محصولات کی وصولی بدستور تشویش کا باعث ہے:سٹیٹ بینک

محصولات کی وصولی بدستور تشویش کا باعث ہے:سٹیٹ بینک
محصولات کی وصولی بدستور تشویش کا باعث ہے:سٹیٹ بینک

  


کراچی(ویب ڈیسک)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جارہ کردہ اعلامیہ کے مطابق مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں معیشت نے کچھ دشواریوں کا سامنا کیا تاہم مالی سال 15ء کی پہلی ششماہی کا اختتام کچھ قابل ذکر مثبت پہلوؤں کے ساتھ ہوا۔

بینکاری نظام پر کم دباؤ کے باعث بہتری دیکھی گئی تاہم محصولات کی وصولی بدستور تشویش کا باعث ہے۔ یہ بات بینک دولت پاکستان کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی دوسری سہ ماہی رپورٹ میں کہی گئی جو آج پارلیمنٹ میں پیش ہوئی۔ ان مثبت پہلوؤں میں پورے عشرے کی پست ترین مہنگائی، بجٹ خسارے کا قابو میں رہنا نیز مالکاری آمیزے (financing mix) میں بہتری، توازن ادائیگی میں تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی بنا پر بہتری، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور شرح مبادلہ میں استحکام شامل ہیں۔

تاہم رپورٹ کے مطابق مسلسل ساختی کمزوریاں، خصوصاً توانائی کی قلت، بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کی پست سطح اور ٹیکس جی ڈی پی کی کم شرح ابھی تک ملک کی مجموعی معاشی کارکردگی پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے اور معیشت کو بلند نمو کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے بہتر مجموعی نظم و نسق کے ساتھ جرأت مندانہ پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔

رپورٹ میں معیشت کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے جن میں کچھ اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔حقیقی پیداوار کے شعبے کے بارے میں ابتدائی معلومات سے معیشت کی ملی جلی تصویر ابھرتی ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار کے امکانات اور چھوٹی فصلوں میں تھوڑی بہتری سے کپاس اور گنے کی کارکردگی کا اثر زائل ہونے کا امکان ہے۔ تاہم خام مال (خصوصاً کھاد) کی بلند لاگت اور نقد آور فصلوں کی پیداواری قیمتوں میں کمی سے کاشتکاروں کی آمدنی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب صنعتی شعبہ توانائی کے مسائل سے دوچار ہے جیسا کہ بڑے پیمانے کی اشیا سازی(LSM) میں 2.3 فیصد کی معتدل نمو سے ظاہر ہوتا ہے۔ شعبہ خدمات میں بعض ذیلی شعبوں (جیسے تھوک اور خردہ تجارت) کے لیے اپنا شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے جبکہ بعض (جیسے بینکاری) کی کارکردگی اچھی ہوسکتی ہے۔

کمرشل بینکوں نے طویل مدتی تمسکات کی بنیادی نیلامی میں خوب حصہ لیا کیونکہ انہیں پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی توقع تھی اور انہوں نے پی آئی بیز پر بھرپور منافع کا بھی فائدہ اٹھایا۔ حکومت نے بھی اپنے قرضے کا خاکہ عرصیت (maturity profile) طویل تر کرنے اور اسٹیٹ بینک سے اپنے کچھ قرضے کو تبدیل کرنے کے لیے ان نیلامیوں میں بھاری رقوم قبول کیں۔

اس سے حکومت کو موقع ملا کہ سٹیٹ بینک سے اپنے قرض کو اس حد کے اندر لے آئے جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق ہوا تھا اور مرکزی بینک سے صفر خالص سہ ماہی قرض گیری کو پورا کرسکے۔ پالیسی کے حوالے سے پست گرانی کے منظر نامے نے مرکزی بینک کو نومبر 2014ء اور اس کے بعد مسلسل زری پالیسی اعلانات میں شرح سود کم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ سٹیٹ بینک اب تک پالیسی ریٹ کو ایک دہائی کی پست ترین سطح 8.0 فیصد پر لاچکا ہے۔

