زمینی اور خلائی مخلوق سیدھے چلیں، تاکہ ملک ترقی کرے

زمینی اور خلائی مخلوق سیدھے چلیں، تاکہ ملک ترقی کرے

گزشتہ چند روز سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اپنی سیاسی میدان میں عوامی نمائندگی کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چند ماہ قبل کے اعلان کردہ فیصلے کے مطابق نا اہل قرار دیئے جانے پر اس امر پر اعتراض کررہے ہیں کہ فیصلہ بعض دیگر غیر جمہوری عناصر کے دباؤ یا اثر و رسوخ کی بناء پر صادر کیا گیا، جبکہ ان کے خلاف عوام کے کسی فنڈ کی خورد برد اور خیانت کاری کا کوئی ثبوت یا جرم آئینی اور قانونی طور پر مخالف فریق کی جانب سے ثابت نہیں کیا گیا، اس منطق کی بنیاد پر میاں نواز شریف خلائی مخلوق کے مؤثر کردار کا بھی گاہے بگاہے اظہار کررہے ہیں، ان کے ذرائع ابلاغ میں منظر عام پر آئے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر خلائی مخلوق ان کی مخالفت میں اپنا کردار ادا نہ کرتی تو فیصلہ 28-7-17 اور بعد ازاں ان پر تا حیات نا اہل کرنے کا فیصلہ بھی صادر ہونے کا امکان نہیں تھا، جبکہ متعدد اپوزیشن راہنما تو دونوں فیصلوں کو درست اور انصاف کے اصولوں کے تحت صحیح قرار دے رہے ہیں، نیز بعض پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے اینکرز بھی سابق وزیر اعظم کے خلاف غیر قانونی کارروائی کے ارتکاب کی مسلسل الزام تراشی کرتے رہتے ہیں،یہ سلسلہ تو ان رپورٹر حضرات نے 2014ء میں عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنے پر بیٹھنے کے وقت سے ہی کافی زور و شور سے شروع کررکھا ہے، حالانکہ اس وقت تو ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا، یہ پراپیگنڈہ مہم خاصی سوچی سمجھی سکیم پر مبنی منصوبہ سازی لگتی ہے، حالانکہ میاں نواز شریف 28-7-17 کو فاضل سپریم کورٹ کے فیصلہ کے احترام میں فوری طور پر اپنے منصب سے الگ ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس گزشتہ چند ہفتوں سے حکومتی کارکردگی کی باز پرس کے لئے کئی محکموں کی کارروائیوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، یہ بیشک اچھی بات ہے لیکن وہ ہزاروں اپیلوں جو دیوانی شرعی مقدمات کے بارے میں وہاں دائر ہوکر سماعت کے انتظار میں ہیں، ان کو بھی جلد سماعت کے لئے مقرر کرکے متعلقہ فریقین اور ان کے وکلاء صاحبان کے دلائل سن کر بلا مزید تاخیر فیصلے صادر کئے جائیں۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف بھی چند مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، لیکن وہ کسی بہانے سے گزشتہ سال سے پاکستان سے باہر جاکر تاحال یہاں واپس نہیں آئے، اس طرح ان کے خلاف مقدمات کی سماعت رکی ہوئی ہے، فاضل سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ ان کے خلاف بھی از خود نوٹس لے کر مقدمات کی پیش رفت کی جائے اور ان کو بھی یہاں واپس بذریعہ قانونی کارروائی یا وارنت گرفتاری لایا جائے تاکہ خلائی مخلوق کے بارے میں جو مختلف تاثر بعض لوگوں کے دلوں میں موجود ہے اسے زائل کیا جاسکے، نیز عدلیہ کی غیر جانبداری بھی واضح نظر آئے۔

بعض ناقدین حضرات کی جانب سے خلائی مخلوق کی اصطلاح پر اعتراض کیا جارہا ہے لیکن وہ اس کا اصل مطلب اور مفہوم سمجھتے ہیں تو پھر وہ لوگ اس مخلوق کو کسی اور نام سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں، اصل بات تو سابق وزیراعظم کی جانب سے اپنے شکوے کا اظہار ہے کہ خلائی مخلوق غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر اپنے اختیارات استعمال کرکے سول حکومت کے سیاسی امور میں مداخلت کرتے ہیں جو ان کی قانونی کارکردگی سے صریحاً تجاوز کاری اور ناجائز کارروائیوں پر مبنی غلط کاری ہے، میاں نواز شریف چونکہ گزشتہ کئی سال سے حکومت میں رہے ہیں۔

وہ تین بار وزیراعظم اور قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہے ہیں، اس لئے ان کی مندرجہ بالا مداخلت کاری کی الزام تراشی کو ہرگز بے بنیاد اور من گھڑت قرار نہیں دیا جاسکتا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق کے افراد حکومت کے کسی محکمہ کی کارکردگی اور پالیسی بنانے اور چلانے کا کوئی جواز اور اختیار حاصل نہیں ہے۔

اب عام انتخابات کے انعقاد کا وقت چونکہ جلد دو ماہ بعد ہی آنے والا ہے، اس لئے خلائی مخلوق کو اس سراسر سیاسی عمل میں کوئی اپنی مرضی سے مختلف اور متضاد انداز کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی موجودہ انتخابی مہم میں ان غیر سیاسی لوگوں کو آئین و قانون کے خلاف اپنا کوئی موثر کردار ادا کرنا چاہئے، لہٰذا ملکی مفاد کا تقاضا ، یہ ہے کہ زمینی اور خلائق مخلوق حتیٰ المقدور اپنے سیدھے راستے پر چلیں تاکہ ملک ترقی کرسکے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...