دیدہ و نادیدہ قوتوں کی لڑائی

دیدہ و نادیدہ قوتوں کی لڑائی

کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے سر زمین شام ، عراق ، یمن، سعودی عرب اور کوریا سے لے کر ایران، افغانستان، پاکستان میں بہت کچھ ہو رہا ہے کہیں امریکہ، سعودی عرب ، برطانیہ اور جرمنی کے مقابل چین، روس اور ترکی ہیں میزائل چل رہے ہیں ، جنگی جہاز اڑ رہے ہیں ،حملہ آور ہو رہے ہیں ،کہیں آگ لگانے والے نیپام بم گرائے جا رہے ہیں، کہیں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں، کہیں ٹام ھاک میزائل داغے جا رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بہت سی عیسائی اقوام کی افواج ایک عرصے سے جمع ہیں۔ 90 کی دھائی میں کویت کو صدام حسین کے قبضے سے چھڑانے کے لئے 42 ممالک کی افواج نے امریکی جنرل کی سر براہی میں عراق پر فوج کشی کی۔

آپریشن ڈیزرٹ سٹارم اور ڈیزرٹ شیلڈ کے ذریعے خطے میں آتش و آہن کا یک کھیل شروع کیا جو 9/11 کے بعد پھیلتا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ کا آغاز کیا گیا۔ افغانستان میں ناٹو افواج کے ذریعے پہاڑوں کو دُھن کر رکھدیا گیا گزرے سترہ سالوں سے امریکی اتحادی افواج یہاں افغان طالبان کے جذبہ حریت کو کچلنے میں مصروف ہیں ،لیکن اُنہیں کامیابیاں حاصل نہیں ہو رہیں امریکی ترلے لے رہے ہیں کہ طالبان ان کے ساتھ مذاکرات کریں اور شریک اقتدار ہو جائیں ،لیکن وہ ایک ہی مطالبے پر قائم ہیں کہ افغانستان میں جنگ وجدل امریکی اتحادی افواج کے آنے کے باعث شروع ہوا ہے وہ یہاں سے نکل جائیں معاملات ٹھیک ہو جائیں گے ،لیکن وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں ہیں امریکیوں نے دہشت گردی کی اس جنگ کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر دیا تھا ۔

ہم اس جنگ میں 120 ارب ڈالر کے نقصانات کے ساتھ ساتھ 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی بھی دے چکے ہیں جسمیں ہمارے فوجی افسران و جوانوں کے ساتھ دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں لوگ بھی شامل ہیں۔جارج بش اور باراک حسین اوباما کی افغان پالیسیاں افغانستان میں امن نہیں لا سکی ہیں ۔ ناٹو اور ایساف فورسز یہاں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں امریکہ نے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ہے۔

دوسری طرف ساؤتھ ایشیا میں بھارت ، پاکستان اور افغانستان انہی قوتوں کا مرکزِ نظر ہے اس خطے میں بھارت کی بالادستی کے ذریعے اسے چین کے مقابل کھڑا کرنا ہے امریکہ و اسرائیل ایک عرصے سے بھارت کو عسکری و معاشی طور پر موثر و مضبوط بنانے کی کاوشوں میں مصروف ہیں ۔ امریکہ نے افغانستان میں ہندوستان کو قدم جمانے کے مواقع فراہم کئے۔

امریکی اتحادی افواج نے بھارت اور افغانستان کے غیر پشتون قبائل کو ساتھ ملا کر پشتونوں کی قوت مزاحمت اور مقاومت کو ختم کرنے کی کاوشیں کیں ،لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔ ہندوستان نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف مورچہ بندی کی ۔

پاکستان دشمن قوتوں کو بڑھاوا دیا ۔ مذہبی اور سیکولر گروہوں کو پاکستان کے خلاف منظم اور موثر بنانے کی کاوشیں کیں تحریک طالبان پاکستان اور ایسے ہی کئی گروہوں کو پاکستان کے خلاف منظم کیا۔ دہشت گردی کی جنگ جو افغانستان میں جاری تھی اسے بتدریج پاکستان منتقل کر دیا گیا۔

افغانستان اور امریکہ کے علاوہ، نادیدہ قوتیں بھی پاکستان کے خلاف فعال کردار ادا کر رہی ہیں پاکستان کو کمزور کرنے کی کاوشیں کر رہی ہیں پاکستان نے ، پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے دشمنوں کے ان عزائم کو ناکام بنا دیا ہے ۔

