ہزاروں پاکستانیوں کے موبائل فونز کی جاسوسی کا انکشاف لیکن یہ کام کون اور کس مقصد کے لئے کررہا ہے؟ اب تک کی سب سے تہلکہ خیز خبر آگئی

ہزاروں پاکستانیوں کے موبائل فونز کی جاسوسی کا انکشاف لیکن یہ کام کون اور کس ...
ہزاروں پاکستانیوں کے موبائل فونز کی جاسوسی کا انکشاف لیکن یہ کام کون اور کس مقصد کے لئے کررہا ہے؟ اب تک کی سب سے تہلکہ خیز خبر آگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خفیہ ایجنسیاں اور سوشل میڈیا کمپنیاں تو صارفین کی جاسوسی کرتی ہی تھیں لیکن اب یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان سے کہیں بڑھ کر عام ہیکرز شہریوں کی جاسوسی کر رہے ہیں۔ جریدے ’فوربز‘ کا کہنا ہے کہ یہ ہیکرز ایسے جاسوسی سافٹ وئیر استعمال کر رہے ہیں جو بظاہر دیکھنے میں عام سافٹ وئیر جیسے نظر آتے ہیں اور اکثر اوقات صارفین کو علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ ان کے ڈیوائس پر موجود ہیں۔ پاکستان میں جاسوسی کے اس نیٹ ورک کے بارے میں سائبر سکیورٹی کمپنی لک آﺅٹ نے کچھ تحقیقات کی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایپل کے آئی فون ہوں یا اینڈرائیڈ ڈیوائسز، ہر طرح کے سمارٹ فون پر جاسوسی سافٹ وئیر انسٹال کر کے صارفین کی ذاتی نوعیت کی معلومات چرائی جا رہی ہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

سافٹ وئیر ڈویلپرز جاسوسی کے ایسے سافٹ ویئر بنارہے ہیں جو حکومتوں کو بھی بیچے جاتے ہیں اور عام ہیکرز بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ دی ون سپائی (TheOneSpy) نامی ایک ایسے ہی سافٹ وئیر کا پتا چلایا گیا ہے جو اتنا سادہ ہے کہ کو ئی بھی اسے استعمال کرتے ہوئے کسی کی بھی جاسوسی کرسکتا ہے۔ اس جاسوسی سافٹ وئیر کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا کہ انسانی حقوق کارکن دیپ سعیدہ کی جاسوسی کے لئے اس کا استعمال کیا گیا۔ وہ لاپتہ ہونے والے ایک انسانی حقوق کی بازیابی کے لئے مہم چلارہی تھیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کوئی ایجنسی ان کی جاسوسی کر رہی تھی۔

رواں سال کے آغاز میں امریکا میں بھی ’سٹیلتھ مینگو‘ اور ’ٹینگیلو‘ نامی جاسوسی سافٹ ویئر کا انکشاف سامنے آیا جس کے ذریعے عام شہریوں اور حتیٰ کہ امریکی فوجیوں تک کا 30 جی بی سے زائد کا ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔ ان سادہ اور آسانی سے دستیاب جاسوسی سافٹ ویئرز کے ذریعے ہیکر کسی بھی موبائل فون صارف کی کال ریکارڈ کرسکتے ہیں، اس کے ٹیکسٹ میسجز کا ڈیٹا اکٹھا کرسکتے ہیں اور حتیٰ کہ اس کے فون کے کیمرے کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تصاویر بھی بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری کمیونیکیشن، کال ریکارڈ، آڈیو ریکارڈنگ، ڈیوائس لوکیشن، ٹیکسٹ میسجز، ہتھیاروں کی تصاویر اور پاسپورٹ کی تصاویر بھی جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے چوری کی جا رہی ہیں۔ صارفین کا ڈیٹا افغانستان، بھارت، ایران، عراق، پاکستان اور اماراتی سفارتخانے سے چوری ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /سائنس اور ٹیکنالوجی /علاقائی /اسلام آباد