عوامی امنگوں کے برعکس فیصلے کسی کو ہضم نہیں ہونگے،حامد سعید کاظمی

عوامی امنگوں کے برعکس فیصلے کسی کو ہضم نہیں ہونگے،حامد سعید کاظمی

ملتان(سپیشل رپورٹر)سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں فرشتے کوئی نئی تقدیر لکھنے نہیں جا رہے، الیکشن کا شفاف ہونا مشکل ہے مگر عوامی امنگوں(بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

سے بالکل برعکس فیصلے کسی کو بھی ہضم نہیں ہوں گے۔ اربن علاقوں میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے جبکہ امیدواروں کی بھر مار ہونے کے باعث پی ٹی آئی کا ووٹ بنک تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ آئندہ دو مہینوں میں ملکی سیاست واضح ہو گی۔ نظام مصطفیٰ محاذ کی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے بات چیت چل رہی ہے، اگر پیپلز پارٹی سے اتحاد نہ ہوا تو اپنی سیٹ کی خاطر محاز کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اہل سنت پنجاب کے ناظم اعلیٰ علامہ محمد فاروق خان سعیدی، ڈاکٹر صدیق خان قادری اور احمد اقبال سعیدی بھی موجود تھے۔ سید حامد سعید کاظمی کا مزید کہنا تھا کہ مخدوم احمد محمود کا یہ کہنا کہ این اے 175 سے قطب فرید کوریجہ امیدوار ہیں یا پھر وہ شخص امیدوار ہو گا جس کو وہ چاہیں گے، مجھ جیسے شخص کے لئے یہ بیان غیر متوقع ہے، ایسا لگتا ہے جیسے مخدوم صاحب پیپلز پارٹی کا مجھ سے پیچھا چھڑانا چاہ رہے ہیں، ہم بھی خوامخواہ چپکنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نے مجھے جس طرح عزت دی اور محبت کا اظہار کیا ساری دنیا اس کی گواہ ہے، اس کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے ان سے پوچھنا پڑے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کیونکہ زرداری صاحب بلیک اینڈ وائیٹ میں مجھے اور یوسف رضا گیلانی کو کہہ چکے ہیں کہ مخدوم احمد محمود کو کہہ دیں کہ این اے 175 سے حامد سعید کاظمی ہمارے امیدوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور ایم ایم اے مجھ سے رابطے میں ہیں مگر روز روز پارٹیاں بدلنا ہمارا شیوا نہیں ہے، مخدوم احمد محمود کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں تو پھر میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے امیدوار میں اتروں گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت مجھے کیسز سے بری کر چکی ہے، جن مراحل سے میں گزرااس کے بعد میرے لئے ضروری ہے کہ میں عوام کی عدالت سے سرخرو ہو کر آؤں۔ میرے لئے ایک مجبوری ہے کہ میں عوام کی عدالت میں جاؤں اور ان سے پوچھوں کہ وہ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں تاکہ میں اپنے ضمیر کے آگے مطمئن ہو سکوں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ، این اے 175 لیاقت پور کی سیاست الجھی ہوئی ہے، وہاں ن لیگ کے پاس امیدوار نہیں ہے، ن لیگ کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی اور ایم ایم اے بھی رابطے میں ہے، ہر آپشن موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کو نظام مصطفیٰ متحدہ محاز میں شمولیت کی دعوت دی ہے لیکن ابھی تک ہمیں ان کے ایجنڈے اور عزائم کی خبر نہیں ہیکہ وہ چاہتے کیا ہیں اور ہماری آفر کا ابھی تک کوئی جواب بھی نہیں آیا۔ تحریک لبیک والے جن امیدوار وں سے رابطے میں ہیں ان میں سے 80 فیصد ہمارے مرید اور شاگرد ہیں۔ اس لئے تحریک ہم سے پنگا نہیں لے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...