صوبائی حکومت کا سیاسی بحران سنگین ، بجٹ اجلاس موخر کر دیا گیا

صوبائی حکومت کا سیاسی بحران سنگین ، بجٹ اجلاس موخر کر دیا گیا

خیبر پختونخوا حکومت مسلسل ایک خاموش سیاسی بحران میں گھری ہوئی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اسمبلی میں اپنی اکثریت کھونے اور عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد صوبائی حکومت کیلئے مختصرمیعاد بجٹ پیش کرنا ایک بہت بڑا چیلنچ بن چکا ہے صوبائی حکومت نے14مئی کو بجٹ پیش کرنے کا اعلان کر رکھا تھا مگر روزنامہ پاکستان اپنی سطور میں اپنا تجربہ پیش کر چکا ہے کہ تحریک انصاف میں بغاوت کی کیفیت اور جماعت اسلامی کی علیحدگی کے بعد حکومت کیلئے بجٹ پیش کرنا اور اسمبلی سے منظور کرانا ایک مشکل ترین مرحلہ ثابت ہوگا عین ممکن ہے کہ صوبائی حکومت اپنے مقاصد فاصل کرنے کیلئے ہارس ٹریڈنگ پر بھی اتر آئے مگر اب چند دنوں کیلئے شاید ہارس ٹریڈنگ بھی ممکن نہ ہو سکے صوبائی حکومت کی طرف سے 14مئی سے محض دو تین روز قبل بجٹ اجلاس ملتوی کر کے22مئی کے اسمبلی اجلاس بلانے کے اعلان سے روزنامہ پاکستان کے خدشات درست ثابت ہو گئے راقم التحریر کو اب بھی خدشہ ہے کہ 22مئی کا اجلاس 27یا 28مئی تک جا سکتا ہے جو کہ کی تحلیل کے اعلان پر ختم کر دیا جائیگا بصورت دیگر صوبائی اسمبلی میں ہونے والا ہنگامہ بد ترین مثال قائم کر سکتا ہے اگرچہ جماعت اسلامی نے علیحدگی کے باوجود تحریک انصاف کو اپنی حمایت کا بھر پور یقین دلایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف جماعت اسلامی کی حمایت صوبائی حکومت کیلئے کافی ثابت نہیں ہو سکتی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کی سب سے بڑی دو حریف جماعتیں مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام (ف) بھی موجود ہیں جو اسی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اسمبلی اجلاس کب بلایا جائے گا اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ارکان بھی موجود ہیں جو صرف مزے لینے کیلئے اسمبلی آتے ہیں مگر ان تمام ارکان میں سب سے خطرناک خود تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی ہیں جو حکومت کیلئے سنگین مسئلہ اور خطرہ بنے ہوئے ہیں ان ممبران کی تعداد حیران کن حد تک بڑھ سکتی ہے تحریک انصاف کے منحرف ارکان سمیت حزب اختلاف والوں نے نہ صرف سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے بلکہ نواز شریف سے کو تحریری طور پر درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کریں گورنر اقبال ظفر جھگڑا جو کہ مسلم لیگ ن کے ایک دیرینہ اور مخلص کارکن ہیں عدم اعتماد کی تحریک اور اعتماد کا ووٹ لینے کی تحاریک پر لیت ولعل سے کام لے کر حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ گورنر نے صوبائی حکومت کی درخواست پر 14مئی کا اجلاس 22مئی تک موخر کر دیا ہے جس کے بعد صوبائی حکومت کی رخصتی میں صرف6دن باقی رہ جائینگے مگر ہو سکتا ہے کہ یہ آخری 6دن حکومت پر اس قدر بھاری ثابت ہوں کہ وہ اس کا سامنا نہ کر سکے اور یوں اجلاس 22مئی سے مزید چند دن آگے نکل جائے۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں الیکشن قریب آتے ہی حسب سابق ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کی لہر شروع ہو گئی ہے دہشتگردی کی نئی لہر کا آغاز شمالی وزیرستان سے ہوا ہے جہاں ایک طرف سرحد پار سے دہشتگردوں نے بڑا حملہ کر کے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے7اہلکاروں اور جوانوں کو شہید2کو زخمی کر دیا دہشتگردی کا یہ مذموم واقعہ شوال میں پاک افغان سرحد کے قریب رائے نشتر میں پیش آیا، جہاں چیک پوسٹ پر سرحد پار سے افغان دہشت گردوں نے جدید خود کار اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا پاک فوج کی جوابی کاروئی سے افغان دہشتگردوں کا بھی بھاری جانی نقصان ہوا آخری اطلاعات تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کہ دہشتگردی کے اس واقع کے دوران شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کی پے درپے کئی وارداتیں ہو گئیں جن میں علاقے کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کے بیٹوں کو نشانہ بنایا گیا دہشتگردوں نے میر علی میں سابق ایم این اے مولانا دیندار کے صاحبزادے موسیٰ خلیم کو ان کے حجرے کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا زیر کی میں مدرسے کے مہتتم مولانا محمد اسحق کے صاحبزادے کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جو جان لیوا ثابت ہوا کول خیل میں عزیز الرحمن نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا عزیز الرحمن کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ حکومت کے حامی علاقے کی سرکردہ شخصیت تھے شمالی وزیرستان قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ حساس ترین علاقہ ہے افغانستان کی سرحد پر واقع یہ علاقہ ماضی میں بد ترین شورش کی زد میں رہا اور دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بھی رہا پاک فون نے اس علاقے کو کلیئر اور امن قائم کرنے میں بے مثالی جانی قربانیاں دیں مذکورہ علاقے میں بیک وقت اندرونی اور بیرونی دہشتگردی کے واقعات نے یقینی طور پر سیکورٹی اداروں اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکورٹی ادارے دہشتگردوں کے نئے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں کتنے عرصے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں بہر حال یہ بات طے ہے کہ پاک فوج علاقے میں قیام امن کی جدوجہد میں اپنے جوانوں کی دی جانے والی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دے گی اور بہت جلد ان دہشتگردوں کا ان کے سہولت کاروں سمیت صفایا کر دے گی سابق نا اہل وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز سوات کے علاقہ ضلع بونیر میں اپنا میلہ سجایا نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ابا حضور کے متنازعہ بیان کا دفاع کرتے ہوئے ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش کی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے واقعہ کارگل کو ایشو بنایا اور کہا کہ جنرل مشرف نے حکومت کو بتائے بغیر کارگل پر چڑھائی کی مریم نواز اپنے والد بزرگوار کے دفاع میں مسلسل بورلتی رہیں جبکہ نواز شریف اپنا پرانا راگ الاپتے رہے جلسے کے اختتام پر جب مقامی صحافیوں نے نواز شریف پر سوال کیا کہ آپ نے اپنے خطاب میں کلبھوشن یادو کو دہشتگرد نہیں کہا تو نواز شریف پہلے صحافی کا منہ دیکھتے رہے پھر جواب دینے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہو گئے اس سے قبل جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف مسلسل یہ کہتے رہے کہ ان کی حکومت آئی تو بونیرکوپیرس بنا دینگے خیبر پختونخوا کو لندن بنا دینگے ہم موٹر وے بھی بنائیں گے ہم یہ بھی کرینگے ہم وہ بھی کرینگے نواز شریف کے خطاب سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کبھی بھی اقتدار میں نہ آئے ہوں اور عمران خان کی طرح پہلی مرتبہ اقتدار میں آنے کیلئے لوگوں کو سبز باغ دکھا رہے ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...