فسادی اور دہشت گرد ، پاکستان کی سرزمین سے بچھاڑ دئیے گئے ہیں پاکستان کی سر زمین کو ان کے خفیہ و اعلانیہ ٹھکانوں اور مددگاروں سے پاک کر دیا گیا ہے پاکستان کی عوام کی مکمل تائید و حمایت کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان میں وہ کام کر دکھا یا ہے جو ناٹو اور ایساف افواج سترہ سالوں میں افغانستان میں نہں کر سکی ہیں، لیکن دیدہ اورنا دیدہ قوتیں پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے کے لئے مستعد ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اعلان کردہ افغانستان پالیسی میں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے چکے ہیں اور پاکستان کو ایک لسٹ تھما دی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں امن لانے کے لئے اقدامات کرلے وگرنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جائے۔

پاکستان نظریاتی طور پر ہی اندرونی انتشار اور خلفشار کا شکار نہیں ہے، بلکہ انتظامی اور معاشی طور پر بھی بدحالی اور کسمپرسی کا شکار ہے ہمارے بیرونی قرضے الارمنگ حد تک بڑھ چکے ہیں قومی معیشت میں بڑھوتی اور پھیلاؤ کے باوجود ، قرضوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصرہوتی جا رہی ہے ۔ حکومت چلانے کے اخراجات بھی قابو سے باہر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹیکس وصولیوں کا حجم بڑھنے کے باوجود وصولیاں مطلوبہ حد تک نہیں ہو رہی ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے ذریعے اخراجات جاریہ پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔

کاروباری مصارف بڑھتے چلے جا رہے ہیں برآمدات گر رہی ہیں ظاہر ہے جب مصارف پیداوار زیادہ ہونگے تو مصنوعات عالمی تجارتی منڈی میں مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گی۔

ہماری درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں پیٹرولیم مصنوعات ،کھانے کا تیل اور اشیاء تعیش پر اٹھنے والے زر مبادلہ کے اخراجات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں ہم ضرورت سے زائد خرچ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کے باعث ہمارا اقتصادی توازن شدید بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری قومی معیشت کو ہی نہیں، ہمارے سماجی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے قرض دینے والی اقوام کی ہمارے معاشرے میں سرگرمیاں انتشار و افتراق کا باعث ہیں ۔

ریاست کی عملداری کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں قومی اداروں کے درمیان لڑائی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی عالمی حالات ہمارے موافق نہیں ہیں ہنود ، یہود اور صیہون ہمارے خلاف یکجان ہو چکے ہیں ہمیں کمزور اور منتشر کرنے کی خانہ ساز سازشیں، طشت ازبام ہو چکی ہیں ہماری اقتصادی اور سماجی کمزوریاں مایوس حال اور نا معلوم مستقبل کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ایسا لگ رہا ہے کہ بیرونی دشمنوں کے منصوبوں کے عین مطابق ہم خود بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو ہمارے دشمن چاہتے ہیں۔

یا یوں سمجھ لیجئے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ان کے نتائج ویسے ہی نکل رہے ہیں جو دشمنوں کی خانہ ساز سازشوں کے نکلتے ہیں۔ پاکستان کی کمزور اقتصادیات اور غیر مستحکم حکومت کے باعث مہنگائی کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے قدر زر میں کمی کے باعث عوام کی قوت خرید کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے ذرائع ابلاغ بھی افتراق و انتشار میں اضافہ کر رہے ہیں ہمارے ڈرامے اور غیر ملکی فلمیں جو لائف سٹائل دکھاتے ہیں عملاً صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے جس کے باعث نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر قومی اتفاق رائے کے لئے کاوشیں کی جائیں تمام ادارے بشمول چھوٹے بڑے،سیاسی و غیر سیاسی افراد ریاست کے تابع کر دئیے جائیں تمام ادارے اپنے آپ کو ریاست پاکستان کے آئین اور قانون کے سامنے سرنڈر کر دیں آئین پاکستان کی بالادستی کو قبول کریں اور اس کے مطابق اپنا طرزِ فکر وعمل متعین کریں ریاست پاکستان کا مفاد سب پر بالادست ہو اور انفرادی مفادات، ریاستی مفادات پر قربان کئے جائیں۔ یہی ہمارے قومی مفاد کا تقاضہ ہے اور یہی وقت کی آواز ہے کیونکہ دیدہ و نادیدہ قوتوں کی لڑائی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...