معراجِ مصطفیؐ اور جدید سائنس

معراجِ مصطفیؐ اور جدید سائنس

پروفیسر عبدالعظیم جانبازؔ

موجودہ صدی میں یوں تو بہت سے سائنسی نظریات پیش ہوئے، مگر ان میں سب سے زیادہ معروف نظریہ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کہلاتا ہے۔ اس نظریے کی آمد نے کائنات اور قوانین کائنات کے بارے میں ہمارے اندازِ نظر کو ایک نیا زاویہ بہم پہنچایا اور ہمارے ذہن کو وسعت دی۔

واقعہ معراج ایک ایسی ہی مسلمہ حقیقت اور علم ہے جو سائنسی توجیہ کا محتاج نہیں۔ نظریہ دو حصوں پر مبنی ہے، ایک حصہ ’’نظریہ اضافیت خصوصی‘‘ (Special Theory of Relativity) کہلاتا ہے، جب کہ دوسرے حصہ ’’نظریہ اضافیت عمومی‘‘ (General Theory of Relativity) کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ خصوصی نظریہ اضافیت کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال کا سہارا لیں گے۔

فرض کیجیے کہ ایک ایسا راکٹ بنا لیا گیا ہے جو روشنی کی رفتار (یعنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ) سے ذرا کم رفتار پر سفر کر سکتا ہے، اس راکٹ پر خلا بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے، راکٹ کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تمام لوگ اس کے مقابلے میں بے حس وحرکت نظر آتے ہیں۔ راکٹ کا عملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتار سے خلا میں سفر کرنے کے بعد زمین کی طرف پلٹتا ہے اور اسی تیزی سے واپسی کا سفر بھی کرتا ہے مگر جب وہ زمین پر پہنچتے ہیں توانھیں علم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی غیر موجودگی میں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، اپنے جن دوستوں کو وہ لانچنگ پیڈ پر خدا حافظ کہہ کر گئے تھے، انھیں مرے ہوئے بھی پچاس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور جن بچوں کو وہ غاؤں غاؤں کرتا ہوا چھوڑ گئے تھے وہ سن رسیدہ بوڑھوں کی حیثیت سے ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ وہ شدید طور پر حیران ہوتے ہیں کہ انھوں نے تو سفر میں دو سال گزارے، لیکن زمین پر اتنے برس کس طرح گزر گئے۔

اضافیت میں اسے ’’جڑواں تقاضا (Twins Paradox) کہا جاتا ہے اور اس تقاضے کا جواب خصوصی نظریہ اضافیت ’’وقت میں تاخیر‘‘ (Time dilation) کے ذریعے فراہم کرتا ہے، جب کسی چیز کی رفتار بے انتہا بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہو جاتا ہے، یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروں کے لیے ایک سیکنڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اسی دوران میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔

نظریہ اضافیت ہی کا دوسرا حصہ یعنی ’’عمومی نظریہ اضافیت‘‘ ہمارے سوال کا تسلی بخش جواب دیتا ہے۔ عمومی نظریہ اضافیت میں آئن اسٹائن نے وقت (زمان) اور خلا (مکان) کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے زمان ومکان (Time and Space) کی مخلوط شکل میں پیش کیا ہے اور کائنات کی اسی انداز سے منظر کشی کی ہے۔ کائنات میں تین جہتیں مکانی (Spatial Dimentions) ہیں جنھیں ہم لمبائی، چوڑائی اور اونچائی (یا موٹائی) سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں۔ اس طرح عمومی اضافیت نے کائنات کو زمان ومکان کی ایک چادر (Sheet) کے طور پر پیش کیا ہے۔

تمام کہکشائیں، جھرمٹ، ستارے، سیارے، سیارچے اور شہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادر پر منحصر ہیں اور وقت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہیں۔ انسان چونکہ اسی کائنات مظاہر کا باشندہ ہے، لہٰذا اس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں۔ آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کے کسی بھی حصے کو زمان ومکان کی اس چادر میں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے نے انسان کو احساس دلایا ہے کہ وہ کتنا بے وقعت اور کس قدر محدود ہے۔

ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل وذرائع کی ضرورت ہے، کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے، دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے، جب کہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا، تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلا دینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑ رہی، اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں، مثلاً کاسمک ریز (Cosmic Rays) الٹراوائلٹ ریز (Ultra violet Rays) اور ایکس ریز (X-Rays) یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم (Organism) کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہو جاتی ہے) ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلا میں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے اگرچہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلا میں جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا نا ممکن ہے، آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دورِ حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہابئے ہوا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں اور فضا ہی میں بھسم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ حضوراکرمؐ اتنا طویل سفر پلک جھپکنے میں طے کر سکے۔

ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کر چکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہو چکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا، بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت وطاقت کے ذریعے ممکن ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنا لے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں، ایسی چیزیں تیار کر لے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کر سکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کر لے، یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کر سکتا ہے تو پھر اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کر سکتا؟

مزید بحث میں پڑنے سے پہلے چند ضروری باتیں واضح کر دی جائیں تو مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ آئن اسٹائن کے مطابق مادی شے کے سفر کرنے کی آخری حد روشنی کی رفتار ہے جو 186000 (ایک لاکھ چھیاسی ہزار) میل فی سیکنڈ ہے دوسری رفتار قرآنِ مجید نے امر کی بتائی ہے جو پلک جھپکنے میں پوری کائنات سے گزر جاتی ہے۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

(وَمَآ اَمْرُنَا اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحِ الْبَصَرِ) [القمر:50]

’’اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپک جانا‘‘۔

سائنسدان جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی 100 چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں (Sub Alomic Particles) ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے جو تمام کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتا ہے، مادہ اس کے لیے مزاحمت پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مادی شے سے رگڑ کھاتا ہے، وہ بہت چھوٹا ذرہ ہے اور نہ ہی وہ رگڑ سے جلتا ہے، کیونکہ رگڑ تو مادے کی اس صورت میں پیدا ہو گی جب کہ وہ کم از کم ایٹم کی کمیت کا ہو گا ۔۔۔ (یاد رہے کہ ابھی حال ہی میں سرن لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے 23 ستمبر 2011ء کو یہ اعلان کیا ہے کہ تجربات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے)

ایک اور بات یہ ہے کہ ایٹم (Atom) کے مرکز کے گرد الیکٹرون چکر لگا رہے ہوتے ہیں، ان دونوں کے درمیان مادہ نہیں ہوتا، بلکہ وہاں بھی خلا موجود ہوتا ہے، ایک اور ذرے کے بارے میں تحقیق ہو رہی ہے جس کا نام (Tachyon) ہے اس کا کوئی وجود ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا، لیکن تھیوری (Theory) میں اس کا ہونا ثابت ہے، یہ ہیں مادے کی مختلف اشکال اور ان کی رفتاریں۔

جبریلu نے آپe کو براق پر سوار کیا۔ براق، برق سے نکلا ہے، جس کے معنی بجلی ہیں، جس کی رفتار 186000 میل کی سیکنڈ ہے، اگر کوئی آدمی وقت کے گھوڑے پر سوار ہو جائے تو وقت اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے، یعنی اگر آپ186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں تو وقت رک جاتا ہے کیونکہ وقت کی رفتار بھی یہی ہے، وقت گزر جائے گا، کیونکہ وقت اور فاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہے اس لیے جو شخص اس چوتھی جہت پر قابوپا لیتا ہے کائنات اس کے لیے ایک نقطہ بن جاتی ہے، وقت رک جاتا ہے، کیونکہ جس رفتار سے وقت چل رہا ہے وہ آدمی بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے، حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کو چلتا ہوا محسوس کرے گا، لیکن کائنات اس کے لیے وہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اور فاصلے کو اپنے قابو میں کر لیا ہو، اس کے لیے چاہے سیکڑوں برس اس حالت میں گزر جائیں لیکن وقت رکا رہے گا اور جوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گا وقت کی گھڑی پھر سے ٹک ٹک شروع کر دے گی، وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیر کر کے آ جائے۔