سٹیٹ بینک نے ان فیصلوں کے ساتھ بازارِ زر کے سودوں کے ادخالات (OMO injections ) بھی بڑھائے۔ملک کی مالیاتی کارکردگی کے لحاظ سے سال کی پہلی ششماہی کے دوران بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی فیصد کے لحاظ سے 2.2 فیصد تھا جو گذشتہ برس کی سطح سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔ حکومت (وفاقی و صوبائی) اس مدت کے دوران اخراجات میں نمو کو صرف 4.8 فیصد تک رکھ سکی جو ایک سال قبل 10.7 فیصد تھی۔

یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ جاری اخراجات پر قابو پا لیا گیا اور ترقیاتی اخراجات میں بلند نمو ہوئی۔ بجٹ خسارے کی مالکاری کے آمیزے میں بھی بیرونی وسائل کی دستیابی کی بلند سطح اور بینکاری نظام پر کم دباؤ کے باعث بہتری دیکھی گئی۔اعلامیہ کے مطابق تاہم محصولات کی وصولی بدستور تشویش کا باعث ہے۔ سال کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی محاصل (وفاقی و صوبائی ) میں صرف 5.0 فیصد نمو ہوئی جو گذشتہ برس 13.9 فیصد تھی۔

اگرچہ حکومت نے متعدد ٹیکس اقدامات متعارف کرائے تھے تاہم ایف بی آر کے محاصل میں اس مدت کے دوران صرف 13.6 فیصد اضافہ ہو سکا۔ اس کا ایک جزوی سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہو سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر پاکستان کے بیرونی شعبے کو تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ پہنچا۔ اس کے ساتھ دوسری سہ ماہی کے دوران ترسیلات زر میں بلند نمو سے جاری حسابات کا خسارہ کم کرنے میں مدد ملی۔

عالمی منڈی میں سکوک کے اجرا، آئی ایم ایف پروگرام کے سہ ماہی جائزوں کی کامیاب تکمیل اور عالمی مالی اداروں (آئی ایف آئیز) کے قرضوں کے باعث مالی سال 15ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران جاری حسابات کے خسارے کی مالکاری (financing) آسان تھی۔ ان رقوم سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر اطمینان بخش سطح تک پہنچ گئے۔ اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک کے سیال ذخائر تین مہینوں سے زیادہ کی درآمدی اشیا کا احاطہ کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ مہینوں کے دوران ملک کے بعض شعبوں میں مثبت صورتحال کا تسلسل برقرار رہے گا۔ مالی سال 15ء کی دوسری ششماہی کے دوران زرمبادلہ کی بعض رقوم موصول ہوئی ہیں جن میں اتحادی سپورٹ فنڈ، ایچ بی ایل کی بے سرمایہ کاری (divesture)، آئی ایم ایف سے رقوم کی موصولی شامل ہیں جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور دیگر ذرائع سے مزید رقوم ملنے کی توقع ہے۔ مزید برآں، امکان ہے کہ سال کے باقی حصے میں ترسیلات زر میں بلند نمو جاری رہے گی اور پورے سال کے لیے مقررہ ہدف سے تجاوز کر جائے گی۔

توازنِ ادائیگی میں اس اطمینان کے نتیجے میں امید ہے کہ شرحِ مبادلہ بھی مستحکم رہے گی، جس کے ساتھ ساتھ ایندھن کی کم قیمتیں مہنگائی کی توقعات کو کمزور کرتی رہیں گی۔ سٹیٹ بینک کے اندازے کے مطابق پورے رواں مالی سال کی اوسط گرانی 4 سے 5 فیصد تک رہے گی جبکہ ہدف 8 فیصد رکھا گیا تھا۔

مزید برآں، حقیقی جی ڈی پی میں نمو گذشتہ سال کی سطح سے بلند رہنے کی توقع ہے۔ خریف کی فصلوں کی سست کارکردگی کا ازالہ گندم کی بہتر فصل سے ہونے کی امید ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں پہلے سے زیادہ رقوم جاری کی ہیں جس سے تعمیرات کے شعبے میں بہتری آئے گی۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی کو درپیش مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں تاہم امکان ہے کہ بحیثیت مجموعی خدمات کا شعبہ گذشتہ سال کی نمو کی رفتار برقرار رکھے گا۔

مزید : بزنس


loading...