سابق وزیر اعظم کا بیان ، قومی ، پنجاب ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ ، پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

سابق وزیر اعظم کا بیان ، قومی ، پنجاب ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ ، ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) اپوزیشن نے میاں نوازشریف کے متنازعہ بیان پر وزیراعظم کی ایوان میں وضاحت کو مسترد کردیا۔ اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔وزیراعظم کے بیان کے فوری بعد پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، نوازشریف نے مسترد کیوں کیا؟اس پر وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کا اجلاس بلانا ضروری تھا، جس میں ملکی سلامتی کے معاملے پربات ہوئی۔پیپلزپارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ وزیراعظم نے پیٹ میں درد کی بات کی اس پر واک آوٹ کرتے ہیں۔اعجاز جاکھرانی کے بیان پر وزیراعظم نے کھڑے ہوکر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کہا کہ جس کے پیٹ میں درد ہے بات کرلے، روز روز کے تماشے مت لگائیں، ملک کو چلنے دیں۔پوزیشن ارکان نے وزیر اعظم کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے شیم شیم اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کہ نعرے لگائے بعد ازاں اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤ ٹ کیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نوازشریف نے جو کہا اس میں غلط کیا ہے،نوازشریف بتائیں اس بیان کی ضرورت کیا تھی؟۔انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیا نے نوازشریف کے انٹرویو کو اچھالا،نوبت یہاں تک پہنچی کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑا،نوازشریف نے یہ اعلامیہ مسترد کردیا،پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ نوازشریف کے بیان سے بھارت کے مؤقف کو تقویت مل رہی ہے،اس بیان پر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2دنوں سے نوازشریف کا متنازع بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے۔نواز شریف کا بیان افسوسناک ہے،فضل الرحمان سمیت سب اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کو بدنام کرنیکا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے،ان کے بیان سے ہم گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی جانب جارہے ہیں دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے مفادات پر حملہ آور ہوگئے‘ نواز شریف اپنی وجہ سے مشکلات میں پھنسے ہیں‘ نواز شریف سیدھا سیدھا اداروں پر الزام لگا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہیں تو وزیر اعظم کو عہدے سے فارغ کردیں، وزیر اعظم ہی اس کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور کمیٹی کا اعلامیہ ان کی منظوری سے ہی جاری ہوا ہے، نواز شریف کے بیان کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان پر نئی پابندیاں لگا سکتا،زیر اعظم سیاست اور پارٹی بازی سے ہٹ کر ریاست اور قوم کیلئے کام کریں۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہوش سے کام لیں تو اداروں کے مابین تناؤ نہیں ہوگا۔ نواز شریف کے بیان کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان پر نئی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی اگر ایک بات کرتی ہے اور نواز شریف کے بیان کو مسترد کرتی ہے ان کوسمجھناا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ملک اور نواز شریف کی بہتری اسی میں ہے کہ نواز شریف اپنا بیان واپس لے لیں۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی ریاست اور کچھ سیاستدان سمت سے ہٹ چکے ہیں۔اگر نواز شریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہیں تو وہ اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف بول رہے ہیں کیونکہ وزیر اعظم ہی اس کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور کمیٹی کا اعلامیہ ان کی منظوری سے ہی جاری ہوا ہے۔۔ نواز شریف کو اگر اپنے وزیر اعظم پر اعتماد نہیں تو ان کو عہدے سے فارغ کردیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ نواز شریف نے خود ہی اعتراف جرم کر لیا اور اپنی جماعت کی حکومت کو بھی چارج شیٹ کیا ہے ، جب نواز شریف خود اعتراف کریں کہ ملک تنہا ہو چکا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اگر دنیا میں تنہا ہے تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہیں، نواز شریف بتائیں انہوں نے چار سال تک وزیر خارجہ کیوں مقرر نہ کیا، ہمارے چیئرمن بلاول بھٹو زرداری مسلسل کہتے رہے کہ وزیر خارجہ لگائیں ہم دنیا میں تنہا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت ملکی معاملات چلانے کے بجائے شریف خاندان کی لوٹی دولت بچانے میں لگی ہوئی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی حکومت بھی پاکستان کے خلاف بیانیے کا حصہ ہے اور موجودہ حالات میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے صرف مذمت کافی نہیں، اس معاملے پر اجلاس دوبارہ بلایا جائے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ آنے والا ہے اور اس سے قبل نواز شریف عالمی طاقتوں کو اس معاملے میں ڈال کر اسے سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا معاملہ پس پشت چلا جائے۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ریاست سے زیادہ خود کو نواز شریف کا وفادار ثابت کرنے پر لگے ہیں، وزیراعظم اور شہباز شریف خود کو نواز شریف سے علیحدہ کریں۔فواد چوہدری نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے آج ڈان لیکس کی تصدیق کی اور ماضی میں بھارت کے ساتھ ان کی جو پالیسی رہی اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

