پنجاب کے ضمنی بجٹ میں ترجیحات

پنجاب کے ضمنی بجٹ میں ترجیحات

پنجاب حکومت نے85 ارب40کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے رواں مالی سال کا نظرثانی شدہ بجٹ اپوزیشن ممبران کے شدید شوروغل کے دوران پیش کیا۔ضمنی بجٹ میں سب سے زیادہ رقم19 ارب88 کروڑ روپے تعلیم کے شعبے کے لئے رکھی گئی،جبکہ شاہرات اور صحت کے لئے اربوں منظور کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں جس پارٹی کی بھی حکومت بنے گی، وہ2018-19ء کے لئے بجٹ تیار کر کے پیش کرے گی۔ اِس سے قبل صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں ترجیحی بنیادوں پر مہیا کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا رہا ہے۔آئندہ بھی کام کرنے کا موقع ملا تو عوامی خدمت کا مشن جاری رکھا جائے گا۔ صوبے کے ضمنی بجٹ میں واضح طور پر تعلیم، صحت اور شاہراؤں کی سہولتوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ یقیناًاس کا فائدہ رواں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو پہنچے گا۔حکومتی حلقوں کی طرف سے فخریہ بتایا جاتا ہے کہ پنجاب میں غربت کا شکار لوگوں کی تعداد دوسرے صوبوں کی نسبت سب سے کم ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے میں ترقی کی رفتار تیز ہے اور لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر زندگی بسر کرنے کے مواقع نسبتاً زیادہ حاصل ہو رہے ہیں۔ اِس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ پسماندہ اضلاع میں اصلاحات لا کر صورتِ حال کو بہتر بنایا جائے۔ مختص کی جانے والی رقوم کا صحیح استعمال ہو ، جن منصوبوں کے لئے رقوم منظور کرائی جاتی ہیں،ان کے لئے باقاعدہ خرچ بھی کیا جائے۔ سب سے زیادہ شکایات کرپشن کے حوالے سے سامنے آتی ہیں۔ کرپشن پر نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ تمام اضلاع خصوصاً پسماندہ علاقوں کے لئے ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کی جائیں اور ماضی کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر تمام منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