شیخ مجیب نے 6نکات سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی, منیر احمد منیر کی نئی کتاب میں انکشاف

شیخ مجیب نے 6نکات سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی, منیر احمد منیر کی نئی کتاب میں ...
شیخ مجیب نے 6نکات سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی, منیر احمد منیر کی نئی کتاب میں انکشاف

  


لاہور (ویب ڈیسک) قیام پاکستان کو ناممکن بنانے کیلئے مولانا ابوالکلام آزاد نے آخری انگریز وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن کو تجویز دی کہ اگر وہ تقسیم بنگال کا اعلان کردے تو بنگالی مسلمان مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور پاکستان وجو د میں نہیں آسکے گا لیکن انگریز حکمرانوں اور ہندو کانگریس کے تقسیم بنگال پر اٹل رہنے کے باوجود بنگالی مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ نہ چھوڑا اور آدھے بنگال کو ہی پاکستان کو حصہ بنانے کے حق میں ووٹ دیا یوں مولانا ابو الکلام آزاد کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی۔

بنگال ہی نہیں پاکستان کے بارے میں مولانا آزاد کی ہر پیش گوئی کا جواب مکتبہ آتش فشاں 78 ستلج بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے تحت مصنف منیر احمد منیر کی تازہ تصنیف ’’مولانا ابوالکلام آزاد پاکستان۔ ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط‘‘ میں تفصیل سے دیا گیا ہے ۔ 1946 میں پاکستان کے متعلق مولانا آزاد کی پیش گوئیوں پر محیط آغا شورش کاشمیری نے جو انٹرویو کیا تھا وہ حال ہی میں پاکستان کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے روزنامہ جنگ اور ڈیلی نیوز میں پانچ اقساط میں دوبارہ شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مولانا الکلام آزاد کی پاکستان کے بارے میں ہر پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ہے۔تقریباً تین سو صفحات اور نایاب وتاریخی تصاویر پر مبنی تصنیف مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان۔

ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط‘‘ میں مصنف منیر احمد منیر نے مولانا کی پیش گوئیوں کا تاریخی حوالوں، شواہد اور ریکارڈ کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہر پیش گوئی کو غلط قرار دیا۔ مولانا آزاد نے اس انٹرویو میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ بنگالی بیرونی قیادت قبول نہیں کرتے اسی لئے مسٹر اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف بغاوت کردی تھی۔

مصنف منیر احمد نے تاریخی حوالوں سے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسٹر اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی تھی۔ مصنف منیر احمد منیر نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قائداعظم سہروردی پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ مصنف نے اپنی تصنیف میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب انگریز حکمران اور ہندو کانگریس مولانا آزاد کی تجویز پر تقسیم بنگال پر اٹل رہی تو قائداعظم نے تجویز دی کہ تقسیم کرنے کی بجائے متحدہ بنگال کو ایک تیسرے ملک کے طور پر آزاد کردیا جائے لیکن ان کی یہ تجویز نہ مانی گئی۔

مصنف نے لکھا ہے کہ بنگال کے پہلے غیر بنگالی مگر مسلمان حکمران سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب خاں تک بنگالیوں نے کسی بھی حکمران کو اس لئے مسترد نہیں کیا کہ وہ غیر بنگالی تھا حتیٰ کہ 6نکات پیش کرنے کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے صدر جنرل ایوب خاں کو پیش کش کی کہ آپ 1962ء کے آئین میں ترمیم لے آئیں کہ ایک بار صدر پاکستان مغربی پاکستان سے ہو گا اور ایک بار مشرقی پاکستان سے۔

اس ترمیم کے بعد میں 6نکات سے دستبردار ہو جاؤں گا۔ مصنف نے مولانا کی اس پیش گوئی کے رد میں لکھا ہے کہ 1946 ء میں جب مولانا نے یہ انٹرویو صرف چار مسلمان ملک آزاد تھے، سعودی عرب ایران اور افغانستان میں بادشاہت تھی اور ترکی میں جمہوریت ، باقی سارا عامل اسلام برطانیہ ، فرانس، ہالینڈ وغیرہ کی غلامی میں تھا۔

پاکستان نہ بنتا تو ان ممالک میں صرف آقاؤں کی تبدیلی ہوتی۔ جبکہ مولانا آزاد اپنے انٹرویو میں دو قومی نظریے کو ایک پامال بحث قراردیتے ہیں لیکن کئی جگہ دو قومی نظریے کی حقیقت کو تسلیم بھی کرتے ہیں اس قسم کی کئی تضاد بیانیوں کا کتاب میں تاریخی حوالوں اور ریکارڈ سے بھرپور نوٹس لیا گیا ہے۔

پارٹیشن پلان کی منظوری یا نامنظوری کے لئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اس میں مولانا نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ تقسیم عارضی ہے، جو صوبے ہندوستان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے وہ بہت جلد ہندوستان میں واپس آجائیں گے مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی۔

ایسٹ پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے مصنف کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت کی دونوں سپر پاورز امریکہ اور سوویت یونین کا ایجنڈا تھا، اس میں نہ بنگالیوں کی خواہش کا دخل تھا نہ پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں کا۔ مولانا آزاد نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا اس کے جواب میں مصنف نے لکھا ہے کہ 2012۔13 تک پاکستان کے غیر ملکی قرضے ساٹھ بلین ڈالر تھے جبکہ بھارت کے 390 بلین ڈالر تھے۔

مولانا نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ اس کے جواب میں کتاب مذکور میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار ہے جس کے 29 صوبوں میں سے 14 میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔

مولانا آزاد نے اپنی ایک پیش گوئی میں یہ بھی کہا ہے کہ بعد کی نسلوں کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کی صورت میں انہوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اس کے جواب میں مصنف منیر احمد منیر نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ زمانہ قدیم میں برصغیر ہند اور سندھ نام کے دو الگ الگ ملکوں پر مشتمل تھا، ملک سندھ میں پورا پنجاب، موجودہ سندھ، سرحد ، بلوچستان اور کشمیر شامل تھے۔

مزید : لاہور


loading...