محکمہ ایکسائزشعبہ پراپرٹی کے انسپکٹرز’’کمائی‘‘کے لالچ میں اندھے ہوگئے

محکمہ ایکسائزشعبہ پراپرٹی کے انسپکٹرز’’کمائی‘‘کے لالچ میں اندھے ہوگئے

ملتان(کرائم رپورٹر) محکمہ ایکسائزٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ملتان کے انسپکٹروں نے پراپرٹی ٹیکس نادھندگان کو جاری نوٹس کی مد میں نت نئے تجربوں سے پھنسا کر لاکھوں روپے ہتھیانے کا نیاطریقہ ایجاد کر لیاہے۔جسکی منتھلی اوپر سے لیکر نچلے عملے تک تقسیم کرنے کا بھی انکشاف ہوا (بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

ہے۔جبکہ منہ مانگی رقم نہ ملنے پر شہریوں کو ٹیکنیکل باتوں میں الجھا کر دھکے کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن دفتر کے شعبہ پراپرٹی کے انسپکٹرز کمائی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں۔کہ انکو غریب کی غربت تک نظر نہیں ارہی ہے۔تمام تر توجہ اجکل صرف کمانے پر دی ہوئی ہے۔کیونکہ مالی سال 2017.18 کا اختتام بھی ہونے کے قریب ہے۔اور محکمہ کا مقررکردہ ہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جیبیں بھی گرم کر رہے ہیں۔ یہاں ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملتان کے دونوں زونز کے پراپرٹی ٹیکس میں تعینات ایکسائز انسپکٹرز نے پراپرٹی ٹیکس نادھندگان کو اجکل کمپیوٹرائزڈ نوٹس دینے کی بجائے مینول (ہاتھ سے لکھا) نوٹس دے رہے ہیں۔حالانکہ حکومت اور محکمہ کی طرف سے مینول نوٹس جاری کرنے پر پابندی عائد ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ انسپکٹرز پیسے کمانے کی لالچ میں اکر مینول پراپرٹی ٹیکس نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ اس مینول نوٹس میں جان بوجھ کر جائیداد کے ٹیکس بارے میں ابتدائی اسیسمنٹ میں لاکھوں روپے ظاہر کئییجاتے ہیں۔اور جیسے ہی یہ نوٹس سائل کو وصول ہوتا ہے۔تو وہ نوٹس پر درج لاکھوں دیکھ کر چکرا کر رہا جاتا ہے۔اور متعلقہ وارڈ کے انسپکٹر سے وہ فوری طور پر رابط کرتا ہے اور پھر ٹیکس کم کرانے کی مد میں ہزاروں روپے بطور رشوت دے کر اپنی جان چھڑاتا ہے۔ویسے تو ہر پراپرٹی ٹیکس کے انسپکٹر نے اپنا ایک کانسٹیبل رکھا ہوا ہے۔جو کارخاص کے طور پر ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے۔اور متعلقہ علاقے سے منتھلی اکٹھی کرکے اپنے انسپکٹر کو دیتا ہے۔اور پھر یہ منتھلی ملتان سمیت لاہور تک کے افسران تک ہر ماہ باقاعدگی سے پہنچائی جاتی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوٹس زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ جاری ہونے چاہیے۔اور رشوت کے گرم اس بازار کو بھی بند ہونا چاہئے۔ذرائع کا مزید یہ کہنا ہے کہ زمن نامی ایک کانسٹیبل ہے جو اس وقت منتھلی جمع کرنے میں سب سے باہر ہے۔پراپرٹی اور پروفیشنل ٹیکس نادھندگان سے ٹیکس نہ جمع کرانے کے عوض انسپکٹر کی ملی بھگت سے ماہانہ لاکھوں روپے کماتا ہے۔واضح رہے دفتر میں جو پراپرٹی ٹیکس نادھندہ اتا ہے۔اور جاتے ہوئے وہ اگر ایکسائز افسر کی مٹھی گرم نا کرے تو پھر اسکو یہ ایکسائز افیسر بری طرح ٹیکنیکل معاملات میں الجھا دیتے ہیں۔تاکہ وہ فتر کے چکر لگا لگا کر پاگل ہو جائے۔یا پھر خرچہ دے کر جائیاسی طرح کرکے ان انسپکٹروں نے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد و کوٹھیاں بنا لیں ہیں۔جبکہ اس بارے میں محکمہ ایکسائز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام نوٹس کمپیوٹرائزڈ جاری ہو رے ہیے۔مینول نوٹس کا رواج اب نہیں رہا۔پیسے لینے کی شکایت ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔شکایت انے کے بعد ذمیدار کا تعین کرکے سخت محکمانہ کاروئی عمل میں کائی جائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...