اسرائیلی حکومت نے القدس میں شعبہ تعلیم کو یہودیانے کے لئے 2 ارب شیکل کی خطیر رقم کا اعلان کردیا

اسرائیلی حکومت نے القدس میں شعبہ تعلیم کو یہودیانے کے لئے 2 ارب شیکل کی خطیر ...

مقبوضہ بیت المقدس (اے این این)اسرائیل کے کثیر الاشاعت عبرانی اخبارہارٹز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی بیت المقدس میں اپنی بالادستی کو مستحکم کرنے اور شعبہ تعلیم کو یہودیانے کیلئے 2 ارب شیکل کی خطیر رقم صرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی ریاست مشرقی بیت المقدس میں شعبہ تعلیم کو یہودیانے اور اسے الگ تھلگ کرنے کیلئے 5سالہ بجٹ مختص کیا ہے،اس بجٹ کے ذریعے صہیونی ریاست اسرائیلی القدس میں موجود فلسطینی سکولوں میں اسرائیلی نصاب تعلیم لاگو کرنے کی کوشش کرے گی،بیت المقدس میں بیشتر سکولوں میں فلسطینی نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے۔ بعض سکولوں میں میٹرک کے امتحانات فلسطینی تعلیمی بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں جبکہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات اسرائیلی تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام ہوتے ہیں۔

اسرائیلی منصوبے کے مطابق بیت المقدس میں فلسطینی سکولوں میں صہیونی نصاب تعلیم مسلط کرنے کے لیے 68.7 ملین شکل کی رقم رکھی گئی ہے۔اس کے علاوہ سکولوں کی نام نہاد تعمیر وترقی کے لیے 57.4 ملین اور سکولوں کی عمارتوں کی اجرت کیلئے 67ملین اور عبرانی زبانی کی تعلیم وتدریس کیلئے 15ملین شیکل کی رقم مختص کی گئی ہے۔غیررسمی تعلیم کیلئے 206ملین، ٹیکنالوجی کے شعبے کیلئے 15ملین رقم کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...