اپوزیشن جماتوں نے وزیر اعظم کی وضاحت مسترد کر دی،شدید احتجاج ا،ایوان سے واک آؤٹ

اپوزیشن جماتوں نے وزیر اعظم کی وضاحت مسترد کر دی،شدید احتجاج ا،ایوان سے واک ...

اسلام آباد سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) اپوزیشن نے میاں نوازشریف کے متنازعہ بیان پر وزیراعظم کی ایوان میں وضاحت کو مسترد کردیا۔ اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔وزیراعظم کے بیان کے فوری بعد پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، نوازشریف نے مسترد کیوں کیا؟اس پر وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کا اجلاس بلانا ضروری تھا، جس میں ملکی سلامتی کے معاملے پربات ہوئی۔پیپلزپارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ وزیراعظم نے پیٹ میں درد کی بات کی اس پر واک آوٹ کرتے ہیں۔اعجاز جاکھرانی کے بیان پر وزیراعظم نے کھڑے ہوکر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کہا کہ جس کے پیٹ میں درد ہے بات کرلے، روز روز کے تماشے مت لگائیں، ملک کو چلنے دیں۔پوزیشن ارکان نے وزیر اعظم کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے شیم شیم اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کہ نعرے لگائے بعد ازاں اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤ ٹ کیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نوازشریف نے جو کہا اس میں غلط کیا ہے،نوازشریف بتائیں اس بیان کی ضرورت کیا تھی؟۔انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیا نے نوازشریف کے انٹرویو کو اچھالا،نوبت یہاں تک پہنچی کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑا،نوازشریف نے یہ اعلامیہ مسترد کردیا،پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ نوازشریف کے بیان سے بھارت کے مؤقف کو تقویت مل رہی ہے،اس بیان پر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2دنوں سے نوازشریف کا متنازع بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے۔نواز شریف کا بیان افسوسناک ہے،فضل الرحمان سمیت سب اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کو بدنام کرنیکا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے،ان کے بیان سے ہم گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی جانب جارہے ہیں دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے مفادات پر حملہ آور ہوگئے‘ نواز شریف اپنی وجہ سے مشکلات میں پھنسے ہیں‘ نواز شریف سیدھا سیدھا اداروں پر الزام لگا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہیں تو وزیر اعظم کو عہدے سے فارغ کردیں، وزیر اعظم ہی اس کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور کمیٹی کا اعلامیہ ان کی منظوری سے ہی جاری ہوا ہے، نواز شریف کے بیان کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان پر نئی پابندیاں لگا سکتا،زیر اعظم سیاست اور پارٹی بازی سے ہٹ کر ریاست اور قوم کیلئے کام کریں۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہوش سے کام لیں تو اداروں کے مابین تناؤ نہیں ہوگا۔ نواز شریف کے بیان کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان پر نئی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی اگر ایک بات کرتی ہے اور نواز شریف کے بیان کو مسترد کرتی ہے ان کوسمجھناا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ملک اور نواز شریف کی بہتری اسی میں ہے کہ نواز شریف اپنا بیان واپس لے لیں۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی ریاست اور کچھ سیاستدان سمت سے ہٹ چکے ہیں۔اگر نواز شریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہیں تو وہ اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف بول رہے ہیں کیونکہ وزیر اعظم ہی اس کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور کمیٹی کا اعلامیہ ان کی منظوری سے ہی جاری ہوا ہے۔۔ نواز شریف کو اگر اپنے وزیر اعظم پر اعتماد نہیں تو ان کو عہدے سے فارغ کردیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ نواز شریف نے خود ہی اعتراف جرم کر لیا اور اپنی جماعت کی حکومت کو بھی چارج شیٹ کیا ہے ، جب نواز شریف خود اعتراف کریں کہ ملک تنہا ہو چکا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اگر دنیا میں تنہا ہے تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہیں، نواز شریف بتائیں انہوں نے چار سال تک وزیر خارجہ کیوں مقرر نہ کیا، ہمارے چیئرمن بلاول بھٹو زرداری مسلسل کہتے رہے کہ وزیر خارجہ لگائیں ہم دنیا میں تنہا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت ملکی معاملات چلانے کے بجائے شریف خاندان کی لوٹی دولت بچانے میں لگی ہوئی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی حکومت بھی پاکستان کے خلاف بیانیے کا حصہ ہے اور موجودہ حالات میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے صرف مذمت کافی نہیں، اس معاملے پر اجلاس دوبارہ بلایا جائے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ آنے والا ہے اور اس سے قبل نواز شریف عالمی طاقتوں کو اس معاملے میں ڈال کر اسے سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا معاملہ پس پشت چلا جائے۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ریاست سے زیادہ خود کو نواز شریف کا وفادار ثابت کرنے پر لگے ہیں، وزیراعظم اور شہباز شریف خود کو نواز شریف سے علیحدہ کریں۔فواد چوہدری نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے آج ڈان لیکس کی تصدیق کی اور ماضی میں بھارت کے ساتھ ان کی جو پالیسی رہی اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

اپوزیشن احتجاج

مزید : کراچی صفحہ اول