بلاول کا جلسہ لیّہ، روٹی، کپڑا، مکان ہی کا نعرہ!

بلاول کا جلسہ لیّہ، روٹی، کپڑا، مکان ہی کا نعرہ!

مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے دور اقتدار کے دوران تو شاید ایک آدھ مرتبہ ہی ملتان آئے ہوں لیکن نا اہلی اور پارٹی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں بھی جنوبی پنجاب اور اس کے باسیوں کی محبت یاد آگئی اور انہوں نے اپنا دکھڑا سنانے کے لئے یہاں جلسہ عام کا فیصلہ کر لیا جس کی تیاری کے لئے لیگی ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو ہدف بمعہ ساز و سامان دے دیا گیا گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ بھی تین روز پہلے ہی یہاں آکر بیٹھ گئے اور انتخابات کا جائزہ لیتے رہے ن لیگی بوجوہ دست و گریبان بھی ہوتے رہے اور جلسہ عام مخدوم جاوید ہاشمی لوٹ کر چلے گئے باقاعدہ شمولیت اور شکوے شکایت کے ساتھ وعدے وعید بھی ہوئے اب یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ جلسہ کتنا بڑا تھا اور کیا مقامی ن لیگی قیادت اس سے زیادہ عوام کو جمع کر سکتی تھی کہ نہیں یہ الگ داستان ہے جس میں سیاست سے زیادہ منافقت شامل تھی تاہم اس جلسہ میں اتنے لوگ ضرور آگئے کہ میاں نواز شریف کو تقریر کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی اور انہوں نے بھی مقامی عوام کی دکھتی رگ، الگ صوبہ کے ایشو کو چھیڑنے کی بجائے اپنا دکھڑا ہی دہرایا اور کہا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ اب نعرہ بن چکا ہے اور عوام اب ووٹ کے ذریعے مجھے واپس لائیں گے اب عوام انہیں ووٹ کے ذریعہ واپس لاتے ہیں کہ نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والے عام انتخابات میں ہی ہو گا لیکن مخدوم جاوید ہاشمی لیگی قیادت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ’’آن بورڈ‘‘ ہو گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ لیگی ہیں اور میاں نواز شریف کل بھی ان کے لیڈر تھے اور آج بھی ان کے لیڈر ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انہوں نے مسلم لیگیوں کو اپنا سیاسی گھر قرار دیا اور اعادہ کیا کہ اب سیاست اس کے پلیٹ فارم سے ہی کریں گے اب ان کی یہ بات کس حد تک درست ثابت ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ ملتان کا جلسہ عام تو ایک انگریزی اخبار سے منسلک ایک صحافی سیرل المائیڈہ کی میاں نواز شریف کے منفرد انٹرویو کی سٹوری کے تلے ہی دب کر رہ گیا اس طرح مخدوم جاوید ہاشمی کی ’’واپسی‘‘ بھی میڈیا میں زیادہ جگہ نہ پا سکی جب یہ سٹوری ’’ڈان‘‘ کے صفحات کی زینت بنی جس میں انہوں نے میاں نواز شریف سے خصوصاً بھارت میں ’’نان اسٹیٹ ایکڑز‘‘ (دہشت گرد) کی کاررائیوں کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں جو لکھا اس سے نہ صرف قومی بلکہ ہمسایہ ملک بھارت میں میڈیا نے اپنے اپنے موقف کو لے کر آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن کسی نے بھی اس کی اساس میں جانے کی کوشش نہیں کی اور کرتے بھی کیوں کیونکہ انہیں تو اپنے چینل اور اخبار کے لئے ایک ایسا مواد مل چکا ہے جس سے وہ کم از کم ایک ہفتہ تک اس کا پیٹ بھرتے رہیں گے کیونکہ یہ تمام ایشو ایک ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب حکومت پاکستان نے بوجوہ امریکی سفارت خانے سے عہدیداروں کو ایک ضابطہ اخلاق میں لانے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے ویانا کنونشن کے فیصلوں کے عین مطابق ہے جبکہ ایک پاکستانی شہری کے ٹریفک حادثہ میں قتل کرنے کے الزامات ہیں جس کے تحت ملزم کرنل کو بلیک لسٹ میں شامل کر کے ملک چھوڑنے سے منع کر دیا گیا حالانکہ اسے لینے کے لئے افغانستان سے ایک C-130 فوجی طیارہ بھی نور خان ائیر بیس پر آیا لیکن خالی چلا گیااگلے ہی روز سفارتی استعفیٰ کی بنیاد پر جانے دیا گیا اب ایسے وقت میں اتنی جلدی کیا تھی کہ ’’ڈان‘‘ کا رپورٹر میرل المائیڈہ ایک خصوصی چارٹر جہاز کے ذریعے ملتان پہنچا جہاں اس کے لئے وزارت اعظمےٰ کے مشیر برائے سول ایوی ایشن کا ایک خصوصی خط ملتان ائیر پورٹ کے حکام کو جاری ہوتا ہے اور وہ نواز شریف کی آمد سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے قبل ہی ملتان آجاتا ہے اور ملتان کے ایک معروف صنعتی اور کاروباری شخصیت کے گھر میں قیام کرتا ہے جہاں نواز شریف نے اس صنعتی گروپ کے چیئر مین خواجہ محمد مسعود کی عیادت کے لئے آنا ہوتا ہے جو کافی عرصہ سے علیل ہیں یہی وہ وقت ہے جہاں وہ سرل المائیڈہ سے مخاطب ہوتے ہیں اور انٹرویو شروع ہوتا ہے جو کہ ایک طے شدہ پروگرام کے عین مطابق تھا اس انٹرویو کے بعد سرل المائیڈہ واپس کراچی کے لئے روانہ ہو جاتا ہے اور دوسرے دن ان کی یہ سٹوری ’’ڈان‘‘ کے صفحات کی زینت بنتی ہے واضح رہے کہ ان تمام معاملات میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید ہی کوارڈینیٹر رہے جنہیں ڈان لیکس پر وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا اور اس وقت بھی یہی اخبار تھا جس نے وہ خبر بریک کی تھی اور اب بھی وہی ’’کیو‘‘ ہے کیا یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ اس وقت ڈان گروپ کو کنٹرول کرنے والے کی اہلیہ سہگل فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور شریف خاندان کے کاروباری دوست میاں منشاء کی اہلیہ بھی سہگل کی بہن بھی ہیں اب یہ ایسی متنازعہ خبر بار بار اسی اخبار کی زینت کیوں کر بن رہی ہے یہ شاید اس بات کو سمجھ پائے کیونکہ جس وقوعہ کا اس خبر میں ذکر کیا گیا ہے وہ وقوعہ تو بین الاقوامی میڈیا نے بھی جھوٹ قرار دیا تھا خصوصا جرمنی کے ایک معروف صحافی اپلاس ڈیوڈس نے امریکہ اور دوسرے ممالک کے تحقیقاتی صحافیوں پر مشتمل ایک ٹیم کے ساتھ اس پر کام کیا تھا جس کے لئے انہوں نے ممبئی کا سفر بھی کیا اور اس تمام وقوعہ کو جھوٹ پر مبنی داستان قرار دیتے ہوئے 900 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی کتاب مرتب کی جس کا نام Betrayal of India Revisiling the 26/11 eviduce" ہے جس میں انہوں نے اس وقوعہ کو انڈیا اور امریکی کا مشترکہ منصوبہ قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کو جھوٹ قرار دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب یا اس تحقیق پر نہ تو بھارتی میڈیا نے کوئی جواب دیا اور نہ ہی امریکہ کی طرف کوئی جواب آیا جس کے بعد خاموشی چھا گئی اور اب تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف نے ایک سوال اٹھا کر ہل چل مچا دی ہے اب یہ ہل چل کب تک چلے گی اور اس کا رزلٹ کیا ہو گا آئندہ انتخابات پر اس کے کیا اثرات ہوں گے اس کے لئے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔

ادھر لیہ میں پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے ایک جلسہ عام میں جنوبی پنجاب کے منشور کا اعلان کیا ہے کہ صحت، تعلیم اور کسانوں کے منصوبے لائیں گے انکم سپورٹ پروگرام جیسے انقلابی منصوبے شروع کر کے خواتین کو بااختیار بنائیں گے سستی رہائشی کالونیاں، بارانی یونیورسٹی، فری انڈسٹریل اسٹیٹ زون کا قیام، معیاری یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کا اجرا ہو گا تاہم انہوں نے ن لیگی قیادت اور عمران خان پر سخت تنقید بھی کی اور عوام سے پیپلز پارٹی کا ساتھ اور ووٹ دینے کا وعدہ لیا اب وعدہ تو انہوں نے لے لیا اور کیا لیّہ کے عوام ان کے الفاظ پر یقین کر لیں گے کیونکہ پیپلز پارٹی 1961 سے ہی عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کا پاپولر نعرہ لگا کر ساتھ ملا رہی ہے وہ آج بھی اسی طرح سے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ جاری ہے اب اس نعرے پر لوگ کیا یقین کرتے ہیں اس کا رزلٹ تو آئندہ انتخابات میں ہی سامنے آئے گا۔

ادھر عوامی راج پارٹی نے قلعہ کہنہ ابن قاسم باغ پر جلسہ عام کیا جس میں شیخ رشید بھی خصوصی طور پر مدعو تھے جنہوں نے خاصی جذباتی تقریر کی لیکن وہ جذبات میں کافی دیر بھول گئے اور کہنے لگے کہ یہ ملک اور نواز شریف اکٹھے نہیں چل سکتے لیکن جمشید دستی نے جاگیرداری وڈیرہ شاہی اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ پہلے بھی اس پر آواز اٹھاتے رہے اور اب بھی اس پر قائم رہیں گے یہ حسن اتفاق ہے یا پھر کرپشن دھوکہ دہی اور لوٹ مار کا عفریت ہے کہ جس وقت مریم نواز شریف جلسہ عام میں بڑے فخر سے یہ اعلان کر رہی تھیں کہ ملتان کی سڑکوں کو دیکھ کر مجھے اپنے چچا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے ٹھیک دوسرے دن ایک میٹرو فیڈر بس سورج میانی روڈ پر زمین میں دھنس گئی جو ملتان کی تاریخ کا ایک بڑا کڑوا سانحہ تھا اور واسا سمیت ان اداروں کی کارکردگی کا پول کھول رہا تھا جنہوں نے اربوں کے منصوبے اس بھونڈے طریقے سے مرمت کروائے ہیں اس میں اس وقت کی ضلعی انتظامیہ بھی شامل تھی جو اس وقت اپنے تبادلے کروا کر شہر سے جا چکے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1