگیا۔

نبی کریم ؐ بھی احب البلاد عند اللہ کو ترک کرنے والے تھے ، لیکن اقامت مدینہ طیبہ اشاعت اسلام اور نشر علوم کا سبب تھی۔ یہیں سے نصرت وفتح کے اعلام بلند ہوئے اور یہی بلدہ طیبہ حضور اکرم ؐ کے خلفاء کا بھی مستقر ثابت ہوا۔

*۔۔۔ یحییٰ وعیسیٰ ؑ میں قرابت بھی ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے اصطباغ بھی حضرت یحییٰ ؑ سے پایا تھا۔ احوال زہدومحنت میں بھی دونوں متحد الاحوال ہیں۔ اس لئے وہ دونوں ایک ہی مقام پر جمع تھے اور دونوں کو نبی کریم ؐ کے زہدوتوکل اور اعراض عن الخلق و مستقبل کا دکھلانا بھی مقصود تھا۔ حضرت یحیےٰ ؑ نے اپنا کام حضرت عیسیٰ ؑ پر چھوڑا تھا اور حضرت عیسیٰ ؑ نے اکمال صداقت اور اتمام حقانیت کا حضور اکرم ؐ کے ہاتھوں سے پورا ہوتا بتلایا تھا۔ لہٰذا ضروری تھا کہ دونوں بزر گوار اپنی بہترین تمناؤں کو مکمل شدہ حالت میں دیکھ لیتے۔

*۔۔۔ حضرت یوسف ؑ کے احوال مبارکہ کو نبی کریم ؐ سے مماثلت کلی ہے۔ دونوں صاحب الجمال و الکمال ہیں۔ دونوں کو امتحانات ساتھ دینے پڑے، دونوں میں عفو و کرم کا وفور ہے، دونوں نے اخوان جفاپیشہ کو (لاتشریب علیکم الیوم)کے مژدہ سے جان بخشی فرمائی ہے۔ دونوں صاحب امرو حکومت ہیں اور دنیا سے پوری کامرانی و حکمرانی اور جاہ و جلال کے ساتھ رخصت ہوئے ہیں۔

*۔۔۔ چوتھے فلک پر حضرت ادریس ؑ کی ملاقات ہوئی۔ کثرت درس اور توغل تعلیم اور شغف تدریس میں حضرت ادریس ؑ کا خاص درجہ ہے۔ اور یہی کیفیتنبی کریم ؐ کی تھی۔

*۔۔۔ پانچویں پر حضرت ہارون ؑ ملے۔ ہارون اپنی قوم وامت میں ہر دلعزیز اور محبوب قلوب تھے، ہارون مسجد کے امام تھے۔ ہارون تفرقہ و فرقہ بازی کو سب سے برا سمجھتے تھے اور یہ وہ صفات عالیہ ہیں، جن کے انوار حضور اکرمؐ کی سیرت میں اتم، واضح و آشکار ہیں۔

*۔۔۔چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ؑ کی ملاقات ہوئی یہ صاحب شریعت بھی ہیں، صاحب کتاب ہیں، غازی و مجاہد ہیں۔ مہاجر و مناظر بھی نبی کریم ؐ کے ساتھ ان محاسن میں مشابہ تر ہیں۔ ان کا رتبہ ان مجموعی محاسن کی وجہ سے پانچوں آسمانوں والے انبیاء سے بڑھ کر خاص امتیاز رکھتا ہے۔

*۔۔۔ ساتویں آسمان پر سیدنا ابراہیم علیہ اسلام نظر آئے، یہی بانی کعبہ مقدس ہیں اور بیت المعمور کے یہی امام خلق ہیں، خلیل الرحمن ہیں۔ نبی کریم ؐ نے کعبہ کو ارجاس اوثان سے پاک کیا، نبی کریم ؐ کی مرضی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے لئے کعبہ کو قبلۂ نماز بنایا، نبی کریم ؐ ہی نے ملتِ حنیفیہ کو زندہ کیا، نبی کریم ؐ نے ہی مناسکِ حج کو سنت ابراہیمہ کے مطابق محکم فرمایا، نبی کریم ؐ ہی نے درود پاک میں اپنے نام کے ساتھ ابراہیم ؑ اور ان کی آل پاک کے نام کو شامل فرمایا، نبی کریم ؐ حلیہ کے لحاظ سے بھی سیدنا ابراہیم ؑ سے نہایت مماثل تھے۔

