نواز شریف کے لئے روحانی مشورہ

نواز شریف کے لئے روحانی مشورہ

ستارہ شناسی، دست شناسی، علم الاعداد، علم رمل ان میں سے کوئی ایک بھی ’’علم الغائب‘‘ نہیں ہے، دراصل یہ علوم ایسے لوگوں کے ترتیب دیئے ہوئے ہیں،جو کائنات کے رازوں کے ہمراز بننے کے خواہشمند تھے، سو انہوں نے کائنات کے مختلف اسرار سمجھنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے، بعض کو ستاروں کی دُنیا عجیب لگی تو انہوں نے اپنی توجہ ستاروں کی نقل و حرکت پر لگا دی اور ستاروں کا مطالعہ شروع کر دیا اور پھر آہستہ آہستہ ستاروں کی دُنیا کو سمجھنے لگے۔۔۔ انہوں نے ستاروں کو مختلف نام دیئے، پھر ان کی رفتار کے حوالے سے ایک پیمانہ وضع کیا پھر یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔۔۔ کون سے ستارے ایک دوسرے کے دوست یا دشمن ہیں۔۔۔ دوستی اور دشمنی کو سمجھنے کے لئے انہوں نے مختلف ستاروں کے نمودار ہونے کے بعد یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ جب فلاں فلاں ستارے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو کیا ماحول بنتا ہے، ماحول رومانی ہو جاتا ہے یا نفرت نمایاں ہوتی ہے۔

مسلسل غورو خوض کے بعد انہوں نے چند ستاروں کی ایک جگہ موجودگی کو دوستی اور دشمنی کے روپ میں پیش کیا اور بتایا کہ مشتری، مریخ ایک دوسرے کے سامنے ہوں تو اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ جب مریخ اور زحل آمنے سامنے ہوں تو کیا چن چڑھاتے ہیں۔

ہاتھ کی لکیروں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ آپ لاکھوں ہاتھوں کا مشاہدہ کریں۔ خال ہی کوئی ہاتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملتا جلتا ہو گا،لیکن کچھ علامات مشترکہ بھی نظر آئیں گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نواز شریف، زرداری اور عمران خان کے ہاتھ کا مطالعہ کریں تو تینوں کے ہاتھ میں شہرت کا ’’نشان‘‘ تقریباً ایک جیسا ہو گا۔

اگر آپ ندیم، محمد علی، دلیپ کمار، شاہ رخ خان، سلمان خان کا ہاتھ دیکھیں تو آپ کو شہرت کا نشان ایک جیسا نظر آئے گا۔ دیگر معاملات میں ممکن ہے سبھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں، مگر شہرت کے نشان کے حوالے سے ایک طرح کے نظر آئیں گے۔

علم الاعداد حروف کا علم ہے، جس میں حرف کو اہمیت حاصل ہے اور یہ علم یا علم کے ماہرین اصرار کرتے ہیں کہ فلاں فلاں حرف ایک دوسرے کے دوست یا دشمن ہیں۔۔۔ فلاں فلاں ہندسے ایک دوسرے کے معاون یا مخالف ہیں۔۔۔ علم رمل، ایک مشکل علم ہے اور ہر ایک کی سمجھ میں مشکل سے آتا ہے۔مَیں نے کہیں پڑھا تھا۔۔۔ کہ حضرت علی ؓ کسی ’’معرکے‘‘ کے لئے تیار ہو کے گھر سے نکلے تو راستے میں ایک یہودی نے جو کہ علم رمل کا ماہر تھا۔۔۔ ان سے پوچھا: اے علیؓ۔۔۔ کہاں جا رہے ہو۔۔۔ جنابِ علیؓ نے کہا، حق کا پرچم بلند کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ یہودی نے کہا۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنگ پر جا رہے ہو۔۔۔ جنابِ علیؓ نے کہا، بالکل۔۔۔ خدا کا پیغام اور حکم پہنچانے جا رہا ہوں۔ یہودی عالم نے کہا۔۔۔ اے علیؓ۔۔۔ تم غلط وقت پر گھر سے نکلے ہو۔

جنابِ علیؓ نے کہا۔۔۔ وہ کیسے؟ یہودی نے زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچیں اور کہا۔۔۔ اے علیؓ۔۔۔ تم ایسے وقت گھر سے نکلے ہو کہ جب ’’قمر اور عقرب‘‘ کی ساعت چل رہی ہے۔ ایسی ساعت میں کسی بھی کام کا آغاز نقصان دہ ہوتاہے۔

جنابِ علیؓ نے یہودی کی طرف دیکھا اور گھوڑے کی لگام کھینچی۔۔۔ لگام کھینچتے ہی گھوڑنے نے اپنے پاؤں زمین سے اکھاڑے اور کھروں پر مارے اب جنابِ علیؓ نے یہودی سے کہا۔ اب دیکھو تمہارا قمر اور عقرب کہاں ہے۔ یہودی نے لکیروں کو دیکھتے ہی کہا۔

اے علیؓ یہ تم نے کیا کِیا۔۔۔ سب لکیریں اِدھر اُدھر ہو گئیں ہیں ستاروں کی چال درست ہو گئی ہے۔ قمر اور عقرب ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوا۔۔۔ جنابِ علیؓ نے کہا۔۔۔ یہ وہ علم ہے، جو اللہ پنے ولیوں کو عطا کرتا ہے۔۔۔ اللہ کے ولی ستاروں کی نقل و حرکت کے محتاج نہیں ہوتے۔۔۔

ہمارے ہاں آج کل ‘‘عملیات‘‘ کے حوالے سے بہت باتیں ہوتی ہیں ’’عملیات‘‘ کا علم بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس علم میں بھی ’’خیر و شر‘‘ کا چلن عام ہے۔ بعض لوگ ایسے ایسے عمل کرتے ہیں کہ شیطان شرمانے لگتا ہے۔

بعض تو ایسے خطرناک قسم کے علم پڑھتے ہیں کہ بیچارہ شیطان سیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے،لیکن ایسے لوگ بھی ہیں، جو عملیات کے زور پر لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں، پریشانیوں کا حل بتاتے ہیں، کامیابیوں کے وظائف بتاتے ہیں اور زندگی کے تمام امور میں لوگوں کی معاونت کرتے ہیں۔ان لوگوں کے ساتھ ہر طرح کے لوگ رابطہ رکھتے ہیں۔ آج کل سیاست دانوں کے رابطے عروج پر ہیں۔

یوں تو ان کے پہلو میں کوئی نہ کوئی ’’بابا‘‘ موجود نظر آتا ہے، جبکہ بعض سیاست دان تو باباؤں کے ساتھ ساتھ ’’بیبیوں‘‘سے بھی رابطہ رکھتے ہیں، چند تو ایسے بھی ہیں، جنہوں نے ’’پاک بیبیوں‘‘ کو باقاعدہ گھر میں بٹھا رکھا ہے، جن کا صبح دوپہر و شام ایک ہی کام ہے کہ اپنے ’’مہربان‘‘ کے مخالف سیاست دان کا نام لے کر پھونکیں مارنا۔۔۔ گزشتہ روز عابد شیر علی نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان نواز شریف پر جادو کروا رہا ہے۔

مجھے عابد شیر علی کے اس بیان پر بہت حیرت ہوئی تھی،مگر نواز شریف کے ’’ڈان‘‘ والے بیان پر مجھے بھی یقین ہو گیا ہے کہ نواز شریف، ’’خلائی مخلوق‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’پھونک مارکہ‘‘ مخلوق کے بھی اثر میں ہیں اور یہ ان پھونکوں کے اثرات ہیں کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دے ڈالا۔

عجیب بات ہے کہ نواز شریف کا یہ بیان جنرل مشرف، جنرل درانی، رحمن ملک اور حسین حقانی کے بیان سے مختلف نہیں ہے،مگر نواز شریف کو غدار قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ’’وطن دشمنی‘‘ کا ثبوت دیا ہے اور وہ غدار ہیں۔

حیرت ہے کہ ’’میڈیا‘‘ بھی نواز شریف کے بیان کو اچھال رہا ہے اور اِس حوالے سے جنرل مشرف، جنرل درانی اور رحمن ملک کے سابقہ بیانات کو سنانے یا دکھانے سے گریز کر رہا ہے۔

میرے خیال میں نواز شریف ’’عملیات‘‘ کی زد میں ہیں اور انہیں فوری طور پر کسی ’’بابے یا بابی‘ سے رجوع کرنا چاہئے اور اثرات کے خاتمے کے لئے کچھ وظائف بھی اپنے معمول میں شامل کرنے چاہئیں۔

انہیں سوچنا چاہئے کہ لوگ تو اب انگوٹھی سے لے کر روزانہ رنگوں کے حساب سے کپڑے پہن کر نصیب سنہرے کرنے کی کوشش کرنے میں لگے نظر آتے ہیں۔

تو ان حالات میں نواز شریف کو بھی چاہئے کہ وہ سیاسی دفاع کے ساتھ ساتھ ’’روحانی‘‘ دفاع کے لئے بھی کوئی ’’ہاتھ پاؤں‘‘ ماریں۔۔۔ بس شادی رچانے سے گریز کریں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...