این اے 122دھاندلی کیس :اعتراض کے باوجود الیکشن کمیشن نے ناقص سیاہی استعمال کی ،انگوٹھوں کی تصدیق نہیں کرسکتے ،چیئرمین نادرا

این اے 122دھاندلی کیس :اعتراض کے باوجود الیکشن کمیشن نے ناقص سیاہی استعمال کی ...
این اے 122دھاندلی کیس :اعتراض کے باوجود الیکشن کمیشن نے ناقص سیاہی استعمال کی ،انگوٹھوں کی تصدیق نہیں کرسکتے ،چیئرمین نادرا

  


لاہور(نامہ نگار)حلقہ این اے122 دھاندلی کیس میں چیئرمین نادراعثمان مبین اورڈی جی نادراویئرہاو ¿س مظفرعلی نے ٹربیونل میں پیش ہوکرتحریری جواب داخل کردیا ،افسران نے رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ ناقص سیاہی کے باعث انگوٹھوں کے نشان قابل تصدیق نہ تھے،سماعت کے دوران ڈی جی نادرا نے تصدیق کی ہے کہ سیاہی ناقص استعمال کی گئی ہے، نادرا کے منع کرنے کے باجودالیکشن کمیشن نے وہی سیاہی استعمال کی،انہوں نے کہا کہ این اے 122 کی رپورٹ قانون کے تحت ذمہ داری اور غیر جانبداری سے تیار کی گئی ہے اورر اس رپورٹ کے تمام اعداد و شمار درست ہیں۔نادرا کی جانب سے پی پی ایک 147کی فرانزک رپورٹ 25مئی کوالیکشن ٹربیونل میں پیش کی جائے گی جس کے بعد دوبارہ چیئرمین نادراعثمان مبین اورڈی جی نادراویئرہاو ¿س مظفرعلی الیکشن ٹربیونل میں پیش ہوں گے ۔الیکشن ٹربیونل میں گزشتہ روز چیئرمین نادرااورڈی جی نادراویئرہاؤس پیش ہوئے ،انہوں نے این اے 122کے حوالے سے نادرارپورٹ کی تصدیق میں اپنے تحریری بیانات جمع کرائے،ان کاکہناتھا کہ رپورٹ مستندہے جبکہ الیکشن میں ناقص سیاہی استعمال ہونے کے سبب بہت سے انگوٹھوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ،عمران خان کے وکیل انیس علی ہاشمی کی جانب سے استدعاکی گئی کہ وہ قومی اورصوبائی حلقے پرایک ساتھ نادراحکام سے جرح کرناچاہتے ہیں اس لئے نادراسے پی پی 147کی رپورٹ بھی جلدمنگوائی جائے،چیئرمین نادرانے جواب دیاکہ وہ 25مئی کوصوبائی حلقے کی رپورٹ بھی پیش کردیں گے جس پر الیکشن ٹربیونل نے کیس کی مزید سماعت 26مئی تک ملتوی کردی ہے ۔
میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کاکہناتھا کہ ناقص سیاہی استعمال کرکے منظم دھاندلی کرائی گئی ہے یہ بے ضابطگیاں نہیں ہیں۔ سپیکرقومی اسمبلی سردارایازصادق کے بیٹے علی ایازکاکہناتھا کہ عمران خان دھاندلی کے بے بنیادالزامات لگارہے ہیں ،وکلاءنے جرح کرنے کی بجائے اب پی پی 147کامعاملہ کھڑاکردیاہے،اب کون سا جن نکلنا باقی ہے جس کا انتظار ہے ،جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں ،لگتا ہے کہ اب پھرنو بال پرنوبال کرانے والوں کو کسی امپائر یا اشارے کا انتظارہے۔

مزید : لاہور


loading...