رفعت حضور اکرم ؐ کو مقام ابراہیم (بیت المعمور) سے اوپر حاصل ہوئی۔ اسی سے ظاہر ہوگیا کہ حضور اکرم ؐ ہی مقام محمود والے ہیں اور حضور اکرم ؐ ہی ادم ومن دونہ تحت لوائی فرمانے کا استحقاق رکھتے ہیں۔

قرآن کریم نے واقعہۂمعراج کو دو سورتوں میں ذکر فرمایا ہے۔

اول: سورۂ بنی اسرائیل جس کے آغاز ہی میں یہ آیات ہیں۔

(سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المجسد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ لنریہ من ایاتنا انہ ھو السمیع البصیر)(اسرائیل)

کلمہ ’’سبحان‘‘ تنزیہہ کے لئے آتا ہے اور شروع کلام میں اس لئے لایا گیاتا کہ جن واقعاتِ بعد کا ذکر آئندہ کیا جائے گا۔ اللہ کی قدرت اور طاقت اس کو ظہور میں لانے سے عاجزو درماندہ نہیں۔ لیلا کی تنوین رات کی مقدار قلیل کو ظاہر کرتی ہے۔

(بارکنا حولہ) اسی مقام کے قرب و جوار میں اشجار مثمرہ اور انہار جاریہ اور شجرہ مبارکہ زیتون کی کثرت ہے، اسی کا حوالی انبیائے کثیر کا محبط وحی اور معجزات باہرات کا مصدر رہا ہے۔

(من ایاتنا) سے مراد وہ نشانات ارضی بھی ہیں جو بنی اسرائیل کے اقبال و ادبار اور شرف و ذلت کی زندہ زبان ہیں۔ اور وہ نشانات عظمیٰ بھی اسی لفظ میں شامل ہیں جو حضور اکرم ؐ نے مسجد اقصیٰ سے عروج کے بعد ملکوت السموت و الارض میں ملاحظہ فرمائے۔

دوم معراج کا ذکر سورۂ النجم میں ذکر ہے، مندرجہ ذیل آیات پر تدبر کرو۔

(الف) اس نے اپنے رب کی ان آیات کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ’’ کبری‘‘ بزرگ ترین ہونے کی صفت سے موصوف ہیں۔

اس کے تحت جبرائیل ؑ کا بصورت اصلی یا سدرۃ المنتہیٰ اور اس پر چھا جانے والی انوارِ قدسیہ کا بصورت تجلی یا جنت و نار کا ہیت موجودہ یا عجائبات ملکوت کا تفصیلی معائنہ کچھ بھی لکھ دیا جائے، لیکن یہ سب کے سب اپنی مجموعی شان میں بھی لفظ کبرے کے سامنے کم ہی ہوں گے ، اس لئے ان کا حصرو تعقل دشوار ہے۔

(ب) (مازاع البصر وماطغی)(53 / النجم:17 )اس آیت میں نبی کریم ؐ کے شوق دید کا بھی بیان ہے اور مراعات حسن ادب کا بھی ذکر ہے۔

حضرت موسیٰ ؑ کے حال میں فرمایا گیا ہے ( جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی ، تب پہاڑ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور حضرت موسیٰ ؑ بیہوش ہوکر گر پڑے)۔

سیدنا حضرت محمد ؐ خوب آنکھیں بھر کر ان انوار کو دیکھ رہے ہیں۔ مشتاق آنکھ نہ جھپکتی ہے نہ ادھر ادھر تاکتی ہے۔ قوت ربانیہ متوجہ نمائش ہے اور بصارت محمدیہ ؐ کمال قوت نظارہ کے ساتھ وقف دید۔

