اسلام میں خارجیوں کی نشانیاں، خود بھی پڑھیں اور باقی لوگوں کو بھی بتائیں

اسلام میں خارجیوں کی نشانیاں، خود بھی پڑھیں اور باقی لوگوں کو بھی بتائیں
اسلام میں خارجیوں کی نشانیاں، خود بھی پڑھیں اور باقی لوگوں کو بھی بتائیں

  


لاہور(نیوزڈیسک)اسلام میں خوارج کی نشانیاں واضح طور پر بتائی گئی ہیں۔حال ہی میں معروف صحافی ہارون الرشید نے ایک کالم میں قارئین کو تاریخ کے اوراق میں سے ان نشانیوں کے بارے میں بتایا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ کا فرمان یہ ہے کہ خوراج ہمیشہ رہیں گے۔

اپنی شہرہ آفاق تصنیف، ”تلبیس ابلیس“ میں ابن جوزیؒ نے جلیل القدر صحابی حضرت ابن عباسؓ اور خوارج کا مکالمہ بیان کیا ہے۔ ابن جوزیؒ وہ ہیں، جن سے امام غزالیؒ نے فیض پایا۔

”حضرت علیؓ صفین سے واپس ہوکر کوفہ پہنچے تو خوارج آپ کے ساتھ شہر میں داخل نہ ہوئے۔ انہوں نے کوفہ کے قریب حرورا مقام میں اپنا جتھا جمایا، حتیٰ کہ وہاں بارہ ہزار خوارج جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ ”لا حکم الا للہ“۔ خارجی بہت عبادت کیا کرتے۔ مگر ان کا اعتقاد تھا کہ وہ لوگ علیؓ ابن عبی طالبس ے بڑھ کر عالم ہیں۔

ابن عباسؓ نے روایت کیا: ”جب خوارج الگ ہوئے تو ایک احاطہ میں جمع ہوئے اور وہ چھ ہزار تھے۔ سب نے اتفاق کیا کہ امیر المومنین علیؓ بن ابی طالب پر خروج کریں۔ لوگ ایک ایک دو دو برابر آتے اور امیر المومنین کو خبر دیتے۔ آپ فرماتے: ان کو چھوڑ دو۔ میں ان سے قتال نہیں کرتا جب تک وہ مجھ سے قتال نہ کریں۔ وقت قریب ہے کہ جب وہ لوگ خود ایسا کریں گے۔ پھر ایک روز میں نے آپ سے عرض کیا: اے امیرالمومنین نماز ظہر میں کچھ تاخیر کیجئے۔ میرا ارادہ ہے کہ خوارج میں جاکر ان سے گفتگو کروں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ان کی طرف سے آپ پر خوف ہے۔ میں نے عرض کیا: ااپ مجھ پر خوف نہ کیجئے اور میں ایک ملنسار شخص تھا، کسی کو ایذا نہ دیتا تھا۔ آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے بیش قیمت حُلہ پہنا اور روانہ ہو کر ان خارجیوں کے یہاں پہنچا۔ میں نے وہاں ایسی قوم کو دیکھا جن سے بڑھ کر عبادت کرنے والی قوم میں نے دیکھی نہ تھی۔

پیشانیوں پر سجدوں کی کثرت سے زخم تھے۔ ان کے بدن پر حقیق قمیصیں تھیں۔ ان کی ازاریں ٹخنوں سے بتہ اونچی تھیں۔ راتوں کو عبادت میں جاگنے سے ان کے چہرے خشک ہورہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں کہا کہ مرحبا اے ابن عباسؓ! میں نے کہا کہ میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار کے ہاں سے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کے داماد کے ہاں سے آیا ہوں۔ انہی لوگوں پر قرآن نازل ہوا ہے اور یہ لوگ قرآن کے معنی تم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میری گفتگو سن کر اُن میں سے کچھ نے کہا: یہ قریب میں سے ہے اور تم قریش سے مناظرہ مت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کے حق میں فرمایا ہے کہ: ”بل ھم قوم خصمون“ یعنی یہ لوگ جھگڑالو (حجت باز) ہیں۔ پھر دو تین آدمیوں نے کہا: نہیں بلکہ ہم ان سے مباحثہ کریں گے۔ تب میں نے کہا: تم لوگ وہ الزامات بیان کرو جو تم نے دامادِ رسول ﷺ اور مہاجرین و انصار پر لگائے ہیں۔ خوارج نے کہا وہ تین باتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ علیؓ نے خدا کو معاملے میں لوگوں کو ثالث بنایا۔ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: ”ان الحکم الا اللہ“ یعنی حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے۔ تو اس قول الہٰی کے بعد آدمی کو حکم سے کیا تعلق رہا۔ میں نے کہا: اگر میں تم پر کتاب الہٰی سے ایسی آیات تلاوت کروں جن سے تمہارا قول ٹوٹ جائے تو کیا تم اپنے قول سے توبہ کرلوگے۔ کہنے لگے کہ ہاں! میں نے کہا کہ اللہ نے ایک خرگوش کے معاملے میں جس کی قیمت چوتھائی درہم ہوتی ہے، دو مردوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے اور میں نے یہ آیت پڑھی: لاتقتلوا الصید وانتم حرم۔

ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں: آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم میں ایک قوم ایسی نکلے گی کہ ان کی نماز کے مقابلے میں تم اپنی نماز کو حقیر سمجھو گے اور ان کے روزے کے مقابلے میں اپنا روزہ۔ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔

اگر کسی نے جرم کیا مثلاً حالت احرام میں ایک خرگوش مارا تو فرمایا گیا کہ تم میں دو عادل مرد اس موقع پر جہاں جانور مارا ہے اس کی قیمت کا فیصلہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ نے عورت اور اس کے شوہر کے معاملے میں فرمایا: ”اگر تمہیں میاں بیوی میں ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھروالوں میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرادے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم اور پوری خبر والا ہے۔“ (سورة النسا: 35)

اب میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ بھلا مردوں کا حکم لگانا اپنے درمیان صلح اور خوں ریزی روکنے میں افضل ہے۔ تمہارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ علیؓ نے قتال کیا اور قیدی و غنیمت حاصل نہ کی۔ تو میں تم سے پوچھتا ہوں کہ (نعوذ باللہ) کیا تم ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو مملوکہ بناﺅ گے؟ واللہ اگر تم کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں ہیں تو تم اسلام سے خارج ہوئے۔ اللہ فرماتا ہے: ”پیغمبر ﷺ مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہین اور پیغمبر ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔۔۔“ پھر اگر تم کہو کہ ہماری ماں نہیں ہے تو تم اسلام سے خارج ہو۔ خوارج نے تسلیم کیا کہ ان کے اس اعتراض کا جواب بھی انہیں مل گیا۔ میں نے کہا کہ رہا تمہارا یہ اعتراض کہ علیؓ نے معاہدے کے وقت امیر المومنین کا لفظ اپنے نام سے مٹادیا تو میں تمہارے پاس ایسے عادل گواہ لاتا ہوں جن کو تم مانتے ہو۔ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا تو مشرکین مکہ کے سردار ابو سفیان صخربن حرب اور سہیل بن عمرو کے ساتھ صلح نامہ لکھوایا اور علیؓ سے فرمایا کہ لکھو: ”یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ اور۔۔۔۔“ تو مشرکوں نے کہا کہ واللہ ہم نہیں جانتے کہ آپ رسول اللہ ہیں اور اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو کبھی آپ سے قتال نہ کرتے۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”میرے رب تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں“ اور پھر فرمایا کہ اے علیؓ! اس کو مٹادو۔ رسول اللہ ﷺ علیؓ سے بہتر ہیں، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ محو کروادیا۔“ ابن عباسؓ کے اس مکالمے کے نتیجے میں خوارج میں سے دو ہزار آدمی توبہ کرکے واپس آئے اور باقی اپنی گمراہی پر مارے گئے۔

جنب الازدیؓ نے کہا کہ جب ہم نے حضرت علیؓ کے ساتھ خوارج پر چڑھائی کی اور ان کی لشکرگاہ کے قریب پہنچے تو ان کی تلاوت قرآن کی آوازیں اس کثرت سے آتی تھیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔

ایک روز خوارج راستے میں جاتے تھے کہ عبداللہؓ بن خباب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عبداللہؓ کو گرفتار کرلیا اور کہا کہ تم نے اپنے باپ سے کوئی حدیث سنی ہو تو ہم سے بیان کرو۔ عبداللہؓ نے کہا کہ ہاں۔ رسول اللہ ﷺ سے وہ روایت کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ایسے فتنے کا ذکر کیا جس میں بیٹھ جانے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا بہ نسبت چلنے والے کے بہتر ہوگا اور چلنے والا بہ نسبت دوڑنے والے کے بہتر ہوگا۔ اگر تجھ کو یہ فتنہ پہنچے تو تجھے چاہیے کہ مقتول ہوجائے۔ خوارج نے انہیں نہر کے کنارے کھڑا کرکے گردن ماردی چنانچہ ان کا خون نہر میں اس طرح رواں ہوا جیسے جوتی کا تسمہ ہوتا ہے۔ ان کی بیوی حاملہ تھیں، ان کا پیٹ چاک کردیا۔ یہی قاتل ایک باغ میں پہ نچے، ان میں سے ایک نے وہاں گرا ہوا پھل اٹھا کر کھانا چاہا تو دوسرے نے کہا کہ بے حلت اور بغیر داموں کے اس کو کھاتا ہے۔ اس نے فوراً منہ سے نکال پھینکا۔ ان جاہلوں کی کم بختی یہ تھی کہ ایک پھل کا یہ لحاظ اور عبداللہؓ بن خباب کا خون بہانے میں اس قدر بے باکی۔

ابن جوزی لکھتے ہیں کہ خوارج لڑائی شروع ہوتے وقت ایک دوسرے کو وعظ کرتے تھے کہ ”اپنے رب سے ملنے کے لئے آراستہ ہو اور چلو جنت کو چلو“۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...