تفہیمِ اقبال:شکوہ، جوابِ شکوہ(9)

تفہیمِ اقبال:شکوہ، جوابِ شکوہ(9)

(بند نمبر20)

دردِ لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہی

نجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وہی

عشق کا دل بھی وہی، حسن کا جادو بھی وہی

امتِ احمدِؐ مرسل بھی وہی، تو بھی ہوئی

پھر یہ آزردگئ غیرِ سبب کیا معنی

اپنے شیداؤں پر یہ چشمِ غضب کیا معنی

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

دردِ لیلیٰ (لیلیٰ کا درد)۔۔۔ قیس(عربی داستانوں میں قیس اور لیلیٰ کا عشق اسی طرح مشہور ہے جس طرح ہمارے ہاں پنجاب میں ہیر رانجھا کی محبت کا قصہ مشہور ہے۔ ہر قوم اور ہر زبان میں حسن و عشق کے یہ سچے قصے پائے جاتے ہیں۔

اردو زبان میں قیس کو مجنوں بھی کہا جاتا ہے)۔۔۔ نجد(نجدو حجاز جزیرہ نمائے عرب میں واقع دو صوبوں کے نام ہیں۔ یہ دونوں صوبے اب سعودی عرب کا حصہ ہیں)۔۔۔ دشت و جبل (کوہ و صحرا)۔۔۔ رَم (ہرن کی اس چال کا نام ہے جب وہ اِٹھلا اِٹھلا کر چلتا ہے۔

فارسی میں رمیدن مصدر کا حامل مصدر بھی ’رم‘ ہی ہے۔ البتہ اردو میں ’’رم کرنا‘‘ ایک ایسا مرکب اسم مصدر ہے جو فارسی میں بھی ہے۔)۔۔۔ آہو (ہرن، غزال)۔۔۔ آزردگی (رنجش) ۔۔۔ غیرِ سبب(بغیر کسی سبب یا وجہ کے)

اس بند کا سلیس اردو یہ ہے:

خدا کی ذات کو یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ مسلم امہ تو وہی ہے جو پہلے تھی۔ اس امت میں لیلیٰ بھی پائی جاتی ہیں اور مجنوں بھی ہیں۔ لیلیٰ کے دل میں دردِ محبت کا گراف بھی وہی ہے جو اس وقت تھا جب لیلیٰ زندہ تھی اور مجنوں پر جان نچھاور کرتی تھی۔ دوسری طرف قیس کا پہلو بھی وہی ہے۔جو آج بھی لیلیٰ کی محبت میں گرفتار ہے۔

اس مصرعہء اول میں ’درد‘ اور ’پہلو‘ کے الفاظ قابلِ غور ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ لیلیٰ کا درد،قیس کے پہلو میں محسوس ہوتا تھا اور قیس کے درد و الم میں لیلیٰ بھی برابر کی شریک ہوتی تھی۔ دونوں کے دکھ سانجھے تھے۔

اقبال کہنا یہ چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ میں لیلیٰ و مجنوں کا غم و الم ایک جیسے ہیں۔ وہی لیلیٰ ہے جو مجنوں کی دیوانی ہے اور وہی قیس ہے جو لیلیٰ پر فدا ہے۔ اس مصرع کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ اگر خدا لیلیٰ ہے تو مسلمان مجنوں ہیں اور اپنی لیلیٰ (یعنی خدا) کے دیوانے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پروردگار بھی وہی ہے اور اس کی عبادت کرنے والے مسلمان بھی وہی ہیں۔

اس شعر کا دوسرا مصرع استعارۃً استعمال ہوا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ نجد(عرب) کے صحراؤں میں ہرنوں کی مستانہ چالیں بھی وہی ہیں کہ جو تھیں۔ اگر نجد کو دنیا فرض کرلیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس دنیا کے جنگلوں اور ریگستانوں میں جوہرن پہلے رَم کیا کرتے تھے، وہ آج بھی اسی طرح اٹھکیلیاں کرتے پھرتے ہیں۔

آج بھی مسلمان خداوند کریم کی عطاؤں پر اس کے شکرگزار ہیں اور اس پر نازاں ہیں کہ وہ خالق و مالک ان پر خاص نظرِ کرم رکھتا ہے۔ دوسرے شعر میں یہ معاملہ اور صاف ہو جاتا ہے کہ عشق بھی وہی ہے اور حسن بھی وہی ہے۔

یعنی اگر خدا کو حسن مان لیا جائے تو اس کے چاہنے والے اور گردیدہ عاشقوں کی کمی نہیں۔ اس شعر کے اگلے مصرعہ میں مطلبِ مزید واضح ہوگیا ہے کہ اے خدا! تیرے محبوب کی امت بھی وہی ہے اور تو بھی وہی ہے۔

