بچے اور کتابیں

بچے اور کتابیں

بچوں کے لئے اچھی کتاب سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے۔کتاب ایک خاموش استاد کی حیثیت رکھتی ہے جس کے اندر اچھے مضامین، اچھی کہانیاں، معلوماتی باتیں اور عمدہ تصاویر ہوتی ہیں، جنہیں بچے بغیر استاد کی مدد کے پڑھ سکتے ہیں اور بچے اپنے آپ پڑھ کر زیادہ اچھی طرح سیکھ سکتے ہیں۔

ایک اچھی کتاب بچے کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس کے برعکس بُری کتاب سے یقیناًاسے نقصان پہنچتا ہے، لہٰذا بچے کے لئے کتابوں کے انتخاب میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں سب سے اہم چیز کتاب کا نفسِ مضمون ہے۔کوئی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی کتابیں دے جن میں کسی قوم یا کسی مذہب کا تمسخر اُڑایا گیا ہو۔ اس میں تہذیب سے گری ہوئی کہانیاں درج ہوں یا وہ علمی ادبی افادیت سے قطعاعاری ہو،بلکہ بچے کو ایسی کتابیں مہیا کرنی چاہئیں، جن کے مطالعہ سے نہ صرف اس کے علم میں اصافہ ہو، بلکہ اس میں وسیع النظری اور اونچی سطح پر سوچنے کی صلاحیت پیدا ہو۔

کئی دوسرے پہلوؤں سے بھی بچے کے لئے اچھی کتاب کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔مثلاً یہ دیکھا جائے کہ کتاب کا لکھنے والا کون ہے۔بچوں کے جانے پہچانے اور مقبول ادیب کے نام سے بھی کتاب کی افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ناشر کا نام بھی کتاب کے متعلق فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔بچوں کی کتابیں شائع کرنے والے مشہور اداروں سے ہمیشہ اچھی کتاب ہی کی توقع ہونی چاہیے۔ان باتوں کے علاوہ اچھا کاغذ، اچھی کتابت، اچھی چھپائی اور دیدہ زیبی بھی اچھی کتاب کی خصوصیات ہونی چاہئیں، جس گھر میں کوئی بچہ تعلیم پا رہا ہو۔وہاں کتابوں کا ہونا ضروری ہے۔درسی کتابوں کے علاوہ بچے کو ایسی کتابیں بھی مہیا کرنی چاہئیں جن سے زندگی کے مختلف موضوعات کو سمجھنے اور جاننے میں اسے مدد مل سکے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...