بجلی کا ایک بلب ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کے فاصلے پر رکھ دیں۔ سوئچ دبائیں تو ایک سیکنڈ میں وہ بلب جلنے لگے گا، یہ برقی رو کی تیز رفتاری ہے اور پھر ہوا کی تیز رفتاری بھی اس کی ایک مثال ہو سکتی ہے، اب معراج شریف میں چاہے ہزار برس صرف ہو گئے ہوں یا ایک لاکھ برس ہو گئے ہوں، وقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ یہ شبہ اور اشکال پیش آ سکتا ہے کہ اتنی طویل وعظیم مسافت ایک رات میں کیسے طے ہو گئی، اللہ جل جلالہ کی قدرتیں لا انتہا ہیں، وہ ہر بات پر قادر ہے۔

قرآنِ پاک میں فرمایا:

’’آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی روشنی لے آئے؟ تو کیا تم نہیں سنتے۔ آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک دن کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی رات لے آئے جس میں تم آرام کرو؟ تو کیا تم نہیں دیکھتے‘‘۔

(سورۃ قصص)

تو حق تعالیٰ کو پوری قدرت ہے اگر چاہے تو وہ وقت کو روک سکتا ہے، پھر جب انسانی صنعت سے خلائی جہاز، چاند، زہرہ اور مریخ تک پہنچ سکتے ہیں تو خدائی طاقت اور لا متناہی قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیا اس کے رسول اکرمؐ شب معراج میں آسمانوں کو طے کر کے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتے؟ ہے کوئی سوچنے والا؟ پھر ایک اور طریقے سے غور کریں کہ جو سواری بُراق آپ کے لیے بھیجی گئی تھی، اس کی تیز رفتاری کا کیا عالم تھا۔ روایت میں تصریح کے ساتھ درج ہے کہ اس کا ایک قدم حد نظر تک پڑتا تھا جو روشنی کی رفتار سے ہزارہا درجہ زیادہ ہے۔ ہماری نظروں کی حد نیلگوں خیمہ ہے جو آسمان کے نام سے موسوم ہے تو یہ کہنا پڑے گا کہ بُراق کا پہلا قدم پہلے آسمان پر پڑا اور چونکہ آسمان از روئے قرآن پاک سات ہیں، اس لیے سات قدم میں ساتوں آسمان طے ہو گئے، پھر اس سے آگے کی مسافت بھی چند قدم کی تھی۔

حاصل کلام یہ کہ کل سفر رات کے بارہ گھنٹوں میں سے صرف چند منٹ میں طے ہو گیا اور اسی طرح واپسی بھی، تو اب بتائیے کہ اس سرعت سیر کے ساتھ ایک ہی رات میں آمد ورفت ممکن ٹھہری یا غیر ممکن؟ اب فرمایا جائے کہ کیا اشکال باقی رہا؟

علاوہ ازیں ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک گھر میں بیک وقت بلب جل رہے ہیں، پنکھے (سیلنگ فین) سے ہوا آ رہی ہے، ریڈیو سنا جا رہا ہے، ٹیلی ویژن دیکھا جا رہا ہے، ٹیلی فون پر گفتگو ہو رہی ہے، فریج میں کھانے کی چیزیں محفوظ کی جا رہی ہیں، ایئر کنڈیشنڈ سے کمرہ ٹھنڈا ہو رہا ہے، ٹیپ ریکارڈ پر ریکارڈنگ ہو رہی ہے، گرائنڈر میں مسالے پس رہے ہیں، استری سے کپڑوں کی شکنیں دور ہو رہی ہیں، سی ڈی پلیئرز پر فلمیں دیکھیں جا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے بڑھ کر مین سوئچ آف کر دیا، پھر کیا تھا لمحوں میں ہر چیز نے کام کرنا بند کر دیا۔ معلوم ہوا یہ تمام کرنٹ کی کار فرمائی تھی۔ یہی حال کارخانوں کا ہے، کپڑا بُنا جا رہا ہے، جیسے ہی بجلی غائب ہوئی تانے بانے بننے والی گلیں رُک گئیں، جونہی کرنٹ آیا ہر چیز پھر سے کام کرنے لگی۔ آج کا انسان ان روز مرہ کے مشاہدات کے پیشںِ نظر واقعہ معراج کی روایات کی صداقت کا ادراک کر سکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...