”نواز شریف کا پروگرام تھا کہ ایک بھارتی صحافی رائیونڈ آئے گا اور اسے۔۔۔“ سابق وزیراعظم بھارتی صحافی کو رائیونڈ بلا کر کیا انٹرویو دینا چاہتے تھے اور پھر بھارتی صحافی کو پاکستان آنے سے کس نے روکا؟ رﺅف کلاسرا نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

”نواز شریف کا پروگرام تھا کہ ایک بھارتی صحافی رائیونڈ آئے گا اور اسے۔۔۔“ ...
”نواز شریف کا پروگرام تھا کہ ایک بھارتی صحافی رائیونڈ آئے گا اور اسے۔۔۔“ سابق وزیراعظم بھارتی صحافی کو رائیونڈ بلا کر کیا انٹرویو دینا چاہتے تھے اور پھر بھارتی صحافی کو پاکستان آنے سے کس نے روکا؟ رﺅف کلاسرا نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف سینئر صحافی رﺅف کلاسرا نے کہا ہے کہ سرل المیڈا کو انٹرویو دینے سے پہلے نواز شریف کا منصوبہ تھا کہ وہ بھارتی صحافیوں کو رائیونڈ بلا کر بھارتی چینل کیلئے انٹرویو ریکارڈ کرواتے مگر کسی طرح ہمارے کچھ اداروں کو اس کی بھنک پڑ گئی اور انہوں نے بھارتی صحافیوں کے دورہ پاکستان کو روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ڈیلی پاکستان سب پر بازی لے گیا، پاکستان کے سب سے بڑے ”رن مرید“ کیلئے وہ اعلان کر دیا جو کوئی نہ کر سکا 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رﺅف کلاسرا نے کہا کہ ”میری اطلاعات یہ ہے کہ سرل المیڈا کو انٹرویو دینے سے پہلے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک بھارتی صحافی نے آنا تھا اور رائیونڈ میں بیٹھ کر انہوں نے یہی باتیں بھارتی ٹی وی کیلئے ریکارڈ کروانی تھیں۔ لیکن وہ کیوں نہیں آئے اور ان کے ویزے کیوں منسوخ کروا دئیے گئے، یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ میاں نواز شریف نے ابھی جو بم کو لات ماری ہے وہ نیوکلیئر بم کو لات مارنے والے تھے۔

انہوں نے بھارتی صحافیوں کو بلا کر رائیونڈ میں بیٹھ کر ناصرف ممبئی حملوں سے متعلق بات کرنی تھی بلکہ کارگل سے متعلق بھی بہت سی باتیں کرنی تھیں اور ان کے پاس ایک عدد فگر ہے کہ ہمارے کتنے فوجی شہید ہوئے تھے، یہ تین ہزار بتاتے تھے اور آپ کسی دن نواز شریف کے منہ سے بھی سن لیں گے۔

نواز شریف کے حامیوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ ہمارے کچھ اداروں کو بھارتی صحافیوں کے دورہ پاکستان کی بھنک پڑ گئی اور انہوں نے انہیں آنے سے روکا حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں نہ روکتا۔ جن لوگوں نے بھارتی صحافیوں کے دورے کو سبوتاژ کیا ہے انہیں یہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔

انہیں چاہئے تھا کہ بھارتی صحافیوں سے نواز شریف کو ملاقات کرنے دیتے اور ریکارڈنگ بھی کرنے دیتے تاکہ پوری قوم کو بھارتی چینل کے ذریعے خبریں ملتیں اور ہمارے چینل بھی وہیں سے خبریں اٹھا کر کہتے کہ نواز شریف پاکستان کے بارے میں پوری دنیا کو یہ راز بتا رہے ہیں۔

جو لوگ آج اس بات کا کریڈٹ لے رہے ہیں کہ انہوں نے بھارتی صحافیوں کے ویزے منسوخ کروا دئیے اور ملک کو بچا لیا ہے تو انہوں نے غیر ارادی طور پر میاں نواز شریف کی مدد کی ہے کیونکہ اگر ان میں تھوڑی سی بھی سیاسی سمجھ ہو ہوتی تو میاں صاحب کی ملاقات بھی ہونے دیتے اور پروگرام بھی ریکارڈ ہونے دیتے۔ “

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور