عطائی کون ہیں؟

عطائی کون ہیں؟
عطائی کون ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خواتین و حضرات!آج کل آپ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر عطائیت کے موضوع پر جو ایک ہاٹ ایشو بن گیا ہے، خبریں، تبصرے ، کالم اور مضامین پڑ ھ/ دیکھ رہے ہوں گے۔

صحت کے معیار میں بہتری کے لئے کام کرنے والے ادارے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے اس موضوع کو عطائیت کے خلاف مہم کا حصہ بنا لیا ہے۔

اس سے عطائیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر دو سو سے تین سو تک عطائیت کے اڈے سیل ہو رہے ہیں،جبکہ بیشتر عطائی یہ کاروبار چھوڑ کر روپوش بھی ہو گئے ہیں۔

اس سارے معاملے میں ہمارے نزدیک ایک اہم بات یہ ہے کہ آخر عطائی کون ہے؟ ہم کسے عطائی کہہ سکتے ہیں؟ اس کی ایک جامع اور قانونی تعریف کمیشن کے ایکٹ میں دی گئی ہے: ’’ہر وہ معالج جو ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی یاطب سے تعلق رکھتا ہو،مگر وہ اپنی متعلقہ کونسل سے رجسٹرڈ نہ ہو، اُس کی علاج گاہ پر یہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ آویزاں نہ ہو، اپنے مخصوص طریقہ علاج کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں علاج کرتا ہو، اس کے علاوہ میڈیکل سٹور کا عملہ جو اپنے طور پر علا ج فراہم کرے اور پاکستان نرسنگ کونسل سے غیر رجسٹرڈ شدہ نرس یا مڈ وائف ’’عطائیت‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں‘‘۔۔۔ عطائی کا علاج صحت اور زندگی کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ اس سے مرض کے مزید بگڑ جانے، ذہنی و جسمانی معذوری، حتیٰ کہ اموات واقع ہونے کے خطرات اور امکانات موجود ہوتے ہیں۔

خواتین و حضرات! عطائیت کوئی آج کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا ایک تاریخی، ثقافتی اور طبی پس منظر ہے۔ اس کی ابتدا سترہویں صدی میں برطانیہ سے ہو ئی ا ور برصغیر میں بیسویں صد ی میں عطائیت کو جڑی بوٹیوں کے علاج سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

پھر غذا کے ذریعے بھی علاج کو فروغ ملا۔ یہ سارا کام محض تجربے اور اندازے کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ پاکستان میں عطائیت کو ایک روایتی طریقہ علاج کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔

یہ کم پیسوں میں آسان دستیاب علاج کے طور پر عوام تک پہنچتا رہا ہے۔ ایسے معالجوں کے پاس کوئی مستند پیشہ ورانہ تعلیم، تربیت، ہنر یا سند وغیرہ نہیں ہوتی۔

پاکستان،بلکہ برصغیر کے اس پورے خطے میں بیماریوں کا علاج ثقافتی طور پر گھرسے شروع ہوتا ہے۔ ، تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بزرگ عورت یاعمر رسیدہ مردغذا اور دیگر ٹوٹکوں سے علاج شروع کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک کوئی مرض سنجیدہ یا خطرناک نہیں ہوتا۔ وہ فوری طور پر چا رپانچ طرح کے علاج اپنے پرانے تجربات کی روشنی میں بتا دیتے ہیں، جس کے پس منظر میں کئی کامیاب کیسز بھی ہوتے ہیں۔

