’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ کی تقریب رونمائی

’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ کی تقریب رونمائی
’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ کی تقریب رونمائی

  

قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں۔

ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر6 ستمبر 1965ء کو پاکستان پر شب خون مارا۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا، لیکن ہمیشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔

حال ہی میں اس موضوع پرلکھی گئی الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ کی تقریب رونمائی میں مصنف نے کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والی قوتیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں، کیونکہ پوری قوم اور نوجوان نسل میں جذبہ حب الوطنی کی کمی نہیں۔

ہم نسل در نسل دشمن کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اوروسائل کی کمی کے باوجود دشمن کو ناکوں چنے بھی چبوائے ہیں۔

تقریب میں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدارت سابق وفاقی وزیر قانون جسٹس(ر) فقیرحسین کھوکھر نے کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب خان اور آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر(ر) عامر تھے۔

مقررین میں دلاور چودھری، بشریٰ رحمان، کرنل(ر) شہباز، پروفیسر شبیر، میاں سیف الرحمان، تنویرعباس تابش اور جاوید نواز شامل تھے۔

سابق وفاقی وزیر قانون جسٹس(ر) فقیرحسین کھوکھر نے کہا ہے کہ 1965ء کی جنگ کے دورن پاکستانی ایک قوم تھے، جبکہ آج پاکستانیوں کو ایک قوم کہنا مشکل ہے۔

پاکستانی قوم کے منتشر ہو جانے کے نتیجے میں 1965ء کی شاندار فتح کے بعد دسمبر 1971ء کا یوم سیاہ دیکھنا پڑا۔ میجر(ر) عامر نے کہا کہ فوج پاکستان کی محافظ ہے، لیکن آج کل اسے خلائی مخلوق کہا جا رہا ہے۔ بلاشبہ فوج سے بھی غلطیاں ہوئیں، لیکن دفاع پاکستان کی ذمہ دار فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی طور بھی پر مناسب نہیں ہے۔

روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے چیف نیوز ایڈیٹر دلاور چودھری نے کہا کہ الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ ایک تاریخی خزانہ ہے، جس سے نئی نسل نہ صرف اس زمانے کے حالات سے آگاہی حاصل کر سکتی ہے، بلکہ اس کتاب کے مختلف ابواب اس بات کے شاہد ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں ہمارے ہیروز نے محیرالعقول کارنامے سرانجام دیئے۔

پاکستان کومسائل سے نکالنے کے لئے جذبہ حب الوطنی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے،جس جذبے کے تحت 1965ء کی جنگ جیتی، اسی جذبے کے تحت ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں۔

پاکستانی قوم بحرانوں سے نکلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان پر جب بھی کوئی کڑا وقت آیا،قوم نے بھرپور اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ 1965ء کی جنگ میں طاقت کے نشے میں چور دشمن کا عزم خاک میں ملانے والی پاکستانی قوم دشمن کے خلاف آج بھی اتنی ہی متحد ہے، جتنی 1965ء کی جنگ میں تھی۔

آج پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور دشمن کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جنگ ستمبر کے 17 دنوں میں پوری قوم نے اپنے مادر وطن کے محافظوں کے ساتھ پورے عزم اور یقین کے ساتھ جاگ کر وقت گزارا۔

ان 17 دنوں نے پوری قوم میں اتحاد و یک جہتی کی نئی روح پھونک دی، جس نے پوری قوم کو یک جان کردیا۔ ہر پاکستانی جذبہء جہاد سے سرشار تھا اور جنگ ستمبر کو حق و باطل کا معرکہ سمجھتا تھا۔

ہر شخص جذبہء حب الوطنی سے سرشار تھا، ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر کدورتیں ختم کردیں۔ نہ تو اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

بلیک آؤٹ ہوئے، لیکن نہ تو چوری چکاری ہوئی اور نہ ہی کوئی ڈاکہ پڑا، حتیٰ کہ لڑائی جھگڑے کا ایک مقدمہ بھی درج نہ ہوا۔ ہر شخص قربانی کا پیکر بن گیا۔

چھوٹے چھوٹے بچوں نے ’’ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم‘‘ میں لاکھوں روپے جمع کرائے۔ جس طرح فوجی جوانوں نے دن رات جاگ کر وطن کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی ،اسی طرح پوری قوم شانہ بشانہ ان کے ساتھ رہی۔

کھانے پینے اور ضرورت کی دیگر اشیا، محاذ جنگ پر اور ان کے مورچوں تک پہنچائیں۔ یہی وہ جذبہ تھا کہ ہندو دشمن کے دل میں بھارت کی تقسیم پر جو انتقام کی آگ تھی، وہ ٹھنڈی نہ ہوسکی اور وہ ناکامی کی صورت میں اس انتقام کی آگ کے شعلوں میں خود ہی جل کر بھسم ہوا۔آج ہمیں ایک نہیں، بلکہ پاک سرزمین پر بہت سے محاذوں پر کئی دشمنوں کا سامنا ہے۔

ہمیں جہالت کے خلاف جنگ کرنی ہے، غربت کا خاتمہ کرنا ہے، خوشحالی کے لئے جان لڑانی ہے۔معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے، مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہتھیار اٹھانے ہیں، آیئے ملک دشمن عناصر کی گھٹیا سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک ہوجائیں اور ارض پاک کی سلامتی کے لئے تجدید عہد کریں۔

آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے، جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے۔۔۔ آخر میں الطاف قریشی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کتاب لکھنے کا مقصد 1965ء کی فضا دوبارہ پیدا کرنے کی خواہش ہے، کیونکہ قوم کو 1965ء کی طرح متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم متحد ہوں گے تو پاکستان ترقی کرے گا۔

مزید : رائے /کالم