آمریت اور ترقی (2)

آمریت اور ترقی (2)
 آمریت اور ترقی (2)

  

تمام فلسفیوں نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ اگر غلام قوموں کے رہنماؤں اور لیڈروں میں مردانگی کا ذرابھی جوہر موجود ہو، حمیت کی ایک چنگاری بھی موجود ہو، انسانی فرائض کا ذرا سا بھی احساس ہو تو ان کاسب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ عقلوں پرسے جہالت کے دبیز پردے ہٹانے کی کوشش کریں تاکہ علم ودانش کا سورج طلوع ہو۔ نشوونما کی راہ کھلے اور خرافات و توہمات کی کالی گھٹائیں چھٹ جائیں۔ جو بزدلی اور پست ہمتی کا منحوس مینہ برساتی ہیں۔ایسی آمریت جو گراتے گراتے قوم کوتباہ وبرباد کردے اور خود بھی اس کے ساتھ دفن ہوجائے، کئی مثالیں سابقہ اور حالیہ زمانوں میں افراد سے ملتی ہیں، لیکن وہ ترقی جس کی طلب شروع سے انسانیت کو ہے اور جوقدرت نے اس کے لئے مقدر کردی ہے، اس کی اب تک کوئی مثال کسی عہد آمریت سے نہیں ملتی۔ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے ایسی مثالی جمہوریت قائم کی ہو جس پر آمریت کی پرچھائیں تک نہ پڑی ہو۔ گویا حکمت الٰہی کے نزدیک اب تک انسان اس قابل نہیں ہوا کہ افراد اور جماعتیں محبت ومساوات کی زندگی بسر کریں اور اس طرح عالمگیر رفعت اور برادری کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوسکیں۔

یہاں ترقی کے اس نقط�ۂ عروج کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، جہاں تک قومیں پہنچ چکی ہیں۔قوموں کی تاریخ سے بے خبر ناظرین اور آمریت زدہ ملکوں کے باشندے میری بات سمجھنے سے قاصر ہوں گے اور شبہ کریں گے جس پر انہیں ہرگز قصور وار نہیں ٹھہراؤں گا، کیونکہ وہ معذور ہیں۔ ان کی مثال اس مادر زاد اندھے کی ہے جو نظر فریب نظاروں کے لطف کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔ عادل حکومتوں کے تحت افرادی آزادی وخودمختاری کو اتنی ترقی حاصل ہوئی ہے کہ انسان اس دنیا میں اس زندگی کا مزا پانے لگا ہے جو کئی اعتبار سے اس زندگی کے مشابہ ہے، جس کا مذہب نے اہل جنت سے اس دنیا میں وعدہ کیا ہے۔ درحقیقت آزاد ملکوں میں ہر شخص اسی طرح کی زندگی بسر کرتا ہے، گویاہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنی قوم اور وطن سے کبھی جدا نہ ہو گا، وہ ہمیشہ خوش و خرم اور اپنی سب امنگوں اور آرزوؤں کے انجام سے مطمئن رہتا ہے۔

-1 اسے اپنے جسم و روح کی سلامتی کے بارے میں اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ حکومت اس کی محافظ ہے اور سفر وحضر کسی حال میں بھی اس کی حفاظت سے غافل نہیں۔

-2 وہ جسمانی و روحانی خوشیوں کی پائیداری پر مطمئن ہوتا ہے، کیونکہ حکومت اس کی جسمانی ذہنی وعقلی ضروریات کی کفالت کرتی ہے، بلکہ اس کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ یہ صاف ستھری سڑکیں، شہری آسائشیں،تفریح گاہیں، باغ کلب اور درس گاہیں غرض کہ جو کچھ ہے خاص اسی کے لئے بنایاگیاہے۔

-3 وہ اپنی آزادی سے متعلق اس طرح مطمئن ہوتا ہے، گویا روئے زمین پر تنہا وہی معرض وجود میں آیا ہے۔ اس کا کوئی مدمقابل ہے،نہ اس کے شخصی معاملات و افکاراور مذہب میں کوئی دخل دینے والا ہے۔

-4 اسے اپنی طاقت پر اطمینان ہوتا ہے، گویا وہ ایک زبردست حکمران ہے جس کا کوئی حریف نہیں اور وہ اپنی قوم میں اپنے مفید نظریات کو کھلے عام پھیلا سکتا ہے۔

-5 وہ اپنی شخصی زندگی پر مطمئن ہوتا ہے، گویا وہ ایک ایسی قوم کا فرد ہے جس کے تمام افراد کی حیثیت ایک جیسی ہے، نہ اسے کسی پر فوقیت حاصل ہوتی ہے، نہ اس پر کسی کو امتیاز۔ ہاں اگر کوئی امتیاز ہے تو صرف اخلاق اورحسن عمل کا ہے۔

-6 وہ عدالت کی طرف سے اس طرح مطمئن ہوتا ہے، گویا حقوق کا ترازوخود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، جس سے وہ سب کو مساوی تولتا ہے اسے کسی طرف سے جبر وستم کا ڈر نہیں، کسی حق تلفی کا خوف نہیں، حتیٰ کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر اس میں حکمرانی کی قابلیت ہوئی تو وہ حکمران ہوسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس پر یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر جرم کا ارتکاب کرے گاتو ضرور سزا پائے گا۔

-7 اسے اپنے مال ودولت کی طرف سے مکمل اطمینان ہوتا ہے،گویا جو کچھ اس نے جائز طریقے سے حاصل کیا ہے، چاہے وہ زیادہ ہو یا کم، خدا نے صرف اسی کو عطا کیاہے اور کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ دوسرے کے مال پر نظررکھے گا تو اس کی آنکھ بھی نکال لی جائے گی۔

-8 اسے اپنی عزت وآبرو کے بارے میں بھی پورا پورا اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ قانون اس کا پشت پناہ ہے اور اسے قوم کی حمایت حاصل ہے جواس کی عزت پر حرف آنے پر خون بہادے گی، اس لئے اس کا سر عزت نفس کے احساس سے ہمیشہ بلند رہتا ہے اور ذلت وخواری سے جھکنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔

کبھی خاندان کی حالت ترقی کرتے کرتے اس منزل پر پہنچ جاتی ہے کہ اس کا ہرفرد اپنے آپ کو قومی جسم کا ایک زندہ اور لازمی عضو سمجھنے لگتا ہے، مہذب قوموں کے خیال میں قوم ایک زندہ جسم ہے اور افراد اور گھرانے اس کے اعضا ہیں یا وہ ایک ایسا شہر ہے جو افراد اور خاندانوں میں اس طرح بٹا ہواہے جس طرح شہر محلوں اور گھروں میں منقسم ہوتا ہے، جس طرح ہر عمارت کی تعمیرکا کوئی مقصد ہونا چاہیے،ورنہ وہ بیکار محض ہے اور اس کا پیوند زمین کردینا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح قوم کے افراد کی زندگی کابھی کوئی نصب العین ہونا چاہیے۔ ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ قومی زندگی کے ارتقا اور اثبات کی خاطر اپنے آپ کو کسی نہ کسی مقصد کے لئے تیار کرے، کیونکہ جو کسی کام کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا یا بے کار رہنا چاہتا ہے، بلکہ کسی حقیقی سبب کے بغیر دوسروں پر بوجھ بننا چاہتا ہے،وہ نہایت پست سرشت اور موت کا مستحق ہے نہ کہ ہمدردی اور رحم کا، کیونکہ اس کی حیثیت جسم کی غلاظت اور مردہ ناخن کی سی ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہی ضروری ہے۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -