فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل

فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے موقع پر اسرائیلی فوجیوں نے غزہ خون میں نہلا دیا اور کم ازکم55فلسطینی باشندوں کو جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، کئی برسوں میں یہ کسی ایک دن میں فلسطینیوں کی سب سے زیادہ شہادتیں ہیں، 2500 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہو گئے جن میں سے بہت سے نازک حالت اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہو سکتے ہیں۔ایک جانب غزہ میں خون کی یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی، تو دوسری طرف امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا جشن منایا جا رہا تھا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنے مُلک کا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا تو اقوام متحدہ کی 15رکنی سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے اِس فیصلے کے خلاف ووٹ دیا تھا جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ جنرل اسمبلی میں لے جایا گیا تو چند چھوٹے ممالک کے سوا پوری جنرل اسمبلی نے اس امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے غصے میں اعلان کیا کہ دُنیا امریکی امداد بھی لیتی ہے اور ہمارے خلاف ووٹ بھی دیتی ہے،لیکن انہوں نے اپنے ’’غلط وقت پر غلط فیصلے‘‘ پر نظرثانی نہ کی اور اب اسرائیلی رہنماؤں کے چمکتے دمکتے چہروں کے ساتھ سفارت خانے کا افتتاح کر دیا گیا۔ غزہ میں امریکی حکومت کے فیصلے کے خلاف ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی، فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کے اس قتلِ عام کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جب سے اپنے اس متنازعہ فیصلے کا اعلان کیا ہے دُنیا اس پر مسلسل احتجاج کر رہی ہے، احتجاج کرنے والوں میں امریکہ کے قریبی حلیف ممالک بھی شامل ہیں،جنہوں نے اس فیصلے کو عاقبت نا اندیشانہ قرار دیا ہے، کسی مسلمان ملک کے نمائندے نے افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کی، بہت سے مغربی ممالک نے بھی تقریب کا بائیکاٹ کیا، جن ممالک کے نمائندوں نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اُن کی تعداد32 ہے،جبکہ80 سے زیادہ ممالک کے تل ابیب میں سفارت خانے ہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ کتنا غیر مقبول ہے۔ سلامتی کونسل اور عرب لیگ کے اجلاس طلب کر لئے گئے ہیں اور صدر محمود عباس نے اِس فیصلے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیا ہے، ترکی نے فلسطینیوں کی شہادت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو بھی شہادتوں کا ذمے دار قرار دیا ہے۔صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اس متنازعہ فیصلے پر عمل کر کے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کی حیثیت کھو چکا ہے اور اس نے مسئلے کا حل بننے کی بجائے مسئلے کا حصہ بننا پسند کیا ہے۔ مشرقی بیت المقدس کو پوری مسلم دُنیا فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرتی ہے۔

امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا اقدام جلد بازی میں کیا گیا ہے،حالانکہ ابھی تک سفارت خانے کی عمارت بھی تعمیر نہیں ہوئی،لیکن امریکہ کے یہود نواز صدر ٹرمپ اسرائیل کے ناجائز قیام کی سترہویں سالگرہ کے موقع پر اسرائیل کو یہ تحفہ دینے پر تلے ہوئے تھے اِس لئے انہوں نے باقاعدہ عمارت کی تعمیر سے قبل ہی ایک بلڈنگ پر سفارت خانے کی تختی لگا دی،اس سے پہلے وہ ایران نیو کلیئر ڈیل سے علیحدگی اختیار کر کے بھی اسرائیل کا دِل جیت چکے ہیں اُن کے اِن دونوں عاجلانہ اقدامات کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب بکھر کر رہ گیا ہے۔امریکہ ’’دو ریاستی حل‘‘ سے بھی عملاً الگ ہو گیا ہے،حالانکہ بہت سے امریکی صدور کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ میں امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ریاست بھی قائم کر دی جائے،لیکن صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ دو ریاستوں کے نظریہ کے بغیر بھی امن کا قیام ممکن ہے، حالانکہ اسرائیل فلسطینیوں کو جائز اسرائیلی شہری ماننے کے لئے بھی تیار نہیں، اب سوال یہ ہے کہ اگر فلسطین کے اصل باشندوں کو اُن کی اپنی سرزمین پر اُن کی ریاست بنانے کی اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی انہیں اسرائیل کا باشندہ مانا جائے گا، تو پھر صدر ٹرمپ کے ذہن میں اِس مسئلے کا حل کیا ہے۔ انہیں اس راز سے پردہ اٹھانا چاہئے کہ اُن کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں امن کا کیا فارمولا ہے۔

اسرائیل اپنے قیام سے لے کر اب تک توسیع پسندی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،مختلف جنگوں کے دوران اس نے شام اور اردن کے جو علاقے ہتھیا لئے تھے اُن پر بھی اپنا غاصبانہ قبضہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے، مصر نے امریکہ کے ذریعے سودے بازی کر کے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد صحرائے سینا کا علاقہ واپس لے لیا تھا،لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں مصری قیادت کا فلسطینیوں کے ساتھ رویہ ویسا ہی ظالمانہ ہے جیسا خود اسرائیل کا ہے، حتیٰ کہ فلسطینیوں کو مصر میں داخلے کی بھی اجازت نہیں اور جن دِنوں اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی تھی، مصر نے بھی فلسطینیوں کا داخلہ اپنے مُلک میں بند کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور دوسری اشیائے ضرورت فلسطینیوں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔یہی وہ ایام تھے جب خوراک اور ادویات لے جانے والا ترکی کا جہاز بھی اسرائیل نے روک لیا تھا اُس وقت سے لے کر آج تک ترکی کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات خراب چلے آ رہے ہیں،حالانکہ اسرائیل کے قیام سے بھی پہلے یہودی رہنما ترکی میں قیام پذیر رہے ہیں۔ تاہم اب کی بار مصر نے اتنی مہربانی ضرور کی ہے کہ رفاہ بارڈر چار دن کے لئے کھول دیا ہے،جہاں سے فلسطینی جانیں بچا کر مصری علاقوں کی جانب جا سکتے ہیں،اگرچہ زبانی مذمت میں تو سارے مسلمان ممالک اب ہم زبان ہو گئے ہیں،لیکن ایسے اقدامات سے نہ تو اسرائیل اپنے عزائم سے باز رہ سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ کو ایسے بے جان احتجاجوں کی کوئی پرواہ ہے۔اِسی لئے جب اسرائیلی نشانے باز فلسطینیوں پر تاک تاک کر گولیاں مار رہے تھے بیت المقدس میں صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سفارت خانے کا افتتاح کر رہی تھیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی باشندوں کی اموات پر شدید غمزدہ ہیں، کچھ لوگ تشدد کو جان بوجھ کر ہوا دے رہے ہیں۔امریکہ غلط وقت پر یہ غلط چال چل رہا ہے، برطانیہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا۔یورپ کے دیگر ممالک بھی امریکہ کی اس پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے تاہم ٹرمپ طاقت کے زعم میں جس پالیسی پر بگٹٹ دوڑے جا رہے ہیں لگتا ہے کہ یہ کسی حادثے کا شکار ہو جائے گی،برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے اسرائیل بنوایا تھا،لیکن آج اس کا وزیر خارجہ ٹرمپ کے اقدامات کی مذمت کر رہا ہے، کل کلاں صورتِ حال مزید بھی بدل سکتی ہے، اِس لئے امریکہ اب بھی ہوش کے ناخن لے۔

مزید : رائے /اداریہ