اپوزیشن احتجاج

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو مستردکرنے کیخلاف اپوزیشن نے ا یوان میں دوسرے روز بھی بھرپور احتجاج کیا جس کی وجہ سے ایوان کسی مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ایوان’’پھانسی دو‘‘ اور ’’چوتھی واری فیر‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا دوسری جانب کورم کی نشاندہی پر حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی اور اجلاس آج صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ایجنڈے پر محکمہ سپشلائزڈ ہیلتھ کیئراور پرائمری ہیلتھ کیئر کے سوالات موجود تھے ایوان میں صرف ڈاکٹر نوشین حامد کے سوال کا ہی جواب دیا جا سکا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 23منٹ تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا فورم پاکستان میں سب سے بڑا فورم ہے اس کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے انٹرویو کو مستردکردیا ہے جبکہ نواز شریف نے بھی اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اعلامیہ کو یکسر مستردکردیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف آمریت کی پیدوار ہے نواز شریف سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں ان کی جانب سے جمہوریت اور اداروں پر تابڑ توڑ حملے کیے جا رہے ہیں پنجاب کے لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں لہذا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو فی الفور مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ اب ان کو اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر کی گفتگو کے دوران ہی سپیکر نے اجلاس کی کاروائی روکتے ہوئے بیس منٹ کا آچانک وقفہ کردیا،بیس منٹ بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ڈاکٹر نوشین حامد کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری حسان ریاض نے کہا نواز شریف یکی گیٹ ہسپتال میں ڈاکٹر ز ،عملے کی کمی سمیت تمام بنیادی سہولیات کو پورا کردیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا وہاں ہر وقت مریضوں کا رش لگا رہتا ہے اکثر مشینیں بھی خراب ہیں اور سپیشل ڈاکٹر کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو ہدایات کی کہ محترمہ کو ساتھ لے کر ہسپتال کا دورہ کریں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا ئے۔وقفہ سوالات کے دوران ہی ڈاکٹر مراد راس نے کورم کی نشاندہی کر دی کورم کی نشاندہی پر سپیکر نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کا کہا پانچ منٹ بعد بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد سپیکر نے اجلاس آج صبح دس بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

کراچی ( سٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے بیان پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے وضاحت مانگنے کا فیصلہ کر لیا۔ پیپلز پارٹی دیگر جماعتوں سے بھی معاملے پر مشاورت کرے گی۔پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے تعلق بیان پر وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی سے وضاحت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی مشترکہ قیادت میں کراچی میں ہونے والے پارٹی کے اہم اجلاس کیا گیا۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس حوالے سے وزیرِاعظم سے ان کا موقف بھی معلوم کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں اپنے دئیے گئے موقف سے پارلیمنٹ کو ا?گاہ کریں جبکہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت کرے گی۔ اجلاس میں شیری رحمان، نثار کھوڑو، خورشید شاہ اور دیگر اہم رہنما شریک ہوئے۔دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست سے قابل سماعت قرار دے دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد نواز شریف کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا اور درخوست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے 3 مئی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر قومی راز افشا کرنے کی دھمکی دی۔وکیل نے کہا کہ نواز شریف کے 12 مئی کے بیان کو بھارت نے پاکستان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے طور پر لیا۔ وکیل بابر اعوان نے استدعا کی تھی کہ ڈی جی ایف آئی اے کو نواز شریف کے خلاف کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔دوسری جانب نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کی ایک اور درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس شمس محمود مرزا نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں نواز شریف کا بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے جس پر درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کیا اور ان کا حالیہ متنازع بیان ملک سے غداری کے مترادف ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے میں اس سلسلے میں کوئی درخواست دی جس پر درخواست گزار نے کہا کہ وزارت داخلہ کو درخواست دی مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔عدالت نے درخواست گزار کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کی پریس ریلیز پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی آج بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شاہ فرمان نے نواز شریف کے بیان کے خلاف خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی۔ منگل کو نواز شریف کے بیان کے خلاف خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی گئی۔ قرارداد پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شاہ فرمان نے جمع کرائی۔ قرارداد کے متن کے مطابق نواز شریف کا بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

پیپلز پارٹی

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...