جمہوریت کے نام پر طوفان بدتمیزی 

جمہوریت کے نام پر طوفان بدتمیزی 
جمہوریت کے نام پر طوفان بدتمیزی 

  

پاکستان کی سیاست میں میاں نواز شریف کی بدولت ایک عجیب سا ہُلڑ مچا ہوا ہے۔ وُہ اپنے آپ کو مقبول بنانے کے لئے ایسے بیانات داغ رہے ہیں جو کہ مُلکی مُفادت کے بالکُل متضاد ہیں۔ وُہ اپنی بریت ثابت کرنے کے لئے عدالتوں میں منی ٹریل پیش کرنے کی بجائے ایسے الزامات لگا رہے ہیں جنکی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ فوج، عدالتوں اور دوسرے اداروں کو بد نام کرنے لئے اُن پر رکیک حملے کررہے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر ایک طوفانِ بد تمیزی مچایا جا رہا ہے۔ اور کوئی بھی اُنکو نکیل ڈالنے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا۔ لے دے کر صرف عمران خان اور زرداری صاحب ہی اُنکے الزامات کا جواب دے رہے ہیں۔ فوج ایک دم چُپ سادھے بیٹھی ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ فوج قانون اور آئین کے مُطابق اپنے فرا ئض ادا کرنے پر م مجبور ہے لیکن فوج کو اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات کا جواب بھی دینا چاہئے۔ تاکہ عوام کے ذہنوں میں فوج کے بارے میں بد گمانی پیدا نہ ہو۔خا موش رہنے سے یہ تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے کی نواز شریف واقعی ہی درُست کہہ رہے ہیں۔

نواز شریف کے موجودہ بیان سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ نواز شریف فوج کو مشتعل کرکے اپنا الو سیدھا کرنے چاہتے ہیں تاکہ اُن کو عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل ہو جائے۔ وُہ عدالتوں کے فیصلوں کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ وُہ عوام کو یہ تا ثر دے سکیں کہ عدالتی فیصلے انصاف پر مبنی نہیں تھے بلکہ عد التوں نے فوج کے دباؤ کی وجہ سے ایسے فیصلے دئے ہیں۔ 

در اصل وُہ کرپشن کے الزامات سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے ایک نیا شو شہ چھوڑ دیا ہے۔ اس، طرح وُہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ وُہ بھارت اور بین الااقومی ممالک کو یہ تا ثر دینا چاہتے ہیں کہ وُہ در اصل کرپشن میں ملوث نہیں ہیں بلکہ فوج اُن کو عدالتوں سے سزا دلا رہی تاکہ اُنکی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے کیونکہ وُہ فوج کے ایسے کاموں کے مخالف ہیں جن سے دہشت گردی کو فر وغ ملتاہے۔سادہ الفاظ میں وُہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فوج مُلک میں من مانی کرتی ہے۔ اور کوئی بھی حکومت آزادانہ انداز میں امور حکومت نہیں چلا سکتیَ۔

اگر مان بھی لیا جائے کہ میاں صاحب جو فرما رہے ہیں وُہ درُست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وُہ خود بر سرِ اقتدار تھے انہوں نے یہ سوال کیوں نہیں اُٹھایا؟ اب ایسے سوالات کو اٹھانے سے کیا حاصل؟ در اصل میاں صاحب ایسے سوالات اٹھا کر ایسی دُھول اُڑانا چاہتے ہیں جس میں اُنکی عمر بھر کی کرپشن چھُپ جائے۔ لیکن وُہ اپنے ذات مُفاد کی خاطر مُلک کی فوج ، عدلیہ اور دوسرے اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔ پہلے سے بٹے ہوئے معاشرے کو فکری طور مزید تقیسم کر رہے ہیں۔ جس سے اتفاق کی بجائے نفاق کو ہوا ملے گی۔ جو کہ قوم کے مُفاد میں ہر گز نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کو وُہ اپنی نا اہلی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور انتقام کی آگ میں جھُلس رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی ہی پارٹی اور حکومت کے لئے ایسی مُشکلات پیدا کر دی ہیں جنکا ازالہ کرنا دریں حالات میں کافی مُشکل ہوگا۔ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی میاں نواز شریف کے بیان کے اثر کو مٹانے کے لئے یہ صفائی پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اُنکے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے جبکہ میاں نواز شریف اپنے بیان کی صداقت پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اُن کے نزدیک اُنکی ذات کے علاوہ کوئی اہم نہیں ہے۔ وُہ اپنی نا اہلی کا بدلہ انوکھے انداز میں قوم و مُلک سے لینے میں مصروف ہیں لیکن اُن کے الزامات پاکستان کے لئے نئی مُشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ فوج اور حکومت کو اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کے لئے خاصی محنت کرنی پڑے گی۔ اور عین ممکن ہے کہ پاکستان کو ان وجوہات کی بنیاد پر دہشت گردمُلک قرار دے دیا جائے۔ہمیں ایسے سچ سے گریز کرنا چاہئے جو ہمارے وطن کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دے۔ کیونکہ مُلک کی بقاء میں ہی ہم سب کی بقاء مضمر ہے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