(ج)(جو کچھ آنکھوں نے دیکھا، دل نے اسے نہیں جھٹلایا)(53 / 143 ) بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ روشن صاف آنکھیں ایک شے کو دیکھتی ہیں اور دل آنکھ کی دیکھی ہوئی حالت کو جھٹلاتا ہے۔ مثلاً ہم صبح کو دیکھتے ہیں کہ سورج ایک زریں طشت کی صورت میں مشرق سے نمودار ہوتا ہے، اس کا قدو قامت اس وقت اتنا چھوٹا نظر آتا ہے کہ کرۂ ارض سے کروڑوں حصے کم ہوگیا لیکن دل کہہ دیتا ہے کہ ایسا سمجھنا آنکھ کی غلطی ہے، یہ تو زمین سے کروڑوں حصے بڑا ہے اور یقیناًبڑا ہے، ہم پانی کے اندر گری ہوئی چیزوں کو دیکھتے ہیں تو وہ ابھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ آنکھ کا اسے ایسا دیکھنا غلط ہوتا ہے۔

ہم سورج کی روشنی کو دیکھ کر اسے صرف ایک صاف، سفید روشنی سمجھتے ہیں حالانکہ دل بتلاتا ہے کہ اس روشنی میں سات رنگوں کا اجتماع ہے۔

جب دیدہ و دل میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے۔ تب یہ سمجھنا کہ آنکھ حقیقت اصلیہ کو دیکھ رہی ہے، غلط ہوتا ہے۔ لیکن حقائق کی اصلیت اور انکشافات کی حقیقت پر دل و دیدہ کا یقین اور وثوق اور اعتبار مجتمع ہوجائے تو شک نہیں کہ یہ نظارہ بصیرت افروز اور بصارت افزاء ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہی مقصود ہے کہ نبی کریم ؐ کے نظارہ پاک کو جملہ ظنون و شکوک سے برتر اور جملہ صداقتوں اورحقیقتوں پرحاوی یقین کرنا چاہئے۔

(د)(فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (53 / النجم :10) ( پھر اپنے بندۂ پر جو وحی بھی بھیجنی تھی وہ بھیجی)۔ آیات بالا میں دیدۂ و دل کی کیفیات کا ذکر تھا اس آیت میں گوش و دل کے حقائق کا ذکر ہے۔ ما اوحی کا لفظ اجمال کے لئے نہیں، بلکہ تفخیم کے لئے ہے اس کے مخیم وحی بھی مقصود ہے اور یوحی الیہ کی تعظیم بھی۔ اور ان کی عظمت اصلیہ تو لفظ عبد میں پہناں ہے، پہناں بھی ہے اور عیاں بھی۔

کچھ شک نہیں کہ واقعہ معراج نبی کریمؐ کے مقامات اعلیٰ سے ایک برترین مقام ہے اور اس واقعہ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں بھی اور سورۂ النجم میں بھی لفظ عبد ہی کا استعمال فرمایا ہے۔ تاکہ مخلوق الٰہی خوب سمجھ لیں کہ اس مقدس ہستی کے لئے بھی جس کی شان ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ سے آشکار ہے۔ سب سے بلند ترین مقام عبودیت ہی کا ہے اور ہم سب کو اسی مقام عبودیت میں ارتقاء (بقدر قابلیتِ و استعداد) کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔

کیونکہ اظہار ِ عبودیت و بیان عجزو افتقار کی تشکل بندگی اور ابہتال کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی صورت محقق نہیں۔

بعض علماء کو آیت (وما جعلنا الروبا التی اریناک الا فتۃ للناس) (بنی اسرائیل:60) سے یہ خیال ہوا ہے کہ اس آیت کا اشارہ معراج کی طرف ہے اور چونکہ اسے رویأ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لہٰذا معراج کے واقعات خواب میں نظر آئے تھے۔

اس اشکال کو امام لغت ابن وجیہہ نے حل کردیا ہے کہ رویت و رویأ کا استعمال بمعنی واحد ہوتا ہے۔ اہل لغت کا قول ہے رایت رویۃ و رویا قربۃ و قربیٰ ہے اب یہ وہم اٹھ گیا کہ رویأ صرف خواب ہی کے لئے مستعمل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...