بعض اوقات اگرکوئی سنجیدہ مسئلہ بھی ہو،جیسا کہ ہڈی وغیرہ کا مڑ جانا یا ٹوٹ جانا، زخمی ہونے کے باعث زیادہ خون بہہ جانا یا غشی کے دورے وغیرہ۔ تب بھی گھر والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی حکیم، ہڈی جوڑ والے پہلوان یا پنساری سے رجوع کیا جائے۔ ایسی صورت میں صحت یابی کی بجائے بیماریاں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں اور کیس خراب ہونے کی صورت میں ڈاکٹر یا ہسپتال کا رُخ کیا جاتا ہے،لیکن تب تک دیر ہو چکی ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں اخبارات میں اس حوالے سے بہت دلچسپ خبریں پڑھنے کو ملیں،مثلاً ایک خبر کے مطابق ایک 13سالہ بچی لائبہ اور اس کے بھائی 16سالہ حیدر کو، جنہیں بخار اور قے آ رہی تھی،ایک مقامی کلینیکل لیبارٹری گاؤں ہری پور کامونکی لایا گیا۔

ایک نام نہاد ڈاکٹر نے انہیں ڈرپ لگادی۔ بچی اور بچے کو شام کو واپس لے جایا گیا۔ بچی رات 9بج کر 35منٹ پر فوت ہو گئی،جبکہ لڑکے کی طبیعت بھی بگڑنا شروع ہو گئی،جسے لیب میں اسی ڈاکٹر کے پاس لایا گیا۔اس کا سانس اُکھڑ رہا تھا اور سارے جسم میں زہر پھیل گیا تھا۔

لڑکا بھی آخر کار فوت ہو گیا۔

تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ معالج صرف میٹرک پاس ہے،نہ تو وہ ڈاکٹر ہے، نہ ہی لیب ٹیکنیشن۔ذرائع کے مطابق اب اس نے علاج معالجہ بند کر دیا ہے،لیب بھی ختم کر دی ہے اور واپس اپنے پہلے کام بکریاں چرانے پر آ گیا ہے۔

اسی طرح 30 اپریل 2018ء کو اخبارات میں ایک خبر چھپی ہے کہ تحصیل فیروز والہ،مریدکے، شرقپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مخصوص جعلی ہسپتالوں اور کلینکس کے خلاف آپریشن جاری ہے، جن میں ایسے عطائی بھی شامل ہیں،جو دن کے وقت تانگہ، رکشہ اور گدھا ریڑھی چلاتے ہیں،جبکہ شام کو وہ سادہ لوح شہریوں اور دیہاتیوں کا علاج کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد عطائی اپنی دکانوں پر زیادہ تر مخصوص امراض اور اب شوگر، جگر اور فالج کے امراض کا بھی علاج کرتے ہیں۔

پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی بھرپور کوششوں کے ساتھ ساتھ اب اخبارات میں مضمون نگار، فیچر رائٹرز اور کالم نگاروں نے عطائیت کو موضوعِ بحث بنایا ہوا ہے۔

ہمارے ایک کالم نگارساتھی ڈاکٹر سلیمان عبداللہ ڈار نے حال ہی میں اپنا ایک کالم ’’کیا عطائیت کا خاتمہ ممکن ہے‘‘ ؟۔۔۔دو اقساط میں تحریر کیا۔

وہ لکھتے ہیں: راقم جس رورل ہیلتھ سنٹر کا سینئر میڈیکل آفیسر ہے، وہاں بھی ایسا ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات بڑی دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔

میرا خاکروب بھی ساتھ والی بستی میں سرجن ڈاکٹر کے طور پر پریکٹس کرتا ہے۔ ایک صبح وہ جھا ڑو دے رہا تھاتو مَیں نے سرزنش کے طور پر اسے ڈاکٹری سے باز رہنے کی تلقین کی،اسی وقت اس کا ایک مریض آگیا اور ہمارے ہاں کے دیہاتی لہجے میں: ’’بولا ڈاکٹر جی اے جھاڑوچھڈ و تے مینوں ٹیکہ لا دیو‘‘۔۔۔ عطائیوں کی اس پکڑ دھکڑ میں جہاں بعض انڈر گراونڈچلے گئے، وہاں چند عطائیوں نے جدید کمیونیکیشن ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھا ہواہے، تاہم اس کا طریقہ کار بدل لیا ہے۔ مثلاً دیہاتوں میں عطائیوں نے کلینک بند کرکے آن لائن سروس شروع کر دی ہے اور فون پر رابطے کے بعد مریض دواکے لئے ان کے پاس ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔گویا انہوں نے اس مصرعے کی تقلید کی ہے:

زندگی کے گیت کی دھن بدل کے دیکھ لے

حالیہ چند برسوں میں علاج اور صحت کی خدمات میں غفلت ، بدانتظامی اور بے ضابطگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کا تقاضا کر رہے تھے کہ صوبائی سطح پر ایک ایسا خود مختار اور با اختیار ادارہ قائم کیا جائے،جو سرکاری اور غیر سرکاری علاج گاہوں کے لئے صحت کی خدمات کے کم از کم معیار کا تعین کرے اور قانون کے تحت ان پر باضابطہ عمل در آمد کو بھی یقینی بنائے ۔

دوسری جانب غیر مستند اور خود ساختہ ڈاکٹروں ، عطائیوں اور معالجوں کے ہا تھوں مریضوں کو معذور ، مفلوج، جسمانی نقائص پیدا ہونے اور ہلاک ہونے سے بچایا جا سکے۔عطائیت کے اڈوں کو سیل کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے بعد اس مہم میں خاصی تیزی آئی ہے۔

کمیشن کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کا عملہ بھی متحرک ہو گیا ہے، تاہم ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس مہم کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا رش بہت بڑھ گیا ہے۔

عطائیوں کے خاتمے کے ساتھ صحت کا سرکاری سطح پر دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کیا موجودہ پیش کئے جانے والے قومی بجٹ میں اِس امر کا خیال رکھا گیا ہے؟یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔

گزشتہ دِنوں ہمیں چیسٹ انفیکشن ہو گیا۔ ہمارا علاج بھی گھر کے بڑوں کی نصیحت اور مشوروں سے شروع ہوا۔ اسی پر بس نہیں، جو دوست احباب، رشتہ داروں اور محلے دار ہماری تیمارداری کو آئے، سب نے ہماری بیماری سے متعلق اپنا اپنا نسخہ اور طریقہ علاج بتایا،جو ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ ان تمام خواتین و حضرات میں کوئی بھی ڈاکٹر، حکیم یا ہومیو پیتھک معالج نہیں تھا۔

یہ معاملہ تقریباََ ہر گھر میں پیش آتا ہے، مثلاًآپ اپنے دفتر میں کسی ایک سے محض یہ کہہ دیں کہ آ پ کا سر چکراتا رہتا ہے۔ بس پھر دیکھئے آفیسر سے لے کر نائب قاصد تک سب آپ کو شرطیہ شفایابی کے اتنے نسخے بتا ڈالیں گے کہ آپ کا سر مزید چکرانے لگے گا۔

کیا یہ سب لوگ عطائی کی تعریف میں نہیں آتے۔ ہمارے ہاں اکثر ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے علاج کو غلط قرار دے کر دادا جان کے نسخے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ معاملہ ہر جگہ امیر اور غریب کے ہاں، گاؤں اور شہر میں،ان پڑھ اور پڑھے لکھے گھرانوں میں اور معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں دیکھنے میں آتا ہے۔کچھ یوں بھی طبی مشورے دینا ہم اپنا قومی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔

یوں تقریباً ہم سبھی عطائیوں کے زمرے میں آتے ہیں، لیکن ہم پر کوئی قانون، کوئی دفعہ نہیں لگتی۔

رشتہ دار سے لے کر دکاندار تک، نائی سے لے کر قصائی تک، دھوبی سے لے کر درزی تک اور انجینئر سے لے کر آئی ٹی ایکسپرٹ تک، سب آپ کو اپنے مخصوص شعبے کے علاوہ ہومیوپیتھی، ایلوپیتھی اور حکمت کے ماہرین بھی نظر آئیں گے۔

مزید : رائے /کالم