یعنی نہ خدا بدلا ہے اور نہ امتِ احمدؐ تبدیل ہوئی ہے۔

اور آخری شعر میں پوچھا گیا ہے کہ اگر خدا اور بندے کا باہمی رشتہ وہی ہے جو پہلے تھا تو پھر اے خدا! آپ کی بے وجہ (غیر سبب) ناراضگی کا کیا مطلب ہے ؟اور ہم مسلمان جو آپ کے والہ و شیدا ہیں ان پر تمہاری طرف سے نگاہِ کرم کی بجائے چشمِ غضب ڈالناچہ معنی دارد؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر21)

تجھ کو چھوڑا کہ رسولِؐ عربی کو چھوڑا؟

بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟

عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟

رسمِ سلمانؓ و اویسِ قرنی کو چھوڑا؟

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں

زندگی، مثلِ بلالِ حبشیؓ رکھتے ہیں

اس بند میں ماسوائے ایک لفظ ’’آشفتہ سری‘‘ کے کوئی دوسرا لفظ ایسا نہیں کہ اس کی وضاحت کی ضرورت ہو۔ (آشفتہ سراس آدمی کو کہتے ہیں جس کے دماغ پر دیوانگی کا اثر غالب ہو۔)تاہم اس میں تین ایسی شخصیات کا ذکر ہے جن کے اسمائے گرامی سے ہر مسلمان واقف ہے یعنی حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت اویس قرنی اور حضرتِ بلال حبشیؓ۔۔۔

حضرت سلمانؓ فارسی ایک جید صحابی تھے۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کا پہلا اعزاز یہ ہے کہ وہ پہلے ایرانی تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کا دوسرا اعزازیہ ہے کہ جنگِ خندق میں مدینہ کے گرد جو خندق کھودی گئی وہ حضرت سلمانؓ ہی کی تجویز تھی جسے رسولِ خداؐ نے منظور فرمایا اور ان کا تیسرا اعزاز قرآن حکیم کا فارسی زبان میں ترجمہ ہے۔

قرآن کا یہ پہلا ترجمہ ہے جو کسی غیر عربی زبان میں کیا گیا۔ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ انہوں نے ایران(فارس) میں جنم لیا، زرتشتی مذہب اختیار کیا اور آتش پرستوں کے ایک مندر میں بطور پروہت مقرر کئے گئے۔

تین سال کے بعد ان کی ملاقات ایک عیسائی مبلغ سے ہوئی جس کی باتوں سے متاثر ہو کر انہوں نے عیسائی مذہب قبول کرلیا۔ اور ایران سے بھاگ کر شام چلے آئے۔ وہاں انہوں نے حضرت محمدؐ کا نام سنا ۔ایک عیسائی مبلغ نے ان کو حضرت محمدؐ کی تین نشانیاں بتائیں۔۔۔ پہلی یہ کہ وہ صدقہ قبول نہیں کریں گے۔۔۔ دوسری یہ کہ وہ ہدیہ قبول کرلیں گے اور۔۔۔ تیسری یہ کہ ان کی پشت پر دونوں کاندھوں کے درمیان ایک ابھری ہوئی جگہ ہوگی جو مہرِ نبوت ہوگی۔

سلمانؓ یہ سن کر شام سے عرب روانہ ہوئے۔ اس سفر میں ان کو کسی نے پکڑکر ایک یہودی کے ہاتھ بیچ ڈالا جو مدینہ کا رہنے والا تھا۔ اس طرح وہ مدینہ میں آگئے اور اسلام قبول کرلیا۔ وہ حضرت علیؓ کے زمانے تک زندہ رہے۔

بعض حوالوں میں ان کو صوبہ فارس کا پہلا گورنر بھی بتایا گیا ہے۔ ان کے مزار کے بارے میں بھی مختلف داستانیں ملتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا مدفن مدائن یا اصفہان یا بیت المقدس میں ہے۔ 656ء میں وفات پائی۔ مشہور ہے کہ آنحضرتؐ نے ان کو اپنے اہل بیت میں شامل کرلیا تھا!

حضرت اویس قرنی، قرن کے رہنے والے تھے جو یمن کا ایک قصبہ ہے۔ ان کے والد کا نام امیر تھا اور وہ بھی یمنی عرب تھے۔ ان کا زمانہ آنحضور رسول اکرمؐ کا زمانہ ہے۔ ان کا مزار سلالہ(اردن) میں ہے۔

مشہور ہے کہ وہ عاشقِ رسولؐ تھے مگر ان کی ملاقات آنحضرتؐ سے نہ ہوسکی۔ ان کی مستند سوانح عمری مولانا اویس القرنی نے لکھی ہے جو جنوبی افریقہ کے رہنے والے تھے۔63 برس کی عمر میں وفات پائی۔ صوفیا کا اویسی سلسلہ انہی کے نام سے مشہور ہے۔

