ٹیلی فون بند، حربیار اور برہمداغ بگٹی نامعلوم مقام پر منتقل

ٹیلی فون بند، حربیار اور برہمداغ بگٹی نامعلوم مقام پر منتقل
ٹیلی فون بند، حربیار اور برہمداغ بگٹی نامعلوم مقام پر منتقل

  


لندن (ویب ڈیسک)  اخبار  'خبریں' کے مطابق  بلوچ باغی سرداروں حربیار مری اور برہمداغ بگٹی نے اچانک اپنے موبائل فون بند کردئیے ہیں اور لندن میں ان کی رہائش گاہوں سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ وہ کسی پر اسرار مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔ تاہم میڈیا والوں کا خیال ہے کہ وہ گھروں ہی میں ہیں لیکن ظاہر یہی کررہے ہیں کہ وہ موجود نہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی اخبارات میں یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاوق کے دو قاتلوں کے نام منظر عام پر آئے اور ایم کیو ایم سے ان کے تعلق کا اعتراف کرنے والے ملزم معظم علی خان نے جو نائن زیرو کے علاقے سے گرفتار کئے گئے، تسلیم کرلیا ہے کہ دونوں قاتلوں کو انہوں نے لندن کیلئے ویزے دلوانے تھے اور انہوں نے لندن پہنچ کر عمران فاروق کے قتل کی اطلاع سب سے پہلے معظم علی خان کو دی تھی اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے پاکستانی وزارت داخلہ پر یہ دباﺅ بڑھ گیا تھا کہ پاکستان ان دونوں قاتلوں قاتلوں کو برطانیہ کے حوالے کرے۔ اس ضمن میں برطانوی ہائی کمشنر کی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور یہ خبریں بھی آچکی ہیں کہ پاکستان نے برطانیہ سے ان دونوں مبینہ قاتلوں کے بدلے میں لندن سے دونوں بلوچ باغی سرداروں ہربیار اور برہمداغ کو مانگا ہے۔

تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں بلوچ سردار جنہوں نے برطانوی حکومت سے سیاسی پناہ طلب کررکھی ہے، صرف پاکستان ہی کے نہیں، بھارت کے پاسپورٹ ہولڈرز بھی ہیں اور اب ان کے پاس پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی شہریت ہے اور عارضی طور پر وہ برطانیہ کی پناہ میں ہیں لہٰذا ان کی پاکستان کی وزارت داخلہ کو واپسی میں قانونی مشکلات درپیش ہیں۔ یہ معاملہ اگرچہ لٹکا ہوا ہے اور اس پر جلد ہی کوئی فیصلہ متوقع ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لندن میں دونوں بلوچ باغی سردار اچانک سیاسی منظر نامے سے غائب ہوگئے ہیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ لندن پولیس ان کی نقول و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور بالخصوص جب سے پاکستان نے انہیں عمران فاروق کے قاتلوں کے بدلے میں طلب کیا ہے ان کی خفیہ طور پر نگرانی ہورہی ہے۔ البتہ وہ میڈیا سے گریز کررہے ہیں اور کسی سوال کا جواب دینے سے پرہیز کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ دریں اثناءپاکستانی حکومت نے برطانوی پولیس کی ایک ٹیم کو معظم علی خان سے جو کراچی میں پولیس کی تحویل میں ہیں، پوچھ گچھ کرنے کی اجازت دے دی ہے اور جلد ہی اس بات کا بھی فیصلہ متوقع ہے کہ آیا معظم علی خان کو بھی برطانیہ کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں کیونکہ اس نے عمران فاروق قتل کیس میں سہولت کار ہونے کا اعتراف کرلیا ہے اور اس کی ویڈیو پر اعترافی بیان برطانوی حکومت کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...