سیاسی سرگرمیاں بھی جاری، تحریک انصاف کے بعد متحدہ مجلس عمل کا بڑا جلسہ

سیاسی سرگرمیاں بھی جاری، تحریک انصاف کے بعد متحدہ مجلس عمل کا بڑا جلسہ

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے آج چاند نظر آنے کے واضح امکان ظاہر کئے گئے اور پوری توقع ہے کہ کل (جمعرات) پہلا روزہ ہوگا، جس کے ساتھ ہی معمولات میں تبدیلی آ جائے گی۔ سرکاری دفاتر اور بنکوں کے اوقات کار تبدیل کر دیئے گئے جبکہ پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے بھی کل سے بند ہوں گے۔ اس بار گرمی کی شدت اور رمضان المبارک ہی کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں قبل از وقت کی گئی ہیں جو 10 اگست تک جاری رہیں گی۔ اس سلسلے میں نجی تعلیمی اداروں نے حکومت سے مذاکرات کے بعد خصوصی اجازت لی کہ طلباء و طالبات کے امتحان لئے جا سکیں، جو شروع ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ فیسوں کی وصولی ہے۔ اس سلسلے میں عدالتی حکم سے بھی بچنے کے پہلو تلاش کئے گئے ہیں۔

یہ سلسلہ بھی یہاں پرانا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ حکومت بے بس ہو جاتی ہے اور اس مصنوعی مہنگائی کو روکنے کے لئے سبسڈی کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے، وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی سٹوروں کے لئے رقوم مختص کیں اور اشیاء کے نرخ کم کئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے سستے رمضان بازاروں کا اہتمام کیا ہے۔ جو آج بھی مکمل کئے جا رہے تھے آٹے، گھی اور چینی پر سبسڈی بھی دی گئی اور مختلف کمپنیوں سے اشیاء میں رعایت کے معاملات بھی طے کئے گئے ہیں۔ بہر حال شہری آج تک ضرورت کی اشیاء خریدنے میں مصروف رہے کہ روزہ رکھا اور کھولا جائے۔

اس سخت موسم اور رمضان کی آمد کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کو ہے۔ 31 مئی آخری روز ہوگا اور یکم جون سے عبوری حکومت کام کرے گی۔ جو انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام تک برقرار رہے گی۔ الیکشن کا زمانہ ہے اس لئے سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ حال ہی میں عمران خان جلسہ کر کے گئے اور اتوار (13 مئی) کو متحدہ مجلس عمل نے مینار پاکستان پر جلسہ کر کے انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ بھرپور جلسہ تھا اور خطاب بھی بڑے پر جوش تھے۔ متحدہ مجلس عمل پھر سے یکجا اور فعال ہوئی ہے۔ مجلس کے امیر مولانا فضل الرحمن نے جلسے میں اعلان کیا کہ یہاں دین مصطفیٰؐ کے نظام کے سوا کوئی دوسرا نظام قبول نہیں اور یہاں کسی بھی نام سے دین مخالف کوئی سسٹم قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس جلسہ عام میں 17 نکالی منشور کا بھی اعلان کر دیا اور کہا کہ ایم ایم اے انتخابات جیت کر ایک مثالی ریاست تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے مینار پاکستان جلسے میں اعلان کیا کہ یہاں دین مصطفیؐ کے نظام کے سوا کوئی دوسرا نظام قبول نہیں اور یہاں کسی بھی نام سے دین مخالف کوئی سسٹم قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایم ایم اے انتخابات جیت کر ایک مثالی ریاست تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے مینار پاکستان پر جلسے کرنے والوں کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ اس جلسے سے مقابلہ کر لو، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کرپشن ہی کو موضوع بنایا اور انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک سے کرپشن کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

جلسہ کے لئے مقامی لوگوں کے علاوہ دوسرے اضلاع اور صوبوں سے بھی لوگ شرکت کے لئے آئے تھے۔

ضلعی انتظامیہ کی کوشش کے باوجود مینار پاکستان پرجلسے روکے نہیں جا سکے۔ یہاں ہونے والے اجتماعات کی وجہ سے سبزے کا نقصان ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے جلسے کے باعث پی ایچ اے نے حساب لگا کر بتایا کہ قریباً 39 سے 40 لاکھ روپے بحالی پر خرچ ہوں گے۔ عبدالعلیم خان نے ایک بیان میں نقصان پورا کرنے کا اعلان کیا تھا اب ان کو اس پر عمل بھی کرنا چاہئے ادھر اس عرصہ میں دوسرا جلسہ متحدہ مجلس عمل کا ہو گیا اور یوں پھرسے نقصان پہنچا اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے راہنما امیر العظیم کا موقف ہے کہ ایسے بڑے جلسوں کے لئے لاہور میں کوئی دوسری جلسہ گاہ نہیں۔ حکومت کو اس مقصد کے لئے وسیع جگہ مہیا کرنا چاہئے۔ دوسری صورت میں یہاں جلسے ہوں گے۔ البتہ یہ درست ہے کہ جو جماعت جلسہ کرے وہ مینار پاکستان کے علاقے کو بحال بھی کرے یا پھر نگران ادارے کے تخمینے کے مطابق رقم ادا کر دے ۔

حکومتی معیاد ختم ہونے کو ہے اور حکمرانوں کی کوشش ہے کہ جو منصوبے زیر تکمیل ہیں وہ کسی طرح مکمل کر لئے جائیں۔ صوبائی وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف چاہتے ہیں کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین چل جائے اس کے لئے دن رات کام کروایا جا رہا ہے اور فی الحال آزمائش کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر چہ ابھی بہت کام پڑا ہے خصوصاً ٹرین کی پٹڑی اور سٹیشنوں کے اردگرد کی سڑکیں اور دوسری عمارتیں جوں کی توں ہیں بہر حال کوشش ٹرین کی آزمائش کے لئے ہے ۔

وفاقی بجٹ کے بعد سے سرکاری ملازمین سرا پا احتجاج ہیں ان کا مطالبہ تنخواہوں میں دس کی بجائے پچاس فی صد اضافے کا ہے اور ایپکا کے زیر اہتمام مظاہرے اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ یوں بھی بجٹ کی منظوری تو مئی کے اندر ہو گی لیکن عمل در آمد تو یکم جولائی سے ہوگا۔ وفاقی بجٹ میں کئی ایسی سکیمیں بھی ہیں جن پر بعد میں بھی احتجاج ہوگا۔ خصوصاً فائیلز اور نان فائیلر کے معاملات میں ابہام ہے۔ جسے ایک طرف تو بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدنی ٹیکس فری کیا گیا اور ساتھ ہی یہ پابندی لگائی جا رہی ہے کہ نان فائیلر نہ کار اور نہ ہی کوئی جائیداد خرید سکے گا خواہ وہ اپنی ایک لاکھ کے اندر ماہانہ آمدنی میں سے بچت ہی کر لے، بہر حال یہ دور اپنے اختتام کی طرف مائل ہے اور عبوری حکومت کے زیر اہتمام انتخابات کے بعد اگست میں نئی حکومتیں بن جائیں گی۔ کس کی کہاں ہو گی فیصلہ عوام اپنے ووٹ سے کریں گے نابینا افراد کا مسئلہ حل نہیں ہو پایا وہ پھر سے دھرنا دے کر میٹرو بند کر چکے اور روزانہ احتجاج کرتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...