گیارہ برس بعد ہر سیاسی جماعت 12مئی کی یاد منا رہی ہے

گیارہ برس بعد ہر سیاسی جماعت 12مئی کی یاد منا رہی ہے

عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کراچی میں بارہ مئی 2007ء کو رونما ہونے والے سانحہ کو گیارہ برس بیت گئے، مگر اس دن 50سے زائد جاں بحق ہونے والوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک کیا پہنچایا جاتا، سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ کا فیصلہ بھی ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کی وجوہات جانتے سب ہیں البتہ اب گیارویں برسی والے دن چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کی اور سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ کے زیر سماعت کیس کی فائل چیف جسٹس نے اپنے پاس منگوالی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں کریں گے، یا سندھ ہائی کورٹ کو مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کا کوئی ٹائم فریم دیں گے۔ چیف جسٹس اب بیرون ملک دورہ پر ہیں۔ وہ واپس آئیں گے تو پتہ چلے گا کہ اس کیس کی پیش رفت کس انداز سے آگے بڑھے گی۔ چیف جسٹس نے اس کیس کی طرف توجہ دے ہی دی ہے تو انہیں اس دن ہونے والے خونیں واقعات کی وہ تفصیل جو ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں رپورٹ ہوئی تھی۔ منگوا لینی چاہیے۔ خصوصاً امریکی نیوز ایجنسی ’’اے پی‘‘ کے نمائندے اور ملک کے معروف اور دبنگ صحافی جناب ضرار خان کی وہ رپورٹ جو انہوں نے اسی شام اپنے ادارے کو (عینی شاہد) کے طورپر فائل کی تھی۔ جو آج بھی اس کی ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ سانحہ بارہ مئی عدلیہ بحالی تحریک کے دوران رونما ہونے والا ایک ایسا المناک سانحہ ہے، جس کی تلخ یادیں اس شہر کے باسیوں کو ہمیشہ دل خراش واقعہ کے طور پر یاد رہیں گی کہ کس طرح اس روز جدید ترین ہتھیاروں سے لیس مسلح جتھے پولیس، رینجرز کی موجودگی میں بے خوف و خطر بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے۔ سرکاری انتظامیہ وفاقی اور صوبائی حکومت ان مسلح جتھوں کے سہولت کار اور پشت بان کا کردار ادا کرتے نظر آئے۔اس دن سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان تک کو اجازت نہ تھی کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے عدالتوں میں داخل یا عدالتوں سے باہر نکل کر اپنے گھروں کو جا سکیں۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو اس طرح محصور کرنے کی اس سے پہلے کبھی کسی کو جرات اور ہمت نہیں ہوئی تھی، طرفہ تماشا تو یہ تھا کہ یہ سب کچھ وہ لوگ کررہے تھے جو جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت میں شامل رہے تھے۔ ستم ظریفی تو یہ تھی کہ ’’قاتل‘‘ مقتولوں کی نعشوں پر بندوق کی نوک پر قبضہ کرکے مقتولین کے وارث بھی بن بیٹھے تھے۔

ستمبر 2013ء میں شروع ہونے والے پولیس اور رینجرز کے آپریشن نے ہتھیار بند مسلح جتھوں اور ان کے سرپرستوں کی رٹ ختم کی تو حالات سب ہی سیاسی جماعتوں کے لئے سازگار ہوئے ہیں۔ تب ہی ساری سیاسی جماعتیں متحرک ہو رہی ہیں سانحہ بارہ مئی کے حوالے سے کراچی میں پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف اور اے این پی نے الگ الگ مقامات پر اپنے شو آف پاور کے لئے جلسے کئے۔ پیپلزپارٹی نے مزار قائداعظم کے سامنے واقع باغ جناح میں کیا۔ (واضح رہے کہ باغ جناح مزار قائداعظم کا حصہ ہے۔ جہاں منصوبہ کے مطابق قائداعظم اکیڈمی کمپلیکس تعمیر ہونا تھا)قبل ازیں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی بضد تھے کہ وہ گلشن اقبال میں واقع ’’حکیم سعید‘‘ گراؤنڈ میں ہی اپنے جلسے کریں گے۔ گزشتہ ہفتے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان ہنگامہ آرائی سے معاملہ آگے بڑھ کر نوبت فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ تک پہنچ گئی تھی۔ تصادم سے بچنے کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دانش مندی کی کہ اعلان کر دیا کہ پیپلزپارٹی کسی اور جگہ اپنا جلسہ کرے گی۔ تحریک انصاف اپنا جلسہ ’’حکیم سعید گراؤنڈ میں کر لے۔ بلاول کے اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے بھی اپنا جلسہ دوسری جگہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ بارہ مئی تحریک انصاف کا جلسہ گلشن اقبال میں راشد منہاس روڈ پر واقع الٰہ دین پارک سے متصل اتوار بازار گراؤنڈ میں ہوا اور اے این پی نے بنارس چوک میں جلسہ کیا۔

اے این پی ہر سال بارہ مئی کو اپنا جلسہ بنارس چوک میں ہی کرتی ہے۔ ان کا شو مقامی نوعیت کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کسی بڑے شو کا اعلان بھی نہیں کیا تھا، البتہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنے اپنے جلسوں کی کامیابی کے بڑے بلند بانگ دعوے کئے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے بڑی زور دار تشہیری مہم بھی چلائی۔ دونوں جماعتوں نے وسائل بھی بے پناہ اور بے دریغ خرچ کئے۔ پورے شہر کو اپنے بینروں سے سجا دیا۔ بارہ مئی کو مرکزی قائدین سمیت دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے باغ جناح میں اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گلشن اقبال میں اپنے جلسوں میں شرکت کی۔دونوں جماعتوں کی طرف سے شرکاء کی تعداد کے دعوؤں سے قطع نظر بنیادی بات اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان جلسوں نے ان جماعتوں کے حق میں کراچی میں کوئی ایسی فضا پیدا کی ہے جو کراچی کے ووٹرز کو 2018ء کے انتخابات میں ان کی طرف متوجہ کرے۔ کیا پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے کراچی کے باسیوں کی محرومیوں اور ناانصافیوں کو ختم کرنے کا قابل عمل کوئی حل پیش کیا ہے؟ جو ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے ان کی طرف دیکھے؟

سر دست یہ کہنا مشکل ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے قائدین نے یہاں کے باسیوں کی محرومیوں کو دور کرنے کا قابل عمل حل پیش کیا ہے جناب عمران خان کے دس نکات تو قابل عمل اسی وقت ہوں گے۔ جب تحریک انصاف سندھ میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی، جس کے 2018ء کے انتخاب میں کتنے امکانات ہیں؟ اس کا خواب تو خود تحریک انصاف کے سنجیدہ اور حقیقت پسند لوگ بھی نہیں دیکھ رہے، تاہم تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے لئے حالات مزید سازگار اس وجہ سے ہو رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کے داخلی خلفشار نے ڈاکٹر فاروق ستار کو الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کا وہ ’’ووٹ بینک‘‘ جو مہاجر کارڈ کے نام پر پڑتا ہے۔وہ کسی دوسری جماعت کے بیلٹ بکس میں نہیں جائے گا، مگر وہ ووٹرز جو خوف و دہشت کی فضا کی وجہ سے اپنا حق رائے دہی آزادانہ استعمال کرنے میں تامل کرتا تھا۔ وہ اب اپنی آزادانہ مرضی سے اپنی پسند کی جماعت کے حق میں ووٹ ڈالنے میں آزاد ضرور ہوگا۔تمام قومی سیاسی جماعتوں کو بشمول پیپلزپارٹی کے اس زمینی حقیقت کا ادراک کرنا پڑے گا کہ سندھ میں نسلی اور لسانی سیاست پر مبنی تعصب اور نفرت کی سیاست کے بنیادی اسباب میں سے اہم سبب یہ ہے کہ قومی سیاست کی دعوے دار جماعتوں نے حقیقی اور جائز ایشوز ایڈریس نہ کرنے کی پالیسی اپنائی اور گروہی مفادات کے تابع یہاں کے مسائل سے اغماض برتنے اور عاقبت نااندیش فیصلوں پر صاد کیا۔ ایم کیو ایم کی سیاست کی کامیابی ، قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہاں کے باسیوں کی محرومیوں پر خاموش رہنے پر مکافات عمل تھا، جس کا شکار اب خود ایم کیو ایم اس وجہ سے ہوئی ہے کہ اس نے کراچی والوں کی محرومیوں اور ناانصافیوں کے نعرے تو بڑے لگائے مگر عملاً دہشت گردی اور جبری بھتہ خوری کے کلچر کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس خلاء کو وہی پُر کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو سکے گا جو یہاں کے باسیوں کے جائز حقوق دلانے کی مخلصانہ جدوجہد کرکے دکھائے گا۔

کراچی میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) اور دیگر تمام دینی و سیاسی جماعتیں اپنا اپنا ووٹ بینک رکھتی ہیں۔2018ء کے انتخاب میں سب کو اپنے اپنے ’’ووٹ بینک‘‘ کو بہتر منصوبہ بندی اور بہتر انتخابی حکمت عملی اختیار کرکے سود مند بنانے کے مواقع موجود ہیں۔ پیپلزپارٹی کے لئے تو سنہری موقع تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بارہ مئی کے جلسہ میں اعلان کر دیتے کہ اب سندھ میں دیہی سندھ اور شہری سندھ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا سبب بننے والا کوٹہ سسٹم آئینی طور پر 2013ء میں ختم ہو چکا ہے۔ اس لئے اب دیہی شہری کی بنیاد پر ملازمتوں میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا، مگر بدقسمتی سے بلاول بھٹو کے پاکستان کی تاریخ سے نابلد اور عاقبت نا اندیش مشیروں نے باغ جناح کے جلسہ میں ان کے منہ سے خلاف حقیقت یہ بات کہلوا دی ہے کہ سندھ میں دیہی شہری سندھ کی تقسیم کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم ذوالفقار علی بھٹو نے نہیں بلکہ شہید ملت خان لیاقت علی خان نے نافذ کیا تھا ان عقل کے اندھوں کو کون بتائے کہ انہوں نے بلاول کو گمراہ کرکے بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی کے ساتھ دشمنی کی ہے۔ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان نے وفاقی حکومت میں صوبوں کا آبادی کی بنیاد پر ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم کا جو کوٹہ نافذ کیا تھا۔ اس میں صوبوں کے اندر دیہی شہری کی کوئی تقسیم نہیں تھی۔1973ء کے دستور میں بھی آبادی کی بنیاد پر صوبوں کا جو کوٹہ مقرر ہے۔ اس میں بھی سندھ میں دس سال کے لئے صرف دیہی سندھ اور شہری سندھ کی تقسیم رکھی گئی تھی۔ جو بعد میں آنے والے فوجی اور سول حکمرانوں کی وقتی ضرورتوں اور گروہی مفادات کی وجہ سے چالیس سالوں پر محیط ہو گیا۔ آئینی طور پر 2013ء میں یہ کوٹہ سسٹم ختم ہو چکا ہے، مگر عملاً سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ملازمتوں میں بھرتی اور وسائل کی تقسیم میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب جو جماعت اس غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرے گی۔ وہی سندھ کے شہری علاقوں میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ تاہم یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ مہاجر کارڈ کے نام پر پڑنے والا ’’ووٹ بنک‘‘کہیں اور چلا جائے گا۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو اس ووٹ بنک کو اپیل کرنا چاہیے۔ جو کراچی میں ایم کیو ایم کے ووٹ بنک کے مقابلے میں بڑا ووٹ بنک ہے۔ ایم ایم اے اورمسلم لیگ(ن) کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ طے پا گیا تو دونوں جماعتیں فائدہ میں رہیں گی۔ عمران خان کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ دیگر قومی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کو بھی کراچی سے الیکشن لڑنا چاہیے۔

شہبازشریف ایک ہفتہ میں اندروں سندھ کا دوبار کرچکے ہیں اگر مسلم لیگ(ن) میاں شہبازشریف کو کراچی یا اندرون سندھ سے الیکشن لڑنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو سندھ کی انتخابی مہم میں جان پڑ جائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1