بھارت میں مسلمان طالبہ کو حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا گیا

بھارت میں مسلمان طالبہ کو حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا گیا
بھارت میں مسلمان طالبہ کو حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا گیا

  


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے شہر لکھنو کے ایک سکول میںفرحین خان فاطمہ طالبہ کو سکول میں حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا تھا تاہم سکول انتظامیہ کو اب سرکاری انکوائری کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔

بھارتی اخبار کے مطابق سینٹ جوزف سکول کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل اگروال کا کہناہے کہ سکول کا یونیفار م ہے اور اگر یہ مذہبی لباس پہننا چاہتی ہیں تو کسی مدرسے یا اسی طرح کے سکول میں داخلہ لینا چاہیے ۔انیل اگروال کا کہنا ہے کہ فرحین خا ن اور ان کے والدین کو اسکول کے ڈریس کوڈ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھالیکن فرح خان اور ان کی والدہ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاہے اور فاطمہ کی والدہ کا کہنااہے کہ داخلے کے پورے عمل میں میں فرحین نے حجاب پہننے ہوئے تھیں اور داخلہ فارم پر جو تصویر لگائی گئی ہے اس میں بھی فرحین نے حجاب پہنا ہواہے اس وقت کسی نے بھی نہیں کہا کہ یہاں حجاب پہن کرکلاس میں بیٹھنا منع ہے ۔

لکھنو¿ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راج شیکھر نے ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ اور ضلع اسکول انسپکٹر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں 19 مئی تک اس کی رپورٹ جمع کرائی جائے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے یہ حکم فرحین کی والدہ کی جانب سے ایک درخواست موصول ہونے کے بعد دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سینٹ جوزف اسکول کی انتظامیہ ان کی بیٹی کو کلاس میں بیٹھنے سے روک رہی ہے۔فرحین کا کہنا ہے کہ 6 مئی کو ان کا اس اسکول میں داخلہ ہوا تھا، جب وہ 7 مئی کو اسکول گئیں تو انہیں کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

ان کے بقول انہوں نے اس روز سارا وقت لائبریری میں گزارا۔ 8 مئی کو بھی انہیں کلاس میں بیٹھنے نہیں دیا گیا، لیکن اس مرتبہ انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے والدین کو فون کرکے بلوائیں۔وقار فاطمہ نے بتایا کہ پرنسپل نے تحریری صورت میں اسکول کا ڈریس کوڈ فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مزید : انسانی حقوق


loading...