عام آدمی اور اشرافیہ کے ہتھکنڈے

عام آدمی اور اشرافیہ کے ہتھکنڈے

’’جتنے منہ اتنی باتیں‘‘۔۔۔ کہا یہ جارہا ہے کہ انٹرویو دینے کا ڈرامہ اس لئے کیا گیا کہ اس سے پیدا ہونے والے شور شرابے میں امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کو باہر بھیجنا مقصود تھا۔

اب اس مماثلت میں کوئی منطقی نقطہ نظر آتا ہے یا نہیں، مجھے اس سے غرض نہیں، لیکن میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ عام انتخابات سرپر ہیں، مگر اُن میں سے عام آدمی کا ذکر نکل گیا ہے۔

سب غداری، ممبئی حملوں اور نواز شریف کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے اب انتخابی مہم بھی اسی موضوع پر چلائی جائے گی۔ اُدھر میاں صاحب بھی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگوا کر ہلکان ہوتے رہیں گے۔ پانچ سال بعد انتخابات آتے ہیں اور عین موقع پر بڑی چالاکی سے عام آدمی کا ذکر غائب کردیا جاتا ہے، ایسے ایشوز ویوہیکل شکل میں لاکھڑے کئے جاتے ہیں، جن کا عام آدمی کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔

میاں صاحب 10سال پہلے کے گڑے مردے اکھاڑ کر ساری توجہ حاصل کرگئے ہیں، تاہم اس توجہ کا حاصل وصول کیا ہے، چند دن گرد اُڑے گی، پھر بیٹھ جائے گی، نہ انتخابات سے پہلے اور نہ انتخابات کے بعد عوام کی باری آتی ہے۔ ووٹ کو عزت دی جائے یا ووٹر کو، اس سے اُس کا پیٹ تو نہیں بھرتا، اس کے مسائل تو کم نہیں ہوتے۔

پچھلے پانچ برسوں کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، میاں صاحب مادر پدر آزادی مانگتے رہے اور مخالفین ان کی ٹانگیں کھینچنے کی مشق میں مصروف رہے۔ عوام دور کھڑے تماشا دیکھتے اور ہاتھ ملتے رہ گئے۔ نہ تو عوام کے حق میں کوئی ریلیف آیا اور نہ ہی نظام بدلا۔

بس جھوٹا سچا ایک کریڈٹ لینے کی کوشش ہوتی رہی کہ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی ہے، حالانکہ لوڈشیڈنگ آج بھی جوں کی توں ہے اور گرمیاں آتے ہی اُس کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

عام انتخابات عام آدمی کے لئے ہوتے ہیں، اُسے پانچ سال بعد پھر اپنے اختیار کو استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس مقصد کے لئے استعمال کرے؟۔۔۔ اُس کی دیرینہ خواہش تو یہی ہوتی ہے کہ کوئی ایسا مسیحا بھی ووٹ مانگنے آئے، جو اُس کی حالت بدلے، اس کے مسائل کو کم کرے، ایک بے رحم اور ظالمانہ دفتری نظام سے نجات دلائے، اُسے بنیادی سہولتیں فراہم کرے، لیکن ملکی حالات کا رخ تو ایسی اندھی کھائی کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جہاں عام آدمی کی بات کرنا بھی بے وقت کی راگنی لگتا ہے، مثلاً آج کے سیاسی منظر نامے کو دیکھئے، کیا اس میں کہیں آپ کو عام آدمی کے مسائل کی جگہ نظر آتی ہے؟ ایک مرتبہ پھر وہ بحث چھیڑ دی گئی ہے، جو 70برسوں میں اکثر چھیڑی جاتی رہی ہے۔

خاص طور پر جب عام آدمی کے مسائل کو اُجاگر کرنے کا وقت آتا ہے، بات کہیں اور نکل جاتی ہے۔ اب ایک طرف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا شور ہے تو دوسری طرف ’’غدار کو پھانسی دو‘‘ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔۔۔ ووٹ کو عزت دینے سے مراد یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ووٹ ڈالنے والے کے مسائل اور حالات پر بھی کوئی توجہ دی جائے۔