بعض تذکروں میں لکھا ہے کہ وہ صفین کی لڑائی میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ اس لڑائی میں وہ حضرت علیؓ کی فوج میں شامل تھے۔ ابن بطوطہ کے مطابق بھی وہ اسی لڑائی میں جاں بحق ہوئے تھے۔

حضرت بلالؓ کے والدین ایبے سینیا کے رہنے والے تھے۔ والد کا نام رباح اور والدہ کا حمامہ تھا۔ ایبے سینیا کو آج کل ایتھوپیا کہا جاتا ہے۔ آنحضرتؐ کے زمانے میں اس کو حبشہ بھی کہا جاتا تھا۔ اسی لئے حضرت بلالؓ کو بلالِؓ حبشی کہا جاتا ہے۔

نہ صرف حبشہ بلکہ وسطی اور جنوبی افریقہ کے لوگوں کا رنگ چونکہ کالا ہے اس لئے ہر کالے رنگ کے آدمی کو حبشی کہا جانے لگا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ان کو افریقی کہا جاتا لیکن چونکہ براعظم افریقہ کے جو ممالک اس کے شمال میں واقع ہیں اور بحیرہ روم کے ساحل ان کو لگتے ہیں، ان کے باشندوں کا رنگ گندمی یا سفید گندمی ہے۔

اس لئے ان کوافریقی نہیں کہا جاتا بلکہ مصری، لیبیائی، الجزائری اور مراکشی وغیرہ کہتے ہیں۔

حضرت بلالؓ ،حبشہ سے مکہ آئے تو ان کو امیہ بن خلف نے خرید لیا۔ بلالؓ نے آتے ہی اسلام قبول کر لیا تھا جبکہ ان کا آقا امیہ بن خلف مسلمانوں کا سخت دشمن تھا۔ اس نے حضرت بلالؓ کو شدید بدنی سزائیں دیں جن کا احوال کتبِ تاریخ میں درج ہے اور ہم سب جانتے ہیں۔ بعض حوالوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ بلالؓ کو حضرت ابوبکرؓ صدیق نے رہائی دلوائی اور بعض حوالوں میں اس روائت کو ضعیف سمجھا جاتا ہے۔

واقدی اور ابن اسحق نے لکھا ہے کہ حضرت محمدؐ نے خود معاوضہ دے کر ان کو رہا کروایا تھا۔ اس کے بعد حضرت بلالؓ آنحضورؐ کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ تمام غزوات میں شرکت کی اور آنحضورؐ کے کہنے پر اسلام کے پہلے موذن بنے۔ حضورؐ نے ان کو بیت المال کا انچارج وزیر بھی مقرر کررکھا تھا۔ ان سے کئی احادیث بھی مروی ہیں۔

مشہور ہے کہ دورِ غلامی میں جب امیہ بن خلف بلالؓ کو شدید بدنی سزائیں دیتاتھا اور کہتا تھا کہ اللہ کی وحدت سے انکار کردو تو حضرت بلالؓ حبشی کی زبان سے ’’احد، احد‘‘ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

شکوے کے اس بند کے تیسرے مصرعے میں اقبال خدا سے سوال کرتے ہیں کہ :’’کیا ہم نے حضرت سلمان فارسیؓ اور اویس قرنی کی رسمِ بندگی کو ترک کیا؟‘‘ اس مصرعہ سے پہلے والے مصرعوں میں عشق اور عشق کی آشفتہ سری کا ذکر ہے۔

اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت سلمانؓ، حضرت اویس قرنی اور حضرت بلالؓ حبشی تو عاشقانِ خدا و رسول تھے۔ ان کا شیوہ آشفتہ سری اور دیوانگی تھا جو عمر بھر ان کے ساتھ رہا۔ اور آخری شعر میں:’’آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں‘‘ کا ٹکڑا ازبس توجہ طلب ہے۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ حضرت بلالؓ کو خود رسولِ ؐخدا نے موذن مقرر فرمایا تھا اور اذان کا پہلا ٹکڑا ’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ ہے۔ اس لئے اقبال کہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ کے سینے میں تکبیر(اللہ اکبر، اللہ اکبر) کی ایک آتشِ مسلسل فروزاں رہا کرتی تھی۔۔۔۔اور دوسرا نکتہ اس شعر میں یہ ہے کہ اذان کے ایک دوسرے ٹکڑے میں خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت( لاالہ الا للہ) کا ذکر ہے جو حضرت بلالؓ کے منہ سے دن میں پانچ وقت کی اذانوں میں ادا ہوتا تھا۔

شکوہ کیا جارہا ہے کہ ہم مسلمان تو حضرت سلمانؓ اور حضرت اویس جیسے عاشقانِ رسول تھے اور حضرت بلالؓ جیسے توحید پرست تھے۔ ہماری زندگیاں تو عشقِ رسولؓ اور وحدتِ خداوندی کے لئے وقف تھیں۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہم سے بے اعتنائی کیوں برتی جارہی ہے؟

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...