وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ، یہ نوازشریف کی نااہلی یا نیب کیخلاف نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔

وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم لانے کا ...
وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ، یہ نوازشریف کی نااہلی یا نیب کیخلاف نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا جس کے ذریعے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا، قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف آج 30ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔

جیونیوز کے مطابق حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی بدستور فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام پر ناراض ہے تاہم حکومت کو بل کی منظوری میں اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔گزشتہ سال 23 ستمبر کو حکومت نے پولیس کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھاتے ہوئے علاقے میں پولیس ایکٹ 1861 نافذ کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ایوان بالا نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور کیا تھا۔حکومت نے 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے معاملے پر قبائلی رواج بل 2017 کی جگہ نیا بل منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مزید : قومی