اسی طرح ’’غدار کو پھانسی دو‘‘ کابیانیہ بھی لایعنی ہے۔ کون سا غدار، کیسا غدار؟ صرف لفظوں کی جگالی۔۔۔ آرٹیکل 6کو ایک مذاق بنالیا گیا ہے، حتیٰ کہ پرویز مشرف بھی نواز شریف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ اس آرٹیکل کے تحت اُن کے خلاف جو مقدمہ چل رہا ہے، اُسے مانتے نہیں اور نہ پیش ہوتے ہیں۔

مجھے تو اب یقین ہوتا جارہا ہے کہ ہماری چند فی صداشرافیہ جس میں سیاست دان ہی نہیں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے، ہرگز یہ نہیں چاہتی کہ پاکستان میں عام آدمی کے مسائل کی بات ہو۔ اُس کی اول و آخر کوشش یہی رہتی ہے کہ عوام کو لایعنی مسائل میں اُلجھا دیا جائے کہ وہ اپنے مسائل کی طرف دیکھ ہی نہ سکیں۔

جس طرح کہا جاتا ہے کہ بڑا دکھ ملے تو چھوٹا دکھ بھول جاتا ہے، اُسی طرح بڑے بڑے مسائل کا ذکر چھیڑ کر کروڑوں غریب عوام کے حقیقی مسائل سے جان چھڑالی جائے، کیونکہ ان مسائل کو حل تو کرنا نہیں۔

یہ مسائل حل ہوگئے تو عوام کو ریلیف مل جائے گا، اُن کے حالات اچھے ہو جائیں گے، حالات اچھے ہوں گے تو وہ یہ سوچنے کے قابل بھی ہو جائیں گے کہ اشرافیہ نے ظالمانہ نظام کے پنجہ استبدار میں انہیں کس طرح جکڑ رکھا ہے،پھر بات چلتے چلتے اُس مکروہ نظام تک پہنچے گی، جو تمیز بندہ و آقا کی بنیاد پر کھڑا ہے اور جس میں غریب ظلم سہنے کے لئے اور ظالم ظلم کرنے کے لئے موجود ہے۔۔۔ نواز شریف کو سیاست سے نااہل کردیا گیا ہے، اُن کے لئے تو یہ بہت سنہرا موقع ہے کہ انہیں اپنی ناکامیوں کا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

وہ سیاست میں ہوتے تو اُن سے پوچھا جاتا کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں عام آدمی کے حالات بدلنے کی کیا کوشش کی، پولیس کو کتنا سیدھا کیا، عوام کے بنیادی مسائل پر کتنی توجہ دی، ناانصافی اور جلد انصاف کے درمیان حائل خلیج کو کس حد تک پاٹا، کرپشن اور ظلم میں لتھڑے ہوئے روزمرہ نظام کو کتنا شفاف بنایا، معیشت کتنی بہتر کی، عام آدمی کو کتنا معاشی فائدہ پہنچایا؟

یہ اور اس سے جڑے دیگر مسائل پر اُن سے پوچھا جانا چاہئے تھا، مگر وہ تو نااہل ہونے کے بعد ان باتوں سے ماورا ہوگئے۔ انہوں نے توالٹا مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر مہم چلادی اور عوام سے بھی کہا کہ وہ ووٹ کو عزت دینے کی تحریک میں اُن کا ساتھ دیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ جمہوریت میں پانچ سال پورے کرنے والی حکومت کا احتساب کیا جائے، اُس کے پانچ برسوں کی کارکردگی کو بنیاد بناکر اپوزیشن اپنی انتخابی مہم چلاتی ہے، لیکن یہاں آخر میں معاملے کا رُخ ہی تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پانچ برس کی کارکردگی ایک طرف رہ جاتی ہے اور کوئی ایک ایشو سب پر حاوی ہوجاتا ہے۔

اپوزیشن جسے عوام کی بات کرنی چاہئے، وہ اسی بیانیہ کی رو میں بہہ جاتی ہے، جو جانے والوں نے دیا ہوتا ہے۔ اب کون یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے لئے جو مہم چلائی جائے گی، اُس کا موضوع عام آدمی کے حالات ہوں گے؟ اُن کا تو دور دور تک ذکر نہیں ہوگا، جہاں بیانیہ یہ ہو کہ فلاں لیڈر جھوٹوں کا آئی جی ہے، وہاں اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

میں آج چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ نواز شریف اپنی انتخابی مہم خلائی مخلوق کے خلاف چلائیں گے، اُس کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے اپنی تمام توانائی صرف کردیں گے۔ عمران خان کی ساری توجہ نواز شریف کو کرپٹ اور غدار ثابت کرنے پر رہے گی۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو یہ رونا روتے رہیں گے کہ نواز شریف اور عمران خان اندر سے ایک ہیں، انہیں عوام کے مسائل کی کوئی فکر نہیں۔ خود انہیں کتنی فکر ہے، اس کا اندازہ سندھ کی صورت حال دیکھ کر بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے، انہوں نے بھی براہ راست کبھی عام آدمی کی بات نہیں کرنی، بلکہ اسلام کی آڑ لے کر اُس میں چھپنے کی کوشش کرنی ہے۔ کبھی عمران خان کو یہودی ثابت کرنا ہے اور کبھی نواز شریف کو لٹیرے کا خطاب دینا ہے۔

ملکی تاریخ میں صرف ایک بار غریبوں کی کھل کر بات کی گئی تھی، یہ کام ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا، انہی کی وجہ سے غریبوں میں حقوق کا شعور پیدا ہوا اور سیاسی سطح پر اُن کی کھل کر نمائندگی بھی ہوئی، لیکن بھٹو اپنی تمام تر سیاسی بصیرت کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ سیاسی اشرافیہ کسی صورت غریبوں کی سیاست کو پنپنے نہیں دے گی۔

پہلے بھٹو صاحب کو راستے سے بھٹکایا گیا، جب دیکھا کہ اس میں اتنا دم خم ہے کہ پھر بھی غریبوں کے رہنما کی حیثیت برقرار رکھے گا، تو انہیں راستے سے ہی ہٹادیا گیا۔ اصل میں پاکستانی معاشرہ طبقاتی نظام پر کھڑا ہے، وسائل و اختیارات ایک محدود طبقے کے پاس ہیں اور عددی برتری عوام کو حاصل ہے۔

مشن ہمیشہ یہ رہتا ہے کہ عوام کی بات نہ ہونے دی جائے، اُن کے عمومی مسائل کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے، مگر مسائل کی وہ جڑیں کبھی نہیں کھنگالی جاتیں جو اشرافیہ کے تسلط کی اصل وجہ ہیں۔ سو اس بار بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ بظاہر سول و ملٹری کی ’’جنگ‘‘ چھیڑ دی گئی ہے، لیکن اصل میں یہ سب کچھ عوام کی توجہ دوسری طرف لے جانے کی وہ کوشش ہے، جو ہمیشہ کی جاتی رہی ہے۔

پاکستان میں اب دوہی فریق ہیں، ایک اقلیتی اشرافیہ اور دوسری اکثریتی رعایا۔ گھوم پھر کر کوشش یہی کی جاتی ہے کہ عوام کو ہوش نہ لینے دیا جائے، اُن کے سامنے اتنے ڈرامے کھیلے جائیں کہ وہ اپنے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔

2018ء کے انتخابات میں بھی عوام کو یہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس بنیاد پر فیصلہ کریں کہ کون اُن کی حالت بدلنا چاہتا ہے اور اس کے پاس پروگرام کیا ہے؟ بلکہ انہیں اس نکتے میں اُلجھا دیا جائے گا کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے۔

کس نے کرپشن زیادہ کی ہے اور کون صادق و پارسا ہے۔ کون سویلین بالادستی اور ووٹ کی عزت کا بہانہ اختیار کئے ہوئے ہے اور کون اداروں کے ساتھ کھڑا ہے؟ بھاڑ میں جائیں عوام کے مسائل، انہوں نے تو کبھی حل ہونا نہیں اور نہ ہی اشرافیہ نے انہیں حل ہونے دینا ہے، کیونکہ یہ مسائل رہیں گے تو عوام بھی دبے رہیں گے، یہ مسائل حل ہوگئے تو عوام کو ہوش آجائے گا اور وہ یہ دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے کہ کس طرح اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے انہیں غلام بنارکھا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...