شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 9

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 9
شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 9

  

میرے گزشتہ پاکستان کے دورے کے موقعے پر ابو خورشید حقانی صاحب کے ایک دوست مرزا صاحب مجھے اپنے ہڑیال کے شکار کا قصہ سنا رہے تھے ..... اور بیان کیا کہ وہ جہلم کے کسی علاقے میں شکار پر گئے اور کسی مقامی زمیندار کے مہمان ہوئے ..... اسی زمیندار نے ان کو مدعو کیا تھا ..... اتفاق سے اسی روز اس علاقے میں پولیس وارد ہوئی ..... مرزا صاحب نے فرمایا کہ زمیندار بہت برا فروختہ ہوا کہ اس کے علاقے میں پولیس کو داخل ہونے کی جرات کیسے ہوئی ..... اور یہ کہ پولیس کی کیا مجال کہ کسی کو اس کے علاقے میں شکار سے روک سکے ..... ! امریکہ میں تو ملک کے صدر کو بھی ایسی بات کرنے کی جرات نہیں ہوسکتی ..... !

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب عام زمیندار کا یہ حال ہو کہ اس کے علاقے میں پولیس کی ورود جرات نہیں تو شکار کی حفاظت کے قوانین کون نافذ کر سکتا ہے..... اور جانوروں کی حفاظت اور بقا کیسے ممکن ہے ..... اسی لیے پاکستان میں شکار کے قابل جانور بتدریج ختم ہوتے جا رہے ہیں..... حقانی صاحب کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا کہ اب ہڑیال تو جہلم میں بمشکل ہی نظر آتے ہیں ..... اللہ جانے !

میں جس زمانے میں پاکستان میں تھا اور پاکستان ایک ہی صوبہ ہوا کرتا تھا ان دنوں ..... نیاز محمد خان صاحب گیم وارڈن ہوتے تھے انھوں نے شکاریات پر نہایت مناسب سختی کر رکھی تھی لیکن وہ بھی رشوت خوری اور خود غرضی سے روک نہیں سکے تھے ..... دراصل جب تک خود گیم واچر میں میں دیانت اور کام کی عبادت سمجھنے کے جذبہ نہ ہوتب تک شکار کی نگرانی ممکن نہیں..... !

خود سیکریٹری محکمہ زراعت ..... اس زمانے میں جبکہ تیتر کا شکار بند ہوتا تھا ..... نیاز محمد خاں سے تیتر مہیا کرنے کا تقاضا کرتے تھے اور نیاز صاحب اپنے اسٹنٹ رحیم صاحب کو دباتے وہ گیم واچرز کو دباتے اور وہ غریب تیتر پکڑ پکڑ کر ان کو پہنچاتا اور نیاز صاحب پنجرے اٹھائے سکریٹری صاحب کو سلام کرتے ..... اور سکریٹری صاحب نہایت مسرت کے ساتھ حرام خوری کی تبلیغ فرماتے ..... نیاز محمد خاں جو خود نہایت متقی اور پرہیز گار شخص تھے ..... ان تیتروں میں سے دو ایک خود کھالینے سے تقویٰ متاثر تھوڑی ہوتا تھا ..... ایسی حالت میں کہ سکریٹری زراعت ..... جو محکمہ شکار کے سربراہ بھی تھے ..... خود نمازی ہی ہوں گے ..... ہر مسلمان نام کے شخص کے بارے میں یہی حسن ظن رکھنا چاہیے کہ وہ صاحب ایمان نمازی ہوگا ..... ان سکریٹری زراعت کو حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے FAO کو مستعار دیے دیا تھا ..... اور کچھ عرصہ یہ صاحب تہران میں بھی معین رہے ..... نمازی ہی تھے ..... تیتر کھا کھا کر نماز پڑھنا بڑا خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے ..... اور اگر تیتر مفت ہاتھ آئیں تو برا کیا ہے ..... !

پاکستان میں شاید ہی کسی کو احساس ہو کہ جنگلی جانور ملک کی بیش بہا دولت ہیں ..... ! اور ان کی حفاظت اور بقا کس قدر اہم ہے.....!

کئی سال گزرے کہ ایک بار میں پاکستان گیااور لاہور میں جابجا ایک نہایت مضحکہ خیز اشتہار لگا دیکھا ..... اس پر لکھا تھا ..... خدا کے لیے پاڑے پر رحم کیجئے اور اس کو نہ ماریئے ..... مجھے بتایا گیاتھا کہ لوگ سور مارنے کے بہانے سے جہاں پاڑا پایا جاتا ہے وہاں سور مارنے کے ارادے سے آتے ہیں ..... سور کا مارنا بہت اچھا اور ضروری ہے ..... لیکن سور کے بجائے پاڑے مارنے کا کام کرنے لگتے ہیں ..... اور پاڑے بھی اسی قدر جیسے اس کا نام نشان مٹانے کے درپئے ہوں ..... 

غالباً ..... پاکستانی بندوقچی اب تک پاڑے کو نیست و نابود کر چکے ہوں گے ..... !

شکار ..... شاہ کار ہے ..... !

شکار ..... شاہانہ کام ہے ..... بشرطیکہ اس کو شرافت ‘ تہذیب ‘ عقلمندی اور وقار کے ساتھ انجام دیا جائے ..... قصابوں اور تباہ کاروں کا شکار میں کوئی کام نہیں ..... 

ایک زمانے میں بھوپال میں شکار کی کثرت کا یہ دور تھا کہ لوگ شادی بیاہ کی تقریب میں گوشت خریدنے کے بجائے بارہ ہرن مار لاتے تھے اور ان کا گوشت ضیافت میں استعمال ہوتا تھا ..... تاآنیکہ خود نواب حمیداللہ خاں نے شکار پر پابندی عائد کی اور اختر علی خاں جب چیف کنزرویٹر آف فارسٹ مقرر ہوئے تو انھوں نے اس طریقے کی اصلاح جس قدر ممکن تھی کی مگر کاملاً روک نہیں سکے ..... اس وقت نہ تو حمیداللہ خاں کو یہ خیال آیا نہ اختر خاں کو کہ بھوپال کے جنگلات میں جو بیش بہاخزانہ حیات حیوان کی شکل میں موجود ہے اس بقا کے لیے کوشش کریں ..... تاکہ وہ لاتعداد شیر جو بھوپال کے ہر علاقے میں بکثرت تھے بے شمار چیتے ..... سیکڑوں سیاہ ریچھ ..... ہزاروں سانبھر ‘ بارہ سنگھے‘ چیتل ‘ ہرن ‘ چکارے وغیرہ سب اس طرح قائم رہ سکیں جس طرح وہ اس دور میں ہوا کرتے ہیں ..... لیکن ایسا نہیں ہوا ..... !

حیدر آباد دکن میں بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا ..... حیدرآباد ..... ہندوستان کی سب سے بڑی اور نہ صرف اس برصغیر کی متمول ترین ریاست تھی بلکہ دنیا کی دولتمند ترین رہاستوں میں سے ایک تھی ..... اور ۳۵۔ ۱۹۳۰ء میں بھی سارے برطانوی ہند کے ہر علاقے سے زیادہ پیشرفتہ و ترقی یافتہ ریاست تھی ..... شکار کی جو کثرت حیدر آباد دکن میں تھی اس کا مقابلہ افریقہ کے علاقوں کے سوا اور کہیں ممکن نہیں تھا..... شیروں کی تعداد کا یہ عالم تھا کہ صرف آصف آباد کے جنگلوں میں تقریباً دس بارہ میل کے فاصلے پر دو ایک شیر رہتے تھے ..... میں کہہ سکتا ہوں کہ تناسب کے تحت صرف آصف آباد میں کم از کم ڈھائی سو شیر ہونے چاہیے ..... اور اگر اسی حساب سے میں دکن کا تخمینہ کروں تو ممکن ہے ..... تقریباً تین ہزار شیر ہوں ..... کم و بیش ..... اس طرح بھوپال اور دکن میں ہی پانچ ہزار شیر ہوئے ..... 

برصغیر کی حیات حیوانی کو ..... خصوصاً شیر چیتے اور ریچھ ..... سب سے زیادہ نقصان برطانوی شکاریوں نے پہنچایا ہے ان لوگوں کو ہندوستان کی دولت لوٹنے غارت گری کرنے اور ملک کو تباہ کرنے کا فریضہ منصبی ادا کرنا تھا ..... ہر وہ انگریز جو ہندوستان جو ایسٹ ایڈیا کمپنی اور اس کے بعد حکومت انگلستان کے تحت متعین کیا جاتا اس نے خواہ تمام عمر کبھی رائفل نہ چلائی ہو ..... لیکن ہند آتے ہی وہ شیر کے شکار کی فکر سب سے پہلے کرتا تھا .....

ان غارتگروں کو ہر قسم کی سہولت میسر ہوتی تھی ..... ان دنوں انگریز آقا ہوا کرتا تھا ..... اس لیے ہر ہندی ان کا خادم ..... مقامی دیسی حکام انکے سامنے غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے ..... شیر اور دوسرے جانوروں کی یہ صاحت بہادران ہانکے سے شکار کرتے اور ان کو ہانکہ کرنے والے کسی خرچ یا دشواری کے بغیر لا تعداد میسر آجاتے ..... ہانکے میں جو جانور نکلتا اس کو صاحب بہادر ..... یا ہم صاحب ..... یا ان کے ساتھ ..... مار دیتے ..... میں نے ایک ایسی تصویر دیکھی جس میں ایک شخص نے صرف ایک شکار میں پانچ شیر..... دس بارہ چیتل ..... اتنے ہی سانبھر اور نجانے کتنے چھوٹے جانور شکار کیے ..... پاکستان میں وہی کام زمیندار ..... ان کی اولاد ..... اور بعض افسران بالا انجام دیتے رہے ہیں ..... گیم واچر پانچ روپیہ انعام لے کر خوش و خرم رہتا ہے ..... (جاری ہے )

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شکاری