امریکہ کی ڈھٹائی ، سلامتی کونسل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات سے روک دیا

امریکہ کی ڈھٹائی ، سلامتی کونسل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات سے روک دیا

غزہ، پیرس،لندن، انقرہ، قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عالمی برادری نے امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی پر شدید تحفظا ت ،نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت اور شہادتوں پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ انتہائی افسو سنا ک ہے،برطانیہ کا کہنا ہے وہ شرمندہ ہے کہ امریکہ کو سفارتخانے کی منتقلی سے نہیں روک سکا،امریکہ مشرق وسطیٰ میں ثالثی کا کرد ا ر کھو چکا ہے ، امریکی فیصلہ کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف اورعالمی برادری کے فیصلے کے منافی ہے،برطانوی وزیراعظم تھر یسا مے کے ترجمان نے کہا بر طا نوی سفارخانہ اتل ابیب میں واقع ہے اور اسے منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں،مراکش نے بھی امریکی فیصلے پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے وہ فلسطینیوں کے بنیادی و جائز حقوق کی مکمل حمایت اور مشرقی بیت المقدس فلسطینی دارالحکومت قراردیتا ہے، اسرائیل فورسز کی ظالمانہ کاررو ا ئی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے،فلسطینی بند پنجرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، امریکہ نے اسرائیل کے حق میں جانبدار ہو کر مسائل کو جنم دیا۔جنوبی افریقہ نے تل ابیب اور ترکی نے اسرائیل اور امریکہ سے سفیر واپس بلالیے، سعودی عرب نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے ،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ماسکو کا اعتراض کچھ یوں بیان کیا ہم مکمل یقین رکھتے ہیں امریکی اقدام عا لمی برادری کے فیصلے کے منافی ہے ۔انہوں نے کہا روس سے بیت المقدس کے معاملے پر متعدد مرتبہ مذاکرات کے لیے پیش کش کی گئی ۔مصر کے وزیر خارجہ نے ایک اعلامیہ میں اسرائیل کی فلسطینی شہریوں پر بہیمانہ عسکری قوت کے استعمال پر ’سخت مخالفت‘اورکہاوہ فلسطینی شہر یوں کے بنیادی اور جائز حقوق کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور صرف مشرقی بیت المقدس کو ہی دارالحکومت کا درجہ دیتے ہیں۔دریں اثناء گز شتہ روز اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہنا تھا غزہ پٹی میں اسرائیل فورسز کی ظالمانہ کارروائی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں اسرائیل، غزہ پٹی میں عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے جسے فوری بند ہونا چاہیے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نزدیک اسرائیل کی جانب سے سوچے سمجھے انداز میں فلسطینی شہر یوں پر گولیاں برسانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں ہیومن رائٹس واچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ لیہا وائٹ سن نے غز ہ پٹی پر فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کوخون کا تالاب قرار دیااورکہا دہائیوں سے پنجرے میں بند زندگی گزارنے پر مجبورفلسطینیوں کے قتل عام کو کو ئی نظر انداز نہیں کر سکتا ۔اسی طرح عرب لیگ کے چیف کا کہنا تھایہ فعل ان ممالک کیلئے بھی شرمناک بات ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی خوشیوں میں شریک ہیں، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا عالمی قوانین و سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی ہے ۔امریکی انتظا میہ کو اپنے فیصلے کے مختصر اور طویل المعیاد ثمرات کا اندازہ نہیں ، فلسطین کو ادراک ہو چکا ہے امریکہ فلسطین اسرائیل کے تنازعے میں ثالث کا کردار کھوچکا ہے، امریکا نے اسرائیل کے حق میں جانبدار ہو کر مسائل کو جنم دیا۔ دریں اثنا فرانس اور اردن نے بھی امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ چیک جمہوریہ، ہنگری اور رومانیہ نے یورپی یونین کے مذمتی بیان کو بلاک کردیا ، جس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

عالمی برادری

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکہ نے رو ک دی جس پر برطانیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ فرانس نے طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ غزہ میں اسرائیلی فو جیو ں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیا۔سلامتی کونسل نے اسرائیل غزہ سرحد پر شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کامطالبہ کیا تھا ، گزشتہ روز جب اجلاس شروع ہوااور فلسطینی نمائندے نے جو نہی معاملہ پر بات کا آغاز کیا تو امریکی مندوب نکی ہیلی اجلاس سے یہ کہتے ہوئے کر چلی گئیں کہ امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کوخطے میں بد امنی کی وجہ قرار نہ دیا جائے ، جبکہ برطانوی نمائندے کا کہنا تھا ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں نہتے فلسطینیوں کی شہادت نے دل دہلا کر رکھا دیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول