قائمہ کمیٹی نے چیئر مین نیب کی پیشی سے معذرت قبول کرتے ہوئے 22مئی کو دوبارہ طلب کر لیا

قائمہ کمیٹی نے چیئر مین نیب کی پیشی سے معذرت قبول کرتے ہوئے 22مئی کو دوبارہ ...
قائمہ کمیٹی نے چیئر مین نیب کی پیشی سے معذرت قبول کرتے ہوئے 22مئی کو دوبارہ طلب کر لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی پیشی سے معذرت قبول کرتے ہوئے انہیں 22مئی کو دوبارہ طلب کر لیا ہے ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق نیب آفس کی جانب سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین نیب نے آج کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی ہے۔ چیئرمین نیب کی جانب سے جواب دیا گیا ہے کہ کمیٹی میں پیش ہونے کا نوٹس آج صبح موصول ہوا، پہلے سے میٹنگز اور مصروفیات کا شیڈول طے تھا لہٰذا کمیٹی میں پیش ہونے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ذرائع کے مطابق پہلے کمیٹی نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی معذرت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کمیٹی کی جانب سے معذرت مسترد کیے جانے کے بعد نیب حکام نے چیئرمین نیب کی جانب سے حتمی طور پر آگاہ کیے جانے کا وقت مانگا اور بعد ازاں نیب کی جانب سے حتمی طور پر چیئرمین نیب کی آج پیشی سے معذرت کے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔نیب کی جانب سے چیئرمین نیب کی نمائندگی کے لیے دو افسران کمیٹی میں پیش ہوئے جنہوں نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جانب سے پیشی سے معذرت سے آگاہ کیا اور مہلت طلب کی۔قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے چیئرمین نیب کی معذرت قبول کرلی اور چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف نے ارکان سے اس حوالے سے رائے لینے کے بعد چیئرمین نیب کو پیشی کے لیے جمعے تک کا وقت دیا۔

کمیٹی کی جانب سے جمعے کو طلب کیے جانے پر نیب افسران نے کمیٹی سے درخواست کی کہ چیئرمین نیب کو جمعے کی بجائے آئندہ ہفتے میں طلب کیا جائے جس پر چوہدری اشرف نے ارکان سے پھر مشورہ کیا جس کے دوران بعض ارکان نے چیئرمین نیب کو منگل کے روز بلانے کا مشورہ دیا۔جس کے بعد چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی رانا حیات کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کو آج طلب کیا تھا۔چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر معاملے پر بریف کرنے اور اپنے ساتھ متعلقہ افسران کو لے کر آنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید : قومی