فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر428

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر428
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر428

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’آفاق‘‘ کا تذکرہ نکلا تو لامحالہ یہ سب باتیں یاد آگئیں۔حالانکہ مقصد ’’آفاق‘‘ کے پہلے مدیر پروفیسر محمد سرور کے بارے میں بتانا تھا۔

سرور صاحب ۵۲۔۱۹۵۱ء میں روزنامہ ’’آفاق‘‘ کے ایڈیٹر مقررہوئے تھے۔اس سے پہلے وہ جو کارنامے سر انجام دے چکے تھے ہم لوگ ان سے ناواقف تھے۔یہ ہماری کم علمی سمجھ لیجئے یا سرور صاحب کی منکسر المزاجی۔وہ ذاتی تشہیرکے قابل نہ تھے۔بلکہ اس زمانے کے وضع داری کے تقاضوں کے مطابق اسے براجانتے تھے۔سرور صاحب کے ایک بھانجے صدیق صاحب بھی’’ آفاق‘‘کے عملے میں شامل تھے مگر شعبہ ادارت سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔رفتہ رفتہ جب ہمارے صدیق صاحب سے مراسم بڑھے اور سرور سصاحب کے بارے میں مختلف حوالوں سے معلومات حاصل ہوئیں تب جاکر ہمیں معلوم ہو اکہ وہ کتنی ثقہ اور بھاری بھرکم شخصیت تھے۔انہوں نے کبھی اپنے لباس یا طرز گفتگو سے خودکو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔دیکھنے میں وہ بہت سادہ لگتے تھے۔گرمیوں میں پتلون قمیص اور سردیوں میں پتلون کوٹ ان کا لباس تھا۔ٹائی پابندی سے نہیں لگاتے تھے۔کبھی کھلے پائنوں کا پاجامہ اور شیروانی بھی زیب تن فرماتے تھے۔کبھی جاڑوں میں قراقلی ٹوپی پہناکرتے تھے۔سرور صاحب اس وقت بھی قریب قریب فارغ البال ہو چکے تھے۔ان کے تمام بال قریباً سفید ہو چکے تھے۔کلین شیو تھے۔یعنی داڑھی مونچھوں سے آزاد،سرخ وسفید رنگت،درمیانہ قد بول چال میں متانت اور علمیت۔گفتگو کے دوران میں وہ کبھی کبھی ہکلاتے بھی تھے مگر بہت کم۔ان کی یہ ہکلاہٹ کبھی مسئلہ نہیں بنی۔وہ روانی سے اپنا ماضی الضمیر بیان کر دیتے تھے اس لئے ان کا کبھی کبھی ہکلانا سننے والوں کو محسوس نہیں ہوتاتھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر427 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم صحافت میں بالکل نووارد تھے۔اس وقت تک میل جول بھی زیادہ نہ ہوا تھا۔اس لئے پروفیسر سرور جب مدیر ہوئے تو ہم ان کے بارے میں واقعی کچھ نہیں جانتے تھے سوائے اس کے کہ وہ جامعہ ملیہ دہلی سے فارغ التحصیل ہیں۔عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ کے مداح ہیں اور ان دونوں ہستیوں کے بارے میں بہت معرکے کی کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔یہ حقیقت ہم پر منکشف ہوئی۔

سرور صاحب عملے کے ہر شخص سے بے تکفی سے گفتگو کرتے تھے۔اس لئے ان کا وہ رعب نہیں تھا جو ایک ایڈیٹر کا ہو نا چاہئے تھا۔جب وہ کسی کو طلب کرتے تو بڑی نرمی اور شفقت سے اس کی غلطی کی نشاندہی کرنے کے بعد ضروری ہدایات دیتے تھے۔بیٹھنے کی عزت بھی بخش دیتے تھے اور چائے سے بھی تواضع کر دیا کرتے تھے۔اپنی گفتگو میں انہوں نے کئی بار مصر اور قاہرہ کا تذکرہ کیا تھا مگر سر سری سا۔ایک بار انہوں نے اپنے سوٹ کے بارے میں بتایاکہ انہوں نے قاہرہ میں خریدا تھا۔اس کی قیمت انہوں نے پاؤنڈ زمیں بتائی تھی جو ہمارے خیال میں بہت زیادہ تھی۔مگر انہوں نے خود ہی وضاحت کر دی کہ وہ مصری پاؤنڈ کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ جو برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں کافی سستاتھا۔

جب سرورصاحب کے بارے میں ہمیں تفصیل سے معلومات حاصل ہوئیں۔اسی وقت ’’آفاق‘‘ کا پہلا دورختم ہوچکا تھا۔دوسری بار یہ اخبار نئے انتظام او ر نئے مدیر (مولانا غلام رسول مہر) کے تحت نکلا تھامگر میر نور احمد صاحب دونوں بار اس کے منیجنگ ایڈیٹر تھے۔جب سرور صاحب کی قدروقیمت کھلی تو ہم سے جدا ہو چکے تھے۔اس بات کا ہمیں دکھ اور شرمندگی رہے گی کہ کاش ہم سرور صاحب کی شخصیت اور حقیقت سے پہلے واقف ہو گئے ہوتے تو ہمارا طرزِ عمل ان کے ساتھ مختلف ہوتا اور ہم ان کی صحبت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

سرور صاحب کی سادگی اور انکسار کا یہ عالم تھاکہ جب تک وہ اداریہ لکھ کر دفترسے نہیں چلے جاتے تھے تو ہمارے یا جن صاحب کے سپردپروف ریڈنگ کی ذمے داری کرتے تھے انہیں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ اگر کہیں اداریے میں کوئی غلطی ہو تو درست کر دیجئے گا۔

’’آفاق‘‘ میں عبدالرشید خوش نویس کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ان کا طرزتحریر دوسروں سے مختلف تھا۔خود بھی صاحب مطالعہ تھے۔اس وقت جوان ہی تھے۔(میاں محمد شفیق) کی ڈائری اور اخبارت کے اداریے کی کتابت ان کے سپرد تھی۔انہیں شفیق صاحب اور سرور صاحب دونوں کی طرف سے اجازت حاصل تھی کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہو تو اسے خود درست کر دیں۔کئی بار ان دونوں حضرات کی غیر حاضری میں وہ ہمارے پاس آجاتے اورکہتے ’’آفاقی۔(وہ بے تکلفی میں ہمیں صاحب کہنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تھے۔ویسے بھی وہ ہم سے عمر میں بڑے تھے اور ان سے اکثر ہنسی مذاق بھی کرتے تھے) یہ دیکھو۔شاید جلدی میں لفظ غلط استعمال کردیا ہے۔اسے یوں ہونا چاہیے۔‘‘

ہم کسی فتنے سے بچنے کیلئے کہہ دیتے تھے کہ خود ہی اصلاح کرلیں۔انہیں دونوں حضرات کی طرف سے اجازت مل چکی تھی کئی بار ہماری رائے معلوم کرنے کیلئے بہت زیادہ اصرار کرتے تو ہم نے انہیں غلط بتادیا جس پر اگلے دن ان سے جواب طلبی ہوئی۔ان کی یہ خوبی دیکھیئے کہ ذمہ داری ہم پر عائد کرنے کے بجائے خود قبول کر لی لیکن کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ سرور صاحب جیسا جید عالم اپنے اداریے کی اصلاح کیلئے خوش نویس کو یا ہمیں اجازت مرحمت کر دیا کرتا تھا۔یہ ان کی اعلیٰ ظرفی اور احساس کمتری سے قعطی آزاد ہونے کو ثبوت تھا۔

پروفیسر سرور کا تعلق تو کشمیر سے تھا لیکن ان کے آباؤ اجداد ڈوگرہ حکومت کے خلاف احتجاج اور بغاوت کے بعدچلے آئے تھے۔سرور صاحب کے برطانوی فوج میں ملازم تھے۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہوں ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں انہوں نے زمیں داری شروع کر کے یہیں رہائش اختیارکر لی تھی۔سرور صاحب اسی قصبے میں پیداہوئے تھے۔انہوں نے میٹر ک تک تعلیم گجرات میں حاصل کی تھی ۔گویا ہر لحاظ سے پنجابی تھے مگر ہم نے اپنی زبان سے ایک بار بھی پنجابی کا لفظ نہیں سنا ۔وہ اس قدر شستہ اور شائستہ اردو بولتے اورلکھتے تھے کہ کیا کوئی اہل زبان بھی لکھے گا یابولے گا۔

گجرات میں انہیں مولانا نصراللہ خاں عزیز جیسے استادسے پڑھنے کاموقع ملا یہ مسلم ہائی اسکول تھاجو سید عطا اللہ بخاری نے قائم کیا تھا۔یہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ اپنے ذہنی اور طبعی رجحان کے تحت جامعہ ملیہ اسلامیہ چلے گئے ۔اس وقت جامعہ علی گڑھ میں تھی مگر بعدمیں دہلی منتقل ہو گئی تھی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بانی مولانامحمد علی جواہر تھے۔اس کا سنگ بنیاد شیخ الہند مولانا محمودالحسن نے رکھا تھا۔اس زمانے میں مسلم ہائی اسکول اور جامعیہ ملیہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو حکومت کا باغی تصور کیا جاتا تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے جید علما کے زیر سایہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود سرور صاحب ذہنی طور پر آزاد خیال تھے اور کٹر ملائیت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنے خیالات کا آزادی اور بے باکی سے اظہار کرنے میں بالکل ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔

سرور صاحب نے جامعہ ملیہ سے ادب میں بی اے آنرز کیا اور مزید تعلیم کیلئے جامعہ الازہر قاہرہ میں داخلہ لے لیا۔اس طرح سرور صاحب کی دینی پرورش عربی ماحول میں ہوئی۔انہوں نے مصر کے بڑے مامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے انہیں اپنے اخبار میں’’زمیں دار‘‘ میں اداریہ نویس کے طور پر ملازم رکھ لیامگر یہ ملازمت زیادہ عرصے تک نہیں کرسکے کیونکہ جامع ملیہ دہلی کے چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور تاریخ ادب ،عربی کا پروفیسر مقر ر کیا۔ڈاکٹر ذاکر حسین وہی ہستی ہیں جو بعدمیں بھارت کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ان ہی دنوں ایک اور واقعہ پیش آیا ۔سید ہاشمی فرید آبادی جنہوں نے علمی شعبے کے علاوہ مورخ کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے وہ حجازسے واپس آئے تو انہوں نے مولانا عبیداللہ سندھی کا پیغام پروفیسر سرور کو پہنچایا کہ وہ کسی ایک شخص کے منتظر ہیں جو ان کے پاس حجاز مقدس چلاجائے تو وہ اس کو اپنا علم منتقل کر دیں۔مولانا سندھی کا یہ کمال تھا کہ خدا جانے انہیں ہندوستان واپس چلے جانے کی مہلت ملے یانہ ملے اس لئے ان کا علم تومنتقل ہو جائے۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ سید ہاشمی فرید و تالیف میں ساری عمر مصروف رہے۔انجمن ترقی اردومیں ڈاکٹر عبدالحق کے ساتھ بھی کام کیا اور ریاست حیدر آباد کے دارالترجمہ سے بھی وابستہ رہے۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان کی تاریخ بھی تصنیف کی تھی افسوس کہ یہ کتاب ناقدری کی نذر ہو گئی ۔نصاب کتب مافیا کی مہر بانی سے یہ کتاب بالائے طاق رکھ دی گئی۔حالانکہ یہ پاکستان کی ایک مستند تاریخ ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر429 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