علی اکبر گروپ اور اخوت مل کر چھوٹے کسان کو خوشحال بنائیں گے،ڈاکٹر امجد ثاقب

علی اکبر گروپ اور اخوت مل کر چھوٹے کسان کو خوشحال بنائیں گے،ڈاکٹر امجد ثاقب

لاہور ( بزنس رپورٹر ) زرعی ادویات ،کھاد ،بیج اور زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں صفِ اول کے ادارے علی اکبر گروپ کے ذیلی ادارے ٹارگٹ زرعی مرکز کی سالانہ سیلزکانفرنس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا گیا جس میں پنجاب اور خیبر پختوخواء کے ڈیلرز علی اکبر گروپ کے چیئرمین میجر ( ر ) اعجاز محمد خان ،منیجنگ ڈائریکٹر سعد اکبر خان ،ڈائریکٹرز احسن اکبر خان،وقاص شجاعت خان،جنرل منیجر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ملک فاروق احمد،ڈپٹی جنرل منیجر سجاد حسین شاہ عبدالناصر اور بلا سود قرضے فراہم کرنے وانے والی اینجی او "اخوت" کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے شرکت کی ۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین علی کبر گروپ میجر ریٹائرڈ اعجاز محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ علی اکبر گروپ صرف کاروباری ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے سبز انقلاب برپا کرنے کے لئے کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے کاشتکاروں کی اکثریت چھوٹے یونٹس پر مشتمل ہے جو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور وسائل سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کی فی ایکٹر پیدواربھی کم ہے اور اب انشاء اللہ علی اکبر گروپ اورا خوت باہم مل کر بے وسیلہ چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود زرعی قرضے ،جدید منافع بخش زراعت کے متعلق معلومات سستی کھاد بیج اور ادویات ا ن کی دہلیز تک پہنچا کر ان کو خوشحالی سے ہم کنار کریں گے،علی اکبر گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر سعد اکبر خان نے کہا کہ فی ایکٹر زیادہ پیداوار ملک و قوم کی خوشحالی کی ضامن ہے اور یہی ہمارا نصب العین بھی ہے کیونکہ ملک و قوم کی مجموعی ترقی اس سے مشروط ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی اور" اخوت"کے بانی چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کے قیام کی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ 10ہزار روپے کے قرض سے شروع ہونے ولا بلا سود قرضوں کا یہ نظام اب 61ارب روپے تک پہنچ چکا ہے او ر ملک کے تقریبا26لاکھ خاندانوں کے سواکروڑ لوگ اس سے مستفید ہوکر باعزت طریقے سے اپنا روزگار چلا رہے ہیں۔اس وقت اخوت کے 400شہروں میں 800دفاتر اور تقریبا 7ہزار کا عملہ موجود ہے یہ سب ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا جو یہ ثابت کرتا ہے ہے کہ ریاست کی مدد کے بغیر بھی خوشحال معاشرہ کی تعبیر ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کی اکثریت دیہات پر مشتمل ہے جس کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے ان کی اکثریت شدید غربت اور عدم توجہی کا شکا رہے ہم ان کے لئے قرضہ سکیم شروع کی ہے جس کے تحت ہم ان چھوٹے کاشتکاروں کو قرضہ دے رہے ہیں۔جو بالکل بے وسیلہ ہیں اب تک ہم تقریبا 40ہزارایسے چھوٹے کسانوں کو قرضہ فراہم کر چکے ہیں ان میں سے اکثر کی گندم کی موجودہ پیداوار 40من فی ایکڑ تک آگئی ہے۔جو اس سے قبل آدھی تھی اور اب ہم اخوت اور علی اکبر گروپ مل کر ان چھوٹے کاشتکاروں،کسانوں کوآسان قرضے اور 10%رعایت کے ساتھ علی اکبر گروپ کی معیاری ادویات ،کھاد،بیج،اور جدید زراعت سے متعلق علم وہنر ان کو ان کی دہلیز پرفراہم کریں گے۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ" اخوت" کے شفاف اور نتیجہ خیز کام کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے بھی زرعی ترقی کا ایک منصوبہ ہمارے حوالے کیا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے اسی طرح کے پی کے اور گلگت بلتستان حکومت بھی اخوت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ملک بھر کے بے وسیلہ اور محروم بچوں کی تعلیم کیلئے اخوت یونیورسٹی کی تعمیر کاکام بھی جاری ہے جس سے ملک کے پانچوں صوبوں،کشمیر اورفاٹا کے بچے یکساں مواقع کے ساتھ علم حاصل کرکے قومی ترقی کے سفر کاحصہ